Daily Mashriq

ترمیمی ڈرگ بل،ایک نئے بحران کا راستہ

ترمیمی ڈرگ بل،ایک نئے بحران کا راستہ

شہباز شریف ایک زیرک وزیراعلیٰ ہیں لیکن اپنی جذباتی طبیعت کی وجہ سے بسا اوقات ایسے فیصلے کر ڈالتے ہیں جو ان کی حکومت اورپنجاب کے عوام کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔ موصوف جب سے ترکی کے چکر میں پڑے ہیں ،انہیں پاکستان کی کوئی چیز اچھی ہی نہیں لگتی۔اسی شوق فضول میںانہوں نے راولپنڈی سے اسلام آباد میٹرو بس چلا تو ڈالی لیکن جتنا پیسہ میٹرو کی نذر کیا اتنے پیسے سے مری روڈ کے ٹریفک جام کا مسئلہ اگلے پچاس سال تک کے لئے حل کیا جا سکتا تھا۔ان کی عجلت پسندی کا ایک یہی شاہکار نہیں اور بھی کئی شاہکار ہیں ۔ حال ہی میں ان کے ایک عجلت پسندانہ فیصلے کا شکار پنجاب کی فارماسیوٹیکل کمپنیز ہی ہوتیں تو یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ وہ عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کا عزم رکھتے ہیں لیکن انہوں نے تو ادویات کے ہول سیلرز سے لے کر ریٹیلرز تک کو یوں رگڑ ڈالا کہ اگریہ مسئلہ حل نہ ہوا تو دوائوں کے چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کے ساتھ ساتھ وہ کروڑوں لوگ بھی تباہ ہو جائیں گے جو دوائوں کے حصول کے لئے مارکیٹوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن میڈیکل سٹوروں پر لگے تالے ان کا منہ چڑا رہے ہیں۔ دوائیں نہ ملنے سے مریض گھروں اور ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں اور شہباز شریف چین کی نیند سو رہے ہیں۔سنا ہے جمعرات سے کراچی کی تمام ادویہ ساز فیکٹریاں بھی بند ہو رہی ہیں جس سے ملک ایک ایسے بحران میں مبتلا ہو جائے گا کہ شاید ہی ایسا بحران اس ملک نے کبھی دیکھا ہو۔ہر طرف موت کا رقص ہوگا اور یہ بحران پنجاب کے ساتھ سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان ،کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور پنجاب والوں کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں کے عوام کو بھی پتہ چلے گا کہ '' خادم اعلیٰ''کتنے زبردست طریقے سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں۔اس کالم کو شروع کرنے سے پہلے میں نے ضروری سمجھا کہ سٹیک ہو لڈرز سے مل کر معلوم کروں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت عمران نذیر ان سے چاہتے کیا ہیں۔ راولپنڈی کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ'' بوہڑ بازار '' کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس مارکیٹ کے ایک بڑے ہول سیل ڈیلر ملک محمد عمر کو فون کر کے مدعا بیان کیا تو توانہوں نے معاملے کی تفصیل بتانے کے لئے ایک ہول سیل ڈیلرسے درخواست کی۔ وہ صاحب بولتے جا رہے تھے اور میرے اوسان خطا ہو رہے تھے۔آپ بھی اس تفصیل کو سن کر چکرا جائیں گے۔ہول سیل ڈیلروں سے کہا جا رہا ہے کہ دکان کا سائز پانچ سو سکوائر فٹ ہونا چاہئے،اتنی بڑی دکان بنا سکتے ہو تو کاروبار کرو ورنہ دکان داری ختم کر کے گھر کو جائو۔ بوہڑ بازار میں دکانیں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں۔ چھ دکانیں ملائیں تو پانچ سو سکوائر فٹ کی ایک دکان بنتی ہے، اور اگر پنجاب حکومت کی یہ شرط پوری کر دی جائے تو 90 فیصد سے زائد دکاندار فارغ ہو کر گھر بیٹھ جائیں گے۔دوسری شرط یہ ہے کہ جو حساس دوائیںفریج میں رکھی جاتی ہیں ڈرگ انسپکٹر کے چھاپے کے وقت وہ فریج پانچ منٹ کے لئے بھی بند پایا گیا تودکاندار کو چھ ماہ کے لئے جیل جانا پڑے گا اور اس کی ضمانت بھی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی تین سے دس لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔ 

انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ شرط ایک ایسے ملک میں رکھی جا رہی ہے جہاں بجلی کا کوئی بھروسہ ہی نہیں۔ایک بچہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ بجلی چلی جائے تو فریج کی ٹھنڈک ایک دم ختم نہیں ہوتی اور دورانیہ اگر زیادہ ہو تو دکاندار جنریٹر چلا دیتا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ڈرگ انسپکٹر کوفریج بند ملا تو جرمانہ اور سز ا واجب خواہ اس فرشتے کے آنے سے ایک منٹ قبل ہی فریج بند ہوا ہو۔ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہول سیل ڈیلر اور ریٹیلر فارماسسٹ رکھے۔فارماسسٹ کی ان دکانوں میں سرے سے ضرورت ہی نہیں کہ جو لوگ دوائیں فروخت کرتے ہیں وہ انتہائی تجربہ کار ہوتے ہیں۔ انہیں ایک ایک دوا کا پتہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ کون سی دوا کہاں رکھی ہے۔جعلی اور سب سٹینڈرڈ دوا دو مختلف باتیں ہیں لیکن اسے ایک ہی پلڑے میں رکھ کر ثابت کیا جا رہا ہے کہ ''خادم اعلیٰ'' اور وزیر صحت پنجاب کتنے بڑے شاہ دماغ ہیں۔مارکیٹ کے سبھی دکاندار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر وہ جعلی دوا بیچیں تو انہیں سرعام پھانسی دی جائے لیکن سب سٹینڈرڈ تو ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ کوئی لائسنس ہولڈر فیکٹری اگر چار سو ملی گرام کے کیپسول میں تین سو ملی گرام دوا ڈالتی ہے تو ہول سیل ڈیلر سے لے کر ریٹیلر کو یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ مقدار پوری ہے یا کم؟اسی طرح کی اور بھی کئی شرائط ہیں جنہیں پاکستان تو کیا کسی بھی ملک کادوافروش پورا نہیں کر سکتے۔اس پر مستزاد یہ کہ جب پنجاب کے دوا فروشوں پر یہ قیامت ڈھائی جائے گی تو کراچی والے ان کے ساتھ خوف کی وجہ سے بزنس ہی نہیں کریں گے۔شہباز شریف کے ساتھ ایک ذہنی مسئلہ ہے۔ وہ اگلے الیکشن سے پہلے پنجاب کے عوام پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ باقی سارے وزرائے اعلیٰ گھامڑ ہیں ۔اور عوام کا سچا خیر خواہ صرف '' خادم اعلیٰ'' ہے۔مجھے جس بات نے سب سے زیادہ ملول کیا وہ یہ ہے کہ قوم کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ دوائوں کی تیاری اور فروخت سے وابستہ سبھی لوگ بے ایمان ،چور اور لٹیرے ہیں حالانکہ اس بزنس سے ایسے لوگ بھی وابستہ ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔خدا شہباز شریف کو ہدایت دے کہ وہ بہت ہی خطرناک کھیل کی شروعات کر چکے ہیں۔

اداریہ