Daily Mashriq


زندگی کی کہانی

زندگی کی کہانی

سیکھنے کا عمل تو ساری زندگی جاری رہتا ہے نت نئے تجربات انسانی زندگی کا حصہ بنتے رہتے ہیںصرف پڑھا ہوا کافی نہیں ہوتا۔آپ بیتی اور جگ بیتی میں یہی فرق ہوتا ہے کہ آپ بیتی آپ پر گزرتی ہے اور جگ بیتی دوسروں کی کہانی ہوتی ہے۔زندگی کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی۔زندگی کو سب اپنے اپنے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں اپنے تجربات کی روشنی میں زندگی کی تشریحات کرتے رہتے ہیںلیکن زندگی کی سمجھ اس وقت آتی ہے جب اپنے تجربے ناکام ہوجاتے ہیں جب اپنا سیکھا ہوا الٹ جاتا ہے جب بساط پر اپنی مرضی سے سجائے ہوئے مہرے دھوکے پر دھوکا دیتے چلے جاتے ہیں جب انسان اپنے ارادوں کو ٹوٹتا ہوا دیکھنے لگتا ہے تو پھر زندگی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔زندگی کی کہانی اس لیے بھی عجیب ہے کہ اس کے معنی کبھی بھی طے نہیں کیے جاسکتے۔ اپنی منصوبہ بندیوں پر کبھی بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ کسی دانشور نے کیا خوب کہا تھا کہ میں اپنے ساتھ زندگی کے تجربات لے کر پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ سب کچھ میں نے زندگی کے تلخ حقائق سے سیکھا، دھوکا دینے والی طبیعتوں نے مجھے سکھایا۔ دلچسپ جھوٹ میرے تجربات میں اضافہ کرتے رہے، وہ وعدے مجھے سکھاتے رہے جو کبھی بھی ایفا نہیں ہوئے، وہ چہرے میرے علم میں اضافے کا باعث بنے جو دن رات اپنی ہیئت تبدیل کرتے رہتے میرے تجربے میں دلکش الفاظ بھی اضافہ کرتے رہے جنہیں سن کر میں خوشی سے سر شار ہو جاتا لیکن جب ان کی اصلیت سامنے آتی تو میں حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا۔ کہنے والے کا موسموں کی طرح بدل جانا مجھے انوکھے کرب میں مبتلا کردیتا، جذباتی رویے مجھ پر حیرتوں کے در وا کرتے رہے میں جذبات میں ڈوبے ہوئے الفاظ کی دلکشی میں ایسا ڈوبا کہ پھر میرے لیے ابھرنا ممکن ہی نہ رہا لیکن جب حقیقت کھلی تو سچائی کے تلخ فرش پر اپنے آپ کو چاروں شانے چت پایا، پیار ے جذبات مجھے طفل تسلیاں دیتے رہے میں ان جذبات کی جھوٹی کشش مجھے بہلاوے دیتی رہی میں نے جنہیں اپنی منزل سمجھا وہ ایک سراب کے سوا کچھ بھی نہیں تھے،زندگی کے تلخ سچ میرے علم میں اضافہ کرتے رہے میں بدلتے چہروں سے دھوکا کھاتا رہا اپنی سوچوں کے تانے بانے جھوٹی امیدوں کے ساتھ باندھتا رہا لیکن جب ان امیدوں کوٹوٹتے دیکھا تو مجھ پر انکشاف کا ایسا سورج طلوع ہوا جس نے میری آنکھوں کو چکا چوند کردیااور میں کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ رہا،اپنے میٹھے پیاروں کے تلخ رویے مجھے پل پل مارتے رہے میری آس کی ڈور کو توڑتے رہے ۔ پیار کرنے والے رویے میرے لیے خوشنما دھوکا ثابت ہوئے چہروں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹیں میرے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوئیں۔ میں نے جنہیں دوست سمجھا وہ اپنی غرض کے بندے تھے دنیا کی یہ سادہ حقیقتیں بڑی دیر بعد میری سمجھ میں آئیں جب سب کچھ ختم ہو چکا تھا کاش میں نے پہلے جان لیا ہوتا کہ دنیا میں خودغرضیاں ، لالچ، حرص و ہوس اپنے بازو پھیلائے ہرطرف منڈلاتے رہتے ہیں۔مجھے اس وقت نظر انداز کیا گیا جب میرا حق تھا جب میرے شانے پر تمغے سجائے جانے تھے لیکن اس وقت مجھے یوں فراموش کردیا گیا جیسے میں کہیں تھا ہی نہیںاس وقت میرے من میں علم و آگہی کی ایک قندیل سی روشن ہوگئی تھی مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے دنیا اپنے تمام چہروں کے ساتھ مجھ پر کھل گئی ہو، میں نے لوگوں کے مختلف معیار دیکھے جو اپنے لیے کچھ تھے اور دوسروں کے لیے کچھ اور، قوانین کا اطلاق اپنی ذات پر تو نہیں کیا جاتا تھا لیکن دوسروں کے لیے اسی قانون کو پھانسی کا پھندا بنا دیا جاتا تھامیں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور مسلسل سیکھتا رہا ، میں نے جھوٹے بیانات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھا ہر روز نت نئے بیانات کا ایک مکروہ سلسلہ جس کا کوئی انت نہیں تھا جس کے اختتام کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا دنیا میں اسی کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا رہاکہ دلکش جملوں سے دوسروں کو بہلاتے رہو یہی زندگی ہے یہی زندگی کا کامیاب چلن ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ اس دنیا میں کامیاب رہتے ہیں جو دوسروں کے خوابوں میں سر سبزو شاداب باغات کی ایسی دنیا تعمیر کر سکیں جن کی تعبیر کے انتظار میں ہی ان کی زندگی کا سورج طلوع ہوجائے۔ وہ رخصت ہوتے وقت بھی یہی سوچ رہے ہوں کہ جو بہار ہم نے نہیں دیکھی وہ ہماری آنے والی نسلیں دیکھیں گی۔منافقت سے بھرپور لہجے میرے علم میں اضافہ کرتے رہے میری محفل میں بیٹھنے والے میرے مخالفین کی محفلوں میں نئے چہروں کے ساتھ جا بیٹھتے میں جنہیں اپنا ہمدرد خیر خواہ اور دوست سمجھتا رہا وہ بیچارے سیدھے سادھے منافق تھے ۔کہانی کا اختتام کب ہوتا ہے یہ تجربات کب فائدہ دیتے ہیں انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ خسارے میں ہے اس کا خسارہ کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں۔ آپس میں حق بات کی وصیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں