Daily Mashriq


قومی جمہوری اتحاد کے لیے ضابطہ اخلاق

قومی جمہوری اتحاد کے لیے ضابطہ اخلاق

جنرل مشرف کے مارشل لاء نافذ کرنے کے تقریباً ایک سال بعد، نومبر 2000 ء میں نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف جمہوری قوتوں کو ایک پیج پر اکٹھاکرنے اور ایک قومی جمہوری اتحاد تشکیل دینے کے ارادے سے سیاسی جماعتوں کا ایک اہم اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ اس اتحاد کی اولین ترجیح ایک ایسے ضابطہ اخلاق کو تشکیل دینا ہوگی جس پرعملدرآمدکو تمام سیاسی جماعتیں یقینی بنائیں گی۔ یہ ضابطہ ترتیب دینے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ میں نے اس کا پہلا مسودہ24نومبر 2000ء کو نوابزادہ نصراللہ کو پیش کر دیا البتہ اس کے اگلے ہی دن مسلم لیگ ق کے کارکنان نے مارگلہ روڈ اسلام آباد پر واقع مسلم لیگ سیکریڑیٹ پر زبردستی قبضہ کرلیااور اس مجوزہ اتحاد کا اجلاس دوبارہ کبھی نہ ہو پایا۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں اس سیاسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت پھر سے اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

پاکستان میں سیاست کو سب سے زیادہ نقصان عدم برداشت کے رویے اور اختلا ف رائے کااحترام نہ کرنے کے باعث ہوا۔ عدم برداشت کے اس رویے نے پاکستانی سیاست میں اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کے رشتوں کو خاصا کمزور کر دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ایک قابل عمل اور مؤثر لائحہ عمل پر متفق ہوں تاکہ ملک میں جمہوریت کا مستقبل مستحکم ہو سکے۔ ذیل میں اس ضابطہ اخلاق کے مسودہ کے وہ چیدہ چیدہ نکات ہیں جو میںنے نومبر 2000ء میں پیش کیے تھے اور جو آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

’’قومی جمہوری اتحاد میں شامل ہونے والی تمام جماعتیں ایک سیاسی ضابطہ حیات پر عمل پیرا ہونے کے لئے متفق ہوئیں ، ان نکات کا احاطہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔ووٹ کا تقدس: ووٹ کا تقدس جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اس معاہدے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کے نتائج کااحترام کریں گی اور انتخابات ہارنے والی جماعتیں جیتنے والوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں گی اور ان کی جیت کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جائے گا۔فاتح جماعت کے حکومت کرنے کی راہ میں رخنے نہیںڈالے جائیں گے۔ جبکہ حکومت بھی حزبِ اختلاف کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا جمہوری و آئینی کردار ادا کرنے کا پھرپور موقع فراہم کرے گی۔ تمام جماعتیں ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی خود مختاری اور آزادی کا تحفظ یقینی بنائیں گی۔

باہمی اتفاق اور اختلافِ رائے کا احترام: برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام بنیادی جمہوری اقدار میں سے ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں مختلف رائے رکھنے والی جمہوری قوتیں عوام کے ووٹوں سے ایک دوسرے کا آمنا سامنا کرتی ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ اختلاف آئینی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے۔ حکومت کرنا اور پالیسی بنانا اکثریتی جماعت کا حق ہے اور اسی طرح حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے ۔ البتہ دونوں کو اپنا یہ حق استعمال کرتے ہوئے برداشت کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ البتہ حکومت کو بھی اپوزیشن کی تنقید پر اسے انتقام کا نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے اور ان کے استحقاق کو مجروح کیے بغیر ان کے تمام حقوق و مراعات بلا تاخیر ادا کرنے چاہئیں۔

قانون کی بالادستی: جمہوری نظام میں حکومت آئین کے تحت وجود میں آتی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہر طرح کے حالات میں تمام سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی خود مختاری کا احترام اور حفاظت کریں اور حکومت معاشی اداروں کو ہر طرح کی سیاسی مداخلت سے دور رکھے اور میرٹ کی بالادستی کو ہر سطح پر یقینی بنائے ۔ آزادیِ حقِ رائے دہی: پوری دنیا میں معلومات کی ترسیل ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہے اور ایسے میں معلومات تک رسائی، اس کی شفاف انداز میں ترسیل اورحقِ اظہارِ رائے کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے اور تمام جماعتیں اس حق کے تحفظ کا عہد کرتی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ وہ بطور حکومت میڈیا پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگائے گی اورشفاف گورننس کے لیے معلومات کی بہتر ترسیل کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

قومی اتفاقِ رائے: گو کہ جمہوری نظام میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں مگر ریاست کی حیثیت مستقل اور مقدس ہوتی ہے۔ ریاست اپنے اداروں کا مجموعہ ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ریاستی اداروں کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی اور ساتھ ہی ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کا پاس کیا جائے گا ، قومی سطح کے مسائل باہمی اتفاق سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اپوزیشن کو بھی ملکی سطح کے مسائل ، خصوصاً خارجی امور، معیشت اور سکیورٹی مسائل پر مثبت انداز میں اپنا کرداد ادا کرنا ہوگا۔

اس اتحاد کا حصہ بننے والی تمام سیاسی جماعتیں اس معاہدے پر دستخط کر کے اس پر مکمل طور عمل درآمد کرنے کا عہد کرتی ہیں۔ وہ اس بات کا پختہ عہد کرتی ہیں کہ مستقبل میں وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میںوہ اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گی ۔ یہ اس بات کا بھی عز م ہے کہ اگر ہم اس اتحاد کاحصہ نہ رہیں یا یہ اتحاد مستقبل میں اپنا وجود قائم نہ رکھ پائے ، تب بھی اس ضابطہ اخلاق کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داری ہم ہمیشہ نبھاتے رہیں گے۔ ‘‘

(بشکریہ: ڈان ،ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں