Daily Mashriq

محبت کی تو کوئی سرحد نہیں ہوتی

محبت کی تو کوئی سرحد نہیں ہوتی

ہم پر جنت کے دروازے بند کردئیے گئے کہ ہم نے اس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی اور شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔ ہمیں آسماں نے ثریا سے زمیں پر دے مارا۔ اور پھر اس کرہ ارض پر پہنچنے کے بعد ہم اپنی زندگی خود جینے کے لئے آبادکاری کرنے لگے۔ ہم بھول گئے کہ ہم یہاں مہاجر ہوکر آئے تھے ، ہم نے زمین کے قرئیے قرئیے پر قبضہ کرنا شروع کردیا، جائیدادیں بنانے اور پلازے کھڑے کرنے لگے ، قبضہ گروپ بن گئے ، لوٹ مار کرنے لگے، اورہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست کے نعرے لگاتے فتح و کامرانی کے جھنڈے گاڑھنے لگے اگر ہم جنت کے اصولوں ، ضابطوں اور قوانیں کا احترام اور پاسداری کرتے تو شاید کبھی بھی ہمیں نقل مکانی کی سزا نہ بھگتنی پڑتی، پر ہوا وہ جو منشائے ایزدی تھا، وہ جو کبھی میر تقی میر نے کہا تھاکہ

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چا ہتے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

ہم مالک کن فیکون کے حکم سے اس دنیا میں عارضی زندگی گزارنے کے لئے آئے ہیں ، یہاں ہماری حیثیت مہاجرین یا پناہ گزین سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ، اور معلوم ہے، آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں مہاجرین کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دن منانے میں وہی قومیں پیش پیش ہیں جو اس دنیا میں مہاجرین بن کر آنے کے باوجود اپنے آپ کو اس کرہ ارض کا مالک سمجھتی ہیں ، انہوں نے اس دنیا کے مختلف حصوں پر قابض ہوکر اپنے اپنے ملک کی حد بندیاں قائم کرکے ان کو ملک یا اپنی املاک کی سرحدوں کا نام دے دیا ہے، ہم سے کتنے اچھے ہیں وہ پرندے جو فضاؤں میں اڑتے وقت کسی ملک یا املاکات کی حد بندی کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ جو ہوا ہے اور ہوا میں تیرنے والے آوارہ بادل ان کے راستے میں انسان کی خود ساختہ سرحدیں حائل نہیں ہوتیں ، کبھی کبھی ہماری یہ باتیں بھی حدود و قیود کو پھلانگتے پڑھنے والوں کے سروں پر سے گزر جاتی ہیں اور ہم تڑپ کر پکار اٹھتے ہیں کہ

کچھ جو سمجھا تو میرے شکوے کو رضواں سمجھا

مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا

ہم مٹی کے مادھو تھے نا جبھی ہمیں دنیائے آب و گل پر آکر آباد ہونا پڑا ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوئے یا اس مٹی کو سونا بنانے لگے۔ اور پھر ہمیں بشارت دی گئی کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں پر جنت کے دروازے کھلیں گے جو اس دنیائے آب و گل سے نیکیاں کماکر اوپر لے جائیں گے ورنہ کرہ ارض پر کالے پانی کی سزا بھگتنے والے لوگ استغفراللہ استغفراللہ وارد جہنم کردئیے جائیں گے شاید غالب نے جنت کی بجائے جہنم میں پھینکے جانے کے خدشے ہی کے پیش نظر یہ بات کہہ دی ہوکہ

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

سچ پوچھیں تو جنت کے اصل حقدار وہی لوگ ہیں جو کرہ ارض پر امن سکون پیار اور محبت کے داعی ہیںاور جنت سماوی کے حصول کے لئے ہر اس مقام کو جنت ارضی میں بدل دیتے ہیں جہاں وہ بودو وباش اختیار کرکے امن اور سکون کے پھول کھلاتے رہتے ہیں پیار اور محبت کی خوشبو سے ماحول کو معطر کرتے رہتے ہیں چہار سو پیار اور محبت کے پھل داردرخت اگاتے ہیں کسی کے راستے میں کانٹے نہیں بوتے جیو اور جینے دو کی ہریالی پھیلاتے ہیں اور یوں دنیا والے رطب اللسان بن کر ان کے وطن کو

فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

کہنے لگتے ہیں ،کہنے کو تو ہر دیس کے مکیں اپنے وطن کو کشمیر جنت نظیر سمجھتے ہیں لیکن جب ظلم ایجاد ستم گر ان کی آزادی کو زنجیریں پہناتے ہیں تو وہ رقص زنجیر بھی پہن کرکا راگ الاپتے اپنے کشمیر جنت نظیر کو خیر باد کہہ دیتے ہیں، دنیا میں جتنی قومیں آباد ہیں جب ان پر سکھ اور چین سے جینا حرام کر دیا گیا تو وہ بادل نخواستہ

انشاء جی اٹھو، اب کوچ کرو

اس شہر میں جی کو لگانا کیا

کے نغمے الاپتے اپنا تن من دھن سب کچھ اپنے آبائی وطن میں چھوڑ کر پرائے دیس میں جاکر پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے، وقت اور آسمان کے ستائے ہوئے ایسے لوگوں کو زمانہ پناہ گزین اور مہاجرین کے نام سے پکارتا رہا، ہجرت کرنا کوئی گناہ نہیں ، غیر محفوظ مقام سے محفوظ مقام کو منتقل ہوجانا سنت نبی رحمتﷺ ہے، لیکن ہجرت کرکے کہیں جانے والوں کیلئے ہر شہر، شہر مدینہ ثابت نہیں ہوتا ، وہاں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، آج کا دن اس ہی سلوک اور برتاؤ کیخلاف آواز اٹھانے کیلئے منایا جارہا ہے، مہاجرین کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھنے کو جتنا ناجائز سمجھا جاتا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اس کے برعکس مہاجرین کے اس روئیے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو وہ کسی کے ہاں مہمان بن کر رہنے کی بجائے اس گھر کے مکینوں کے سر کے دشمن بن کر ان کی املاکات اور آل اولاد تک کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں، آج کے دن ہم مہاجرین کے حقوق کی بات کرتے وقت ان کو ان کے فرائض سے بھی آگاہ کرنا چاہتے ہیں، کاش مہاجرین اپنے آپ کو مہمان اور مقامی لوگوں کو میزبان سمجھ کر ان کے جذبات کا بھی خیال رکھ پاتے، یوں چہار سو محبتوں کے پھول کھلتے رہتے اور کوئی نہ کہہ پاتا کہ

محبت کی تو کوئی حد کوئی سرحد نہیں ہوتی

ہمارے درمیاں یہ فاصلے کیسے نکل آئے

متعلقہ خبریں