Daily Mashriq


اور اب سیہون شریف

اور اب سیہون شریف

گزشتہ پانچ روز کے اندر ملک کے مختلف حصوں میں خودکش دھماکے اور تخریبی سرگرمیاں قوم کو سوگوار کئے ہوئے تھیں کہ جمعرات کو شام کے وقت سیہون شریف میں درگاہ لعل شہباز قلندر میں ایک خود کش دھماکے سے تادم تحریر 76افراد شہید اور تین سو سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کا سانحہ پیش آیا، جہاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس قیامت صغرا کا المنا ک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کو سیہون شریف کے ہسپتال انتہائی کم سہولیات ہونے کی وجہ سے بروقت امداد مہیا نہیںکی جا سکتی تھی کیونکہ متعلقہ ہسپتال صرف 26بستروں پر مشتمل ہے جبکہ ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق شدید زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 50کے لگ بھگ تھی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا تھا کیونکہ قریب ترین ہسپتال جامشورو اور حیدر آباد میں جو دونوں 140اور 160کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور علاقے میں ایمبولینسوں کا بھی معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں وہاں سے طبی امداد کیلئے منتقل کیا گیا ، جبکہ آرمی چیف کی ہدایت پر نہ صرف سی ون تھرٹی طیارہ مہیا کیا گیا بلکہ رات کو سفر کرسکنے والے ہیلی کاپٹرز بھی مہیا کئے گئے جو سیہون شریف سے زخمیوں کو نواب شاہ ، جامشورو اور حیدر آباد منتقل کر کے آگے ضروری ہوا تو کراچی کے ہسپتالوں میں پہنچا نے کی ذمہ داری پوری کریں گے ، ادھرنیول چیف نے بھی نیوی کے ہسپتالوں کو الرٹ کردیا تھا کہ زخمیوں کو طبی امداد مہیا کی جا سکے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اس حملے کو ملکی ترقی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ہم میں سے ہر ایک پر حملہ ہے ، سب پر حملہ ہے ،یہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے ، ایسے بزدلانہ حملوں سے سختی سے نمٹیں گے اور ملک کی ترقی کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں گے ، انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے متحدہے ، صوفیوں کا تشکیل پاکستان میں اہم کردار ہے ، ایسے بزدلانہ حملوں سے ہم خود کو تقسیم نہیں ہونے دیںگے اور پاکستان کی شناخت کیلئے ہم اس جدوجہد میں متحدکھڑے ہیں ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قوم پرسکون رہے ہم دہشت گردوں سے فوری انتقام لیں گے ، دہشت گرد افغانستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں دوبارہ منظم ہور ہے ہیں ، اب برداشت باقی نہیں رہی ، قوم کا لہو رائیگا ں نہیں جائے گا ۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ایجنسیا ں علاقائی امن سے کھیلنا بند کردیں ، اپنی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ادھر اس سانحے کے بعد پا ک افغان سرحد ہرقسم کی آمد ورفت کیلئے غیر معینہ مدت تک بند کر دی گئی ۔ یہاں تک کہ پیدل سرحد پار کرنے والوں پر بھی آمد ورفت کی پابند ی لگا دی گئی ہے ، جبکہ افغانستان کے سفارتی حکام کو جی ایچ کیو طلب کر کے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے پر احتجاج کیا گیا ، آئی ایس پی آر کے مطابق حکام کو 74دہشت گردوں کی ایک فہرست تھماتے ہوئے کہا گیا کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لے چکے ہیں ، ان کو فوری طور پر پاکستان کے حوالے کیا جائے یا پھر ان کے خلاف اقدام اٹھا یا جائے ، موجودہ صورتحال میں یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ عمومی طور پر غیر ملکی سفارتی اہلکاروں کو وزارت خارجہ طلب کر کے انہیں احتجاجی مراسلہ تھما یا جاتا ہے جبکہ گزشتہ پانچ روز کے دوران مسلسل دہشت گردانہ واقعات کے بعد سفارتی حکام کو جی ایچ کیو طلب کرنا مسئلے کی سنگینی کی نشاندہی کرتی ہے اور صورتحال کو کھلی جنگ سے تعبیر کرنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس حوالے سے برداشت کی پالیسی کو مزید قبول کرنے پر پاکستانی حلقے کسی بھی طور تیار نہیں ہیں ، سیہون شریف سانحے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر تے ہوئے حملہ آور کا نام عثمان انصاری بتایا ہے جبکہ پاکستانی حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خود کش حملہ کسی خاتون کی کارستانی لگتی ہے کیونکہ خودکش نے خود کو جہاں اڑایا وہ مزار کے احاطے میں خواتین کے حصے کے قریب ہے ، بہر حال مزید تفتیش کے بعد ہی اندازہ کیا جا سکے گاکہ اصل حقیقت کیا ہے ، ادھر ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہو رہی ہے ، لیکن ہم ملک کا تحفظ کرتے ہوئے ان حملوں کا بھر پور جواب دیں گے ، ان حملوں کی ہدایات دشمن قوتیں دے رہی ہیں ، امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر تازہ دہشت گردانہ لہر میں بھارت کی ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی مشترکہ تلویث کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ اس وقت بھارت ہی کی ایماء پر افغانستا ن پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت سے گزر رہا ہے اور بھارت کے لب ولہجے کی نقل کرتے ہوئے کابل کے حکمران بھی پاکستان پر الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردایک بار پھر اکٹھے ہو رہے ہیں اور بھارت اور بعض دیگر غیر ملکی ایجنسیوں کی ایماء پر پاکستان میںتخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان نے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کو کھلی جنگ قرار دے دیا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد اگر ایک جانب پاکستان میں عالمی کرکٹ کے احیاء کو سبوتاژ کرنا ہے تو دوسری جانب سی پیک کے منصوبے کو نا کامی سے دوچار کرنا ہے کیونکہ سی پیک منصوبے سے نہ صرف بھارت بلکہ کچھ عالمی طاقتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے اور بعض تجزیہ کا ر تو اس حوالے سے خود ہمارے بعض مسلمان ممالک کے اندر تشویش کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں ، تاہم جہاں تک ملک میں دہشت گردانہ حملوں کے اس تسلسل کا تعلق ہے اس حوالے سے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل در آمد نہ کرنے پر بھی بحث ہورہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جاتا تو صورتحال اس قدر سنگین نہ ہو تی ، اس ضمن میں کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی اور ان کے دوسرے ناموں سے اپنی سر گرمیاں جاری کرنے کا نوٹس لیا جاتا تو صورتحال کافی تبدیل ہو چکی ہوتی ، بہر حال اب بھی موقع ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوری طور پر توجہ دی جائے اور جولوگ ملک کے اندر باہر سے دہشت گردی کرنے کیلئے آتے ہیں اور ان کو یہاں سہولیات اور سہولت کار مہیا کئے جا تے ہیں اس صورتحال کا نوٹس لیا جا نا چاہیے ، ایک دوسری گزارش تمام سیاسی رہنمائوں سے یہ کرنابھی ہے کہ خدارا اس قومی سانحے کو سیاسی سکورنگ کیلئے استعمال کرتے ہوئے الزامات اور جوابی الزامات کی کوششیں نہ کی جائیں بلکہ ایک متحدہ قوم ہونے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ملک دشمن قوتوں کے خلاف سیکورٹی ایجنسیوں کا ساتھ دیا جا ئے تاکہ اس غیر معمولی صورتحال سے باہر نکلنے میں قوم کامیاب ہو سکے ۔

متعلقہ خبریں