ہائی کورٹ کے سامنے پارکنگ

ہائی کورٹ کے سامنے پارکنگ

ججز پر ہونے والے خود کش حملے پر پشاور کی وکلاء برادری نے تعزیتی اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ججز اور وکلاء کی سیکورٹی بڑھائی جائے ، وکلاء نے ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے پارکنگ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مناسب جگہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ، اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے ایک بار پھر خوف وہراس پیدا ہورہا ہے ، تاہم اس کے خاتمے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ موجودہ غیر معمولی صورتحال کی وجہ سے ملک بھر میں سیکورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں ، جہاں تک پشاور ہائی کورٹ کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کا تعلق ہے ، ہائی کورٹ میں مقدمات کے حوالے سے ہزاروں لوگ آتے ہیں ان میں سے سینکڑوں افرد اپنی گاڑیاں لا کر نہ صرف ہائی کورٹ بلکہ مولانا مفتی محمود فلائی اوور کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک صوبائی اسمبلی کے کونے تک اور سامنے سڑک مع ریلوے پٹری کے ساتھ بھی کھڑی کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام بھی معمول کی بات ہے ، اور اگر خدانخواستہ کوئی تخریب کاربارود سے بھری ہوئی گاڑی لاکر اس علاقے میں کھڑی کر کے چلا جائے اور بعد میں یہ بارود پھٹ جائے تو یقینا ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ، نہ صرف اس پارکنگ کے مسئلے کا کوئی معقول حل تلاش کرنا لازمی ہے بلکہ اکثر لوگ احتجاج کرنے کیلئے اسی علاقے میں صوبائی اسمبلی کے کونے پر آکر اکٹھے ہوجاتے ہیں اور خدا نخواستہ کسی تخریبی کارروائی کے نتیجے میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں ، اس لیے نہ صرف یہ پارکنگ یہاں سے ختم کر دی جائے بلکہ احتجاجی مظاہرو ں پر بھی اس علاقے میں مکمل پابندی لگا دی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے ، اس ضمن میں ہم وکلاء برادری کے اس مطالبے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مطالبے پر سنجید گی سے توجہ دیں ۔
بلاک شناختی کارڈز
گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا نے فاٹا اور صوبے کے عوام کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے سلسلے میں اقدامات کا عمل تیز کرنے کی تاکید کی ہے ۔ ایک بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ فاٹا او رصوبے میں نادرا کے مزید دفاتر قائم کئے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے ، جہاں تک شناختی کارڈز بلاک کرنے کی شکایات کا تعلق ہے عوام اس سلسلے میں نادرا اہلکاروں کی سست روی کے حوالے سے شکایات بہ لب ہیں مگر یہ پراسس ہے ہی اس قدر صبر آزما کہ روزانہ سینکڑوں افراد نادرا دفاتر کے سامنے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کے باوجود ہفتوں تک اپنا نمبر نہ آنے سے نالاں ہیں ، اس حوالے سے گورنر کے پی کے کی ہدایات کے مطابق اگر فاٹا اور صوبے کے دیگر علاقوں میں نادرا دفاتر کھولے جائیں تو مقامی لوگوں کو دو ر دراز مقامات تک آنے کی زحمت سے بھی نجات ملے گی اور موجودہ دفاتر پر بھی بوجھ کم ہو جائے گا۔

اداریہ