مشرقیات

مشرقیات

یہ واقعہ تاریخ اسلام کے اس بطل جلیل کا ہے جن کو امام شافعی نے خلاف راشدہ کا پانچواں خلیفہ قرار دیا ہے ۔ اور یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں ، جنہوں نے محض تین سال کے مختصر عر صے میں امت مسلمہ کو اس کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلائی ، جو اپنے داد ا عمر بن خطاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علم ، زہد ، عباد ت ، اخلاق اورانصاف کے لحاظ سے ایک امام کا درجہ رکھتے تھے ، مگر اپنے داد ا کی طرح ہی ان کو خوف تھا کہ انہوں نے اپنے فرائض پوری طرح انجام نہیں دیئے تو اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی پکڑ ہوگی ۔
حضرت مغیرہ بن حکیم جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عمر کے آخری حصے میں ان کے ہمراہ ہوتے تھے ، بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز ا س عرصے میں ایک دعا بکثرت کیا کرتے تھے ۔ کہا کرتے تھے : '' خدایا ! میری اصلیت ان لوگوں سے مخفی رکھنا ، خواہ ایک گھنٹے کے لیے ہی ۔ '' مرادیہ تھی کہ یہ لوگ جو میرے بارے میں اتنا حسن ظن رکھتے ہیں ، پروردگار ! مجھے صرف ایک گھنٹہ ان سے مخفی رھنا ۔ المغیرہ کے کانوں میں یہ آواز پڑتی مگر اس دعا کا صحیح مفہو م انہیں تب سمجھ آیا ، جب عمر واقعی اپنے وقت آخر کو پہنچ گئے ۔ اپنی وفات کے روز حضرت عمر نے اپنی اہلیہ ، اپنے بچوں اور ان یتیموں اور مساکین کو بلایا جن کی وہ کفالت کیا کرتے تھے ۔ خلیفہ وقت نے اپنی اہلیہ فاطمہ بنت عبدالملک کو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے ہوئے صبر کی تلقین کی : ترجمہ۔،بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا ۔ اپنے بچوں کو الوداع کہنے کے بعد انہوں نے سب کو ہدایت کی کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے اور یہی وہ دعا تھی جو وہ اکثر کرتے تھے کہ خدا ان کی حقیقت کو لوگوں سے اس ایک گھنٹے کے لیے چھپالے ۔ المغیرہ کہتے ہیںکہ ہم سب کمر ے سے نکل آئے اور دروازے کی ذرا سی درز کھلی رہنے دی ۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر کا چہرہ اچانک چمک اٹھا ہے اور ایک خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر کھیلنے لگی ہے ، تب ہم نے دروازہ بند کردیا اور ہم تک آواز پہنچی : ''خوش آمدید ان خوبصورت چہروں کو جو نہ انسانوں کے ہیں اور نہ جنوں کے !''۔پھر وہ قرآن کی یہ آیت تلاوت کرنے لگے :ترجمہ'' یہ ہے آخرت کا گھر جو ہم نے ان لوگوں کے لیے بنایا ہے جو نہیں چاہتے دنیا میں شان و شوکت اور نہ ہی فساد ، اور کامیابی یقینا پرہیز گاروں کے لیے ہی ہے ۔''(القصص:83)
اور وہ متواتر اسی آیت کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ان کی آواز باہر آنا بند ہوگئی ، تب ان کی اہلیہ نے اندر جا نے کا فیصلہ کیااور جب وہ اندر داخل ہوئیں تو انہیں اس حال میں پایا کہ وہ اپنا چہر ہ اپنے دائیں گال پر ٹکا ئے ہوئے لیٹے تھے ، اور نگاہیں سامنے کی طرف اٹھی ہوئی تھیں ، جیسے اشتیاق سے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ رہے ہوںاور روح پرواز کر چکی تھی۔
(بیان ، شیخ عمر سلیمان )

اداریہ