Daily Mashriq


عفریت کی واپسی؟

عفریت کی واپسی؟

ملک کے طول وعرض میں لاہور کراچی کوئٹہ ،پشاور ،مہمند ایجنسی، سیہون شریف ،آواران اور مظفر آباد جیسے بڑے شہروں اور اعصابی مراکز میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا دہشت گردی کا عفریت لوٹ گیا ہے؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عفریت کہیں گیا ہی نہیںتھا بلکہ اس کی گردن پر ریاست کا پائوں آگیا تھا جو اب بھی اس کی گردن پر موجود ہے مگر وہ بتارہا ہے کہ اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت کم تو ہوئی ہے ختم نہیں ۔جب اور جس وقت چاہیں وہ اپنی پسند کا محاذ کھول سکتے ہیں۔لاہور میں چیئرنگ کراس جیسے مصروف مقام پر ہونے والے خود کش حملے میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی سمیت سترہ افراد جاں بحق جبکہ ستاسی زخمی ہوگئے ۔پشاور میں ججز کو نشانہ بنایا گیا ،سیہون شریف میں عالمگیر شہرت کی حامل درگاہ لعل شہباز قلندر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مظفر آبا د میں مجلس وحدت المسلمین کے راہنما علامہ تصورالجوادی پر قاتلانہ حملہ ہوا۔لاہور حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کی ۔جماعت الاحرار اور اس طرح کی دوسری تنظیمیں وہی ہیں جو افغانستان کو اپنا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں نے پاکستان کے دل لاہور کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر ایک اور اعصابی وار کردیا ہے ۔وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی رسائی صر ف فاٹا اور بلوچستان تک نہیں بلکہ وہ پاکستان کے مرکز لاہور تک پہنچ رکھتے ہیں اور جب اور جس وقت چاہیں لاہور کے اندر پہنچ کر اپنا وجود منوا سکتے ہیں ۔متحارب فریقین میں جاری جنگ کا ایک پہلو میدان میں ہونے والی دوبدو معرکہ آرائی ہوتا ہے جبکہ اس سے بھی بڑا میدان اعصاب کا ہوتا ہے جہاں فریقین ایک دوسرے کے اعصاب شل کرنے اور حوصلے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر تے ہیں ۔آپریشن ضرب عضب نے ملک میں مجموعی طور پر دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی مگر افغانستان میں ان کی بھرتی ،تربیت اور سہولت کاری کا نظام موجود ہے ۔بھارتی حکومت اعلانیہ طور پر پاکستان کو جواب دینے کے نام پر نشانہ بنانے کی باتیں کر رہی ہے ایسے میں دہشت گردی کے واقعات کو سو فیصد کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے ۔افغانستان کے ساتھ پورس بارڈر کو منضبط کرنے کی کوششیں ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں ۔اس لئے جب تک خطے میں گریٹ گیم جا ری ہے امن کا سو فیصد قیام ممکن نظر نہیں آرہا مگر دہشت گردی کے واقعات اور خطرات کو کم سے کم بنایا جا سکتا ہے ۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک متحرک اور باصلاحیت انتظامیہ اور پولیس کے ادارے کی تشکیلِ نوکرے ۔فوج پر کلی انحصار کرنے کی بجائے پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں سے آراستہ کرے ۔نیکٹا جیسے اداروں سے حقیقی کام لیا جائے ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر کام کے لئے فوج کی طرف دیکھنے کی روایت قائم ہو چکی ہے ۔سویلین ادارے کس مرض کی دواہیں ؟کسی کو معلوم نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سول اداروں کو فعال کیا جائے ۔انہیں جدید ہتھیاروں اور مہارت سے آراستہ کیا جائے ۔راستہ کٹھن اور طویل ہے مگر اس پر چلنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیںکراچی میںنجی ٹی وی چینل سماء کی وین پر حملے میں اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمورجاں بحق ہو گیا ہے ۔ایک صحافتی ادارے کی وین پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ان خیالات کاا ظہا رکر رہے تھے کہ کراچی میں رینجرز بلانے سے پولیس کا مورال گرگیا اور یہ کہ سندھ پولیس اب تک 1861ئکے قانون کے تحت کام کر رہی ہے ۔اس قانون پر چل کر اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نہیں نمٹا جا سکتا۔اے ڈی خواجہ وہی آئی جی ہیں جنہوں نے ایک تقریب میں کراچی آپریشن کے بعد چن چن کر پولیس اہلکاروں کے قتل کئے جانے کی بات کی تھی اور جس کے بعد کراچی میں رینجرز کو تعینات کیا گیا تھا ۔کراچی گزشتہ دہائیوں میں خطے میں جاری ''گریٹ گیم'' کا ایک اہم مرکز اورموڑ رہا ہے ۔اس شہر پر بہت سی طاقتوں کی للچائی ہوئی نظریں رہی ہیں ۔بڑا شہر اور لسانی اور نسلی رنگارنگی کے باعث اس شہر کے داخلی مسائل بھی کچھ کم نہیں رہے ۔ملک کا سب سے بڑا ساحلی اور تجارتی شہر ہونے کی بنا پر سب سے زیادہ روزگار کے مواقع یہیں رہے ہیں اور اس وجہ سے ملک بھر سے روزگار کے متلاشی افراد کا رخ اس شہر جانب رہا ہے جس سے اس کی آباد ی میں نہ صرف یہ کہ ہوش رُبا اضافہ ہوگیا بلکہ آبادی اور وسائل کا عدم تواز ن بھی پیدا ہوگیا ۔جس سے آبادیوں میں تلخیاں پیدا ہونے لگیں جنہیں ٹکرائو کی شکل دی جاتی رہی ۔اسی دورا ن شہر میں ''داداگیری'' اور ''ڈان کلچر'' فروغ پاگیا یا منظم اندازمیں فروغ دیا گیا ۔یوں کراچی ایک رستا ہوا زخم بن گیا ۔پولیس میں سیاسی بھرتیوں کا آغاز ہو گیا اور انتظامی اداروں میں سیاست کا مطلب ان اداروں کی موت ہوتا ہے ۔پولیس سیاسی ہوجانے سے یہ ادارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔دوسو سے زیادہ پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گئے اور اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے رینجرز کو بلانا پڑا ۔رینجرز کی تعیناتی کا عرصہ پولیس کے ادارے کی تنظیم نو کا بہترین وقت تھا مگر اے ڈی خواجہ کی دکھ بھری کہانی بتارہی ہے کہ ابھی بھی پرنالہ وہیں ہے۔دہشت گردی کی حالیہ لہر نے سوچ کا ایک موقع اور دیا ہے ۔اب آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں میں مست اور سحر میں گم رہنا کافی نہیں بلکہ ابھی مسلسل چوکس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔امریکہ افغانستان میں اور بھارت کشمیر میں مار کھارہاہے ،سی پیک کی صورت میں ہم نے رخِ روشن کے آگے شمع رکھ دی ہے پروانے اُمڈتے چلے آرہے ہیں ۔اس کے باوجود ہم عافیت سے رہیں گے تو خام خیالی ہے ۔ہمیں انہی حالات کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور انہی حالات میں اپنے لئے راستہ بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں