Daily Mashriq

افغان مسئلہ اور اعتماد کی کمی کا مرض

افغان مسئلہ اور اعتماد کی کمی کا مرض

وزیر اعظم عمران خان نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈومور کہنے والے اب ہم سے مدد مانگ رہے ہیں ۔پاکستان نے ہی امریکہ اور طالبان کے درمیان براہ راست رابطہ کرایا ہے ۔عمران خان کی یہ بات خطے کے ایک طویل قضیے کے حل میں پاکستان کے مرکزی کردار کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔کیا عجب ہے کہ مدد طلب کرنا بھی ڈومور کی ہی ایک شکل ہو کیونکہ پاک امریکہ تعلقات میں ڈومور کا منترا اب اس قدر مستعمل ہو کر رہ گیا ہے کہ گویا دونوں کے درمیان اس کے سوا کہنے اور لینے دینے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا۔فرق صرف یہ ہے کہ اب بات کرنے کا انداز کچھ بدلا بدلا سا ہے ۔مطالبہ وہی ہے صرف اصطلاحات تبدیل ہوگئی ہیں۔ سترہ برس پر محیط افغا ن جنگ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان افغانستان کو حالات کی دلدل سے باہر نکالنے میں سب سے موثر بیرونی فریق ثابت ہو سکتا تھا اور یہ کام پاکستان کی اپنی قومی اور داخلی ضرورت بھی تھا کیونکہ ایک رستا ہوا زخم پڑوسی کی حیثیت میں پاکستان کے لئے بھی ضرررساں تھا ۔ امریکہ افغانستان کی اصل حقیقت سے نظریں چراکر مسئلے کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بناتا رہا ۔امریکہ کی خواہش رہی طالبان کابل کے حکومتی سیٹ اپ کو قبول کرکے اسی کے ساتھ مذاکرات کریں ۔طالبان کے لئے یہ مطالبہ ناقابل قبول رہا۔ اس طرح افغان مسئلہ الجھتا چلا گیا ۔امریکہ نے افغانستان میں ایک غیر متعلق کردار تخلیق کیا ۔یہ کردار بھارت تھا ۔بھارت کو افغان حکومت کا سرپرست اور معاون بنا دیا ۔پاکستان جو اس مسئلے کا اہم فریق اور متاثر ین میں شامل تھا ایک منظم حکمت عملی کے تحت غیر متعلق بنایا جاتا رہا ۔پاکستان کو اس ساری صورت حال میں ایک ولن اور بھارت کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا ۔یہاں تک کہ ایک بار پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے امریکی میگزین’’ ٹائم ‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا تھا کہ امریکہ افغان مسئلے پر ہر کسی سے بات کررہا ہے کبھی ہم سے بھی بات کرکے تو دیکھے ۔امریکہ اس وقت انا کے گھوڑے پر سوار تھا وہ پاکستان کو مسئلہ اور بھارت کو مسئلے کا حل سمجھ رہا تھا ۔بھارت کو افغانستان میں امن سے زیادہ اس بات سے دلچسپی تھی کہ کس طرح پاکستان کو مغربی سمت سے گھیرا جائے اور افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جائے ۔پاکستان طالبان پر ایک حد تک اثر رسوخ کاحامل تھا اور اس کیفیت میں پاکستان نے طالبان پر اثر رسوخ استعمال کرکے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان رابطہ کرانے میں پاکستان کے جس کردار کا ذکر وزیر اعظم عمران خان نے کیا ہے وہ جہاں پاکستان کی قدر واہمیت کو ظاہر کرتا ہے وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ’’ مڈل مین‘‘ کے اس کردار کے بدلے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا ۔ماضی میں پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کرچکا ہے ۔اب امریکہ کی پھنسی ہوئی گردن کو چھڑانے کے لئے پاکستان نے امریکہ کا طالبان سے براہ راست رابطہ کراکے ایک بار پھر وہی کردار ادا کیا ہے ۔امریکہ کے لئے یہ ایک معمولی بات نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس مہربانی کے بدلے امریکہ اپنی پاکستان پالیسی میں کوئی تبدیلی پیدا کرتا ہے یا طالبان کے ساتھ معاملات طے کرکے پاکستان کے خلاف اپنا روایتی معاندانہ رویہ جاری رکھتا ہے ۔دوسری طرف چین اسلام آباد اور کابل کو قریب لانے کے لئے ایک الگ مشق جاری رکھے ہوئے ہے جس کا ایک مرحلہ تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی کابل میں ملاقات تھی ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک وفد کے ہمراہ سہ فریقی مذاکرات میں حصہ لینے کے لیئے کابل پہنچے ۔امریکہ جس افغانستان کو چھوڑ کرجانا چاہتا ہے وہاں دو دہائیوں سے بدترین قسم کی پاکستان مخالف فضاء بنادی گئی ۔پاکستان کلی طور پر طالبان سے بریکٹ ہو کر رہ گیا ہے اور طالبان مخالف کابل کا حکومتی نظام پاکستان کو ایک دشمن کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے ۔دنیا طالبان کو نہیں کابل میںقائم حکومت کو تسلیم کرتی ہے ،فیصلہ سازی پر اسی کا اختیار ہے ،عالمی اور علاقائی معاہدات کا حق اسی کو حاصل ہے ۔اس طرح سو خامیوںاور کمزوریوں کے باوجود افغانستان کا حکمران وہی کہلاتا ہے جو کابل کے سرکاری ایوانوں میں براجمان ہوتا ہے ۔ خود مغربی طاقتوں کو ملاعمر کے اقتدار کی صورت میں اس ناپسندیدہ صورت حال سے نباہ کرنا پڑا ہے ۔طالبان جس قدر منظم اور بڑی فورس ہوں مگر وہ ایک ملیشیا ہی ہیں۔ایسے میں کابل حکومت میں پاکستان کے لئے خیر سگالی کے ہلکے سے جذبات پیدا ہونا بھی مشکل ہے جب تک طالبان اور افغان حکومت دو انتہائوں پر کھڑے رہیں گے ۔ افغان مسئلے کی ایک جہت دونوں ملکوں کے درمیان یہ بداعتمادی اور مخاصمت ہے ۔چین اس بداعتمادی کو بدلنے کو مسئلے کے دائمی حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ اعتماد سازی کی ایک کمزور سی کوشش ہے ۔اعتماد سازی کسی مشورے اور مصنوعی عمل سے ممکن نہیں ہوتی یہ تجربات اور عملی رویوں کا نچوڑ ہوتا ہے ۔سترہ برس میں جس اعتماد کو مجروح کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہوتی رہیں وہ دوچار ملاقاتوں او رچند اعلامیوں سے پیدا ہونا ممکن نہیں ہوتا ۔اعتماد کی کمی کا مرض اگر امریکہ اورکابل حکومت کے تعلقات کو لاحق ہے وہیں یہ مرض کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو قریب المرگ بنائے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں