Daily Mashriq


ٹھوس اقدامات کب اٹھائے جائیںگے؟

ٹھوس اقدامات کب اٹھائے جائیںگے؟

مہمند ایجنسی سمیت ملک کے چاروںصوبوں میںتین دن کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں کئی افراد شہید اورمتعدد زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی اس نئی لہر سے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران محفوظ ٹھکانوں پر منتقل ہو جانے والے انسانیت اور امن کے دشمن پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔ البتہ دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد ''را'' کی سازش' پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں ہونے والے فائنل کے خلاف مذموم منصوبہ' سی پیک اور ترقی کے دشمنوں کے اوچھے ہتھکنڈوں والے ''سستے سیرپ'' بیچنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے نیشنل ایکشن پلان کے اس حصے پر غور کیا جانا بہت ضروری ہوگیا ہے جس پر عمل کرنے کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر تھی۔ ثانیاً یہ کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پس پردہ مقاصد پر ہوا میں تلواریں چلانے کی بجائے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے اداروں اور حکومتی ذمہ داروں کی کارکردگی کا بھی پھر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ٫آگے بڑھنے سے قبل ایک دلچسپ مگر سادہ سے سوال پر آپ کی توجہ دلانا ضروری ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ملک میں جب دہشت گردی کی کوئی سنگین واردات ہوتی ہے تو وفاقی وزیر داخلہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ اور ''بہت'' دنوں بعد جب اپنے رخ روشن کی زیارت کرواتے ہیں تو بنیادی مسائل پر بات کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے وضاحت کرنے کی بجائے ان کی ''تان'' پیپلز پارٹی پر ٹوٹتی ہے؟ پچھلے سال بھر سے ان کا پسندیدہ موضوع کرنسی سمگلنگ میں ملوث ماڈل ایان علی ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کی وزارت داخلہ کے لئے 21ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ایک ماڈل گرل کا مقدمہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جسے دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے وزیر داخلہ کا منصب کسی اہل اور فرض شناس شخص کے پاس ہونا چاہئے تھا مگر یہاں ایک زود رنج اور غیر سنجیدہ شخص محض اس لئے اس وزارت پر فائز ہے کہ شریف خاندان کو خطرہ ہے کہ اگر اسے وزارت سے ہٹایاگیا تو وہ اپنے راجپوت گروپ کے 36 ایم این ایز کے ہمراہ مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔ کیا عجیب سوچ ہے یعنی بائیس کروڑ لوگوں کی سلامتی قانون کی بالادستی' امن کا قیام یہ سب ثانوی چیزیں ہیں؟ کیا نظام ہائے حکومت ایسے چلتے ہیں۔ پورا نظام ایک شخص ہائی جیک کرلے۔ اس حوالے سے چند مزید سوالات اور باتیں بھی ہیں مگر انہیں کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی کی نئی لہر سے پیدا ہوئے مسائل اور چیلنجوں سے سنجیدگی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کی ضرورت ہے۔ ملک کو پارٹ ٹائم نہیں بلکہ فل ٹائم وزیر داخلہ کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کو قومی سلامتی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے اپوزیشن سے کیا گیا وعدہ بھی پورا کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ کسی تاخیر کے بغیر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ سے اب تک مختلف اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے۔ مستقبل کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے۔ شام اور عراق میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر خود پڑوس کے ملک افغانستان میں جو حالات بن رہے ہیں انہیں سنجیدگی سے لیا جانا بہت ضروری ہے۔ ایک ایٹمی طاقت جو بہترین دفاعی اور داخلی سیکورٹی کے ادارے رکھتی ہو اتنی بے بس نہیں ہوسکتی کہ نظام ہائے حکومت اور امن کو لاحق چیلنجوں سے عہدہ برآ نہ ہوسکے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ پچھلے سال اپریل سے (اب 10ماہ ہوگئے) ملک میں پانامہ کا ملاکھڑا جاری ہے۔ لاریب کرپشن کمیشن اور لوٹ مار کی دوسری اقسام میں ملوث طاقتور افراد کو بھی اس طرح جوابدہ ہونا چاہئے جیسے چند سو یا چند ہزار روپے رشوت لینے والا سرکاری اہلکار جوابدہ ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ الزامات وزیر اعظم کے خاندان پر ہیں اور دو صوبائی حکومتوں کے ساتھ پوری وفاقی حکومت وزیر اعظم کے بچوں کے دفاع میں ایسے مصروف ہے کہ کسی کو اپنی اصل ذمہ داری کا احساس تک نہیں۔ پچھلے ایک سال کے د وران پیدا ہوئے امن و امان کے مسائل اور ریلوے حادثات کا بغور جائزہ لیجئے دونوں وزارتوں کے وزیر صاحبان کی کارکردگی کا پول کھل جائے گا۔ زود رنج وزیر داخلہ اکثر نازک مواقع پر غائب رہتے ہیں اور وزیر ریلوے طوفانی دوروں میں زبان دانی کے مظاہروں میں مصروف۔ کیا دونوں کے فرائض یہی ہیں؟ آسان سا جواب ہے ''جی نہیں'' حیرانی ہوتی ہے وہ تجربہ کار ٹیم کہاں گئی جس کادعویٰ نواز شریف 2013ء میں کرتے اور کہتے تھے کہ اناڑیوں کو اقتدار دینے کی بجائے تجربہ کار لوگوں کو اقتدار دیں۔ جس تین کے ٹولے نے اس تجربہ کار ٹیم کو مخصوص مفادات کے لئے اقتدار دیا اسے تاریخ کی جوابدہی سے کون بچا سکے گا؟ پچھلے پونے چار سال کے دوران خط غربت کے نیچے رہنے والوں کی تعداد میں 7.6 فیصد اضافہ ہوا یعنی دو فیصد کے قریب سالانہ۔ حکومت میٹرو منصوبوں پر نہال ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ روز اول سے ہی نون لیگ کی ترجیحات اصل فرائض سے سوا ہیں۔ پانامہ کیس نے تو محلات میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ وہ بھی اس موڑ پر ہے کہ شریف فیملی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ میں کہہ چکے '' مدعیوں کے پاس ثبوت نہیں ہیں اور ہمارے پاس ریکارڈ'' اللہ اللہ خیر صلا۔ ویسے کہنے کو تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ سارا ریکارڈ مشرف کے ''مارشل لائ'' میں ضائع ہوگیا۔ اس منطق پر سبحان اللہ کی تسبیح ہی پڑھی جاسکتی ہے مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں ابتر حالات ہیں۔ عدم تحفظ کا احساس ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ کیا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ عوام آخر کس کے دروازے پر فریاد کریں اپنے مسائل کے حوالے سے ؟ کاش کوئی سرکاری تاریخ نویس اور بستہ بردار اس سوال کا جواب دے پاتا۔

متعلقہ خبریں