Daily Mashriq


کوئی رو کے کہیں دست اجل کو

کوئی رو کے کہیں دست اجل کو

تین مفروضے نہیں بلکہ بیانئے کام کر رہے ہیں ۔ حالیہ لا ہور خود کش دھماکے کی جو وضاحتیں یا وجوہات بیان کی جارہی ہیں ان میں ایک تو اس حملے کو وزیر اعظم پر ممکنہ حملے کی سازش بتایا جاتا ہے ، جبکہ دوسرا وزیر اعلیٰ پنجاب کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانا تھا اور تیسرا آئیڈیا یہ ہے کہ اس حملے کا مقصد پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں انعقاد کو روکنا تھا ، پہلے دو بیا نیئے تو مضحکہ خیز ہی لگتے ہیں اس لئے کہ کیا لاہور کے گورنر ہائوس اور چیف منسٹر ہائو س کی سیکورٹی اتنی کمزور ہے کہ کوئی خود کش حملہ آور وہاں سیکورٹی کے نظام کو شکست دینے میں کامیاب ہو کر ا پنے ممکنہ ہدف تک آسانی سے پہنچ سکے گا ؟ اس سے زیادہ احمقانہ آئیڈیا کوئی کیسے سوچ سکتا ہے ، البتہ پی ایس ایل کے فائنل میچ کے انعقاد کو سبوتاژ کرنے کی سوچ کو بہت حد تک قبو ل کیا جا سکتا ہے ،کیونکہ جب سے سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں حملہ کی سازش کامیاب ہوئی ہے تب سے ہمارا دشمن ہمیں نہ صرف عالمی سطح پر کھیلوں کے میدان سے باہر کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے بلکہ اب دنیا کی کوئی ٹیم ہمارے ملک آکر کھیلنے کو تیار نہیں ہے ، اگر چہ اس دوران میں پی سی بی کی انتھک کوششوں سے ایک آدھ ٹیم ہی یہاں آکر کھیلنے پر آمادہ ہوئی ہے ، بلکہ بھارت جو اس ساری سرگرمی کے پیچھے واضح طور پر دکھائی دیتا ہے ، اس نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے ہمیں کروڑوں ڈالر کا نقصان بھی ہو رہا ہے ، جبکہ حالیہ لاہور دھماکے کی وجہ سے خود ملک کے اندر اور باہر پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد کے سوال پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے ، جس کی وجہ سے ان غیر ملکی کھلاڑیوں نے جو پاکستان سپر لیگ کی مختلف ٹیموں کا حصہ ہیں ، لاہور آنے سے انکار کر دیاہے اور صورتحال پر گو مگو کی کیفیت چھائی ہوئی ہے ، حالانکہ آرمی چیف نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ وہ لاہور فائنل کے حوالے سے کھلاڑیوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کریں گے ، جس کے بعد کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ لاہور میں کھیلا جانے والا پی ایس ایل فائنل مکمل طور پر محفوظ ہوگا انشاء اللہ ۔ ادھر دوسری جانب کراچی کے میئر وسیم اختر نے پی سی بی حکام سے کہا ہے کہ وہ فائنل لاہور کی بجائے کراچی میں منعقد کروائیں ، اسے اتنا کامیاب کرائیں گے کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ احمدفراز نے شاید ایسی ہی صورتحال پر کہا تھا 

شکوہ ظلمت شب سے توکہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

وسیم اختر نے تو نہایت نیک نیتی سے پی سی بی حکام کو مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ لاہور کیا کراچی کہیں بھی پی ایس ایل کا فائنل منعقد ہو جائے اس سے فرق نہیں پڑتا ، مگر فائنل کو لاہور سے کراچی منتقل کرنے سے بھی دشمن کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جائے گی جو ہر گز نہیں چاہتا کہ جس کرکٹ کو قذافی سٹیڈیم میںکھیلے جانے والے میچ پر ا س کے بھیجے گئے دہشتگردوں نے حملہ کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان عالمی کرکٹ کیلئے خطرناک ملک ہے اور نہ صرف آج سے چند برس پہلے بھی دہشت گردوں نے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کیا تھا ، وہی صورتحال آج بھی بر قرار ہے ، مگر دنیا جانتی ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات لگانے والے یہ بات بھول رہے ہیں کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ خود پاکستان ہے اور یہ دہشت گرد بھی باہر کی پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔ بہرحال پی سی بی کا فیصلہ اس حوالے سے تبدیل نہیںہونا چاہیے اور پی ایس ایل کا فائنل لاہور ہی میں منعقد کرکے بطور خاص دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ تم چاہے جتنی بھی سازشیں کرنا چاہو کرلو، ہم انشاء اللہ کرکٹ کو پاکستان لاکر عالمی سطح پر یہ ثابت کریں گے کہ یہاں کسی غیر ملکی کھلاڑی کو کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں ہے ، اس ضمن میں نجم سیٹھی نے گزشتہ روز جو بات کی ہے کہ تمام غیرملکی کھلاڑیوں سے جو پی ایس ایل کی مختلف ٹیموں کا حصہ ہیں ، انڈر ٹیکنگ لی جائے گی کہ کیا وہ فائنل میں پہنچ کر لاہور میں کھیلنے کو تیا ر ہیں یا نہیں ، اور اگر کوئی انکار کرتا ہے تو انہیں ابھی سے ڈراپ کر کے ان کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو دعوت دی جائے گی جو فائنل میچ کھیلنے کیلئے لاہور آنے پر آمادہ ہوں ۔

اس سے پہلے کہ بجھے کوئی چراغ

اک چراغ اور سر راہ جلائے رکھنا

یہاں کچھ اور سوال بھی اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں کہ لاہور حملے کی ذمہ داری جس تنظیم نے قبول کی ہے اگر چہ اس حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ محولہ تنظیم افغانستان میں سرگرم ہے اور وہاں سے پاکستان کے اندر تخریبی سر گرمیاں کر رہی ہے جبکہ وزارت خارجہ نے افغانستان کی سر زمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کرنے کے خلاف افغانستان سے احتجاج بھی کیا ہے تاہم اس جماعت کیلئے سہولت کار تو پاکستان کے اندر ہی موجود ہیں اور بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پنجاب ہی میں ان سہولت کاروں کے ٹھکانے موجود ہیں اس لئے جو لوگ سندھ کی طرح پنجاب میں دہشت گردی ختم کرنے کیلئے آوازیں اٹھا رہے ہیں ان پر پنجاب کے بعض حکومتی ارکان کا سیخ پا ہونا قطعاً مناسب نہیں لگتا بلکہ ان تخریب کاروں کی جڑ کو تلاش کر کے ان سے بھر پور انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے ، اس ضمن میں آرمی چیف کا بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے اور پنجاب کے طو ل و عرض میں بھی کومبنگ آپریشن کر کے ان وطن دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچا نا لازمی ہے ۔ شعیب بن عزیز نے درست کہا ہے کہ

کوئی رو کے کہیں دست اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

متعلقہ خبریں