Daily Mashriq

پاکستان کوتنہا کرنے کا بھارتی خواب

پاکستان کوتنہا کرنے کا بھارتی خواب

پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکمرانوں نے ایک بار پھر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا ہے اور حملے کے الزامات بغیر تحقیق کے پاکستان پر لگاتے ہوئے بھارتی پردھان منتری نریندرمودی نے جس طرح پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں ان سے شہ پاکر بھارتی انتہا پسندوں نے اپنا مذموم کھیل ایک بار پھر کھیلنا شروع کردیا ہے اور بھارت میں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کی املاک کو آگ لگانے کے واقعات کی اطلاعات آرہی ہیں جبکہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کا بھارتی وزیراعظم کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، پلوامہ کا واقعہ افسوسناک ہے اور پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے پاکستان کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان جانی نقصان اور تشدد کے کبھی حق میں نہیں رہا، یہ ہماری واضح پالیسی اور حکمت عملی ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے ، پلوامہ کے واقعہ پر تحقیقات میں تعاون کو تیار ہیں ، بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے، میونخ کا نفرنس کے خاتمے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بغیر تحقیق کے الزام تراشیوں پر افسوس ہوا الزام تراشیوںسے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا نہ اب ہوگا۔ دریں اثنا وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو خود دیکھنا چاہیئے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے احتجاج کی وجوہات کیا ہیں،بھارت اپنی پالیسی اور رویئے سے کشمیر کھو رہا ہے وزیرخارجہ نے سابق وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ کے تازہ بیان کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ نے بڑی صاف بات کی ہے اور کہا ہے کہ جاکر دیکھیں مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے،خواتین سے زیادتیوں، پلیٹ گنوں اور جنازوں پر ردعمل آرہا ہے۔ قابل ذکر امر اس حوالے سے یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی منفی سوچ اور بھارتی انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے خلاف نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ نے آواز بلند کی ہے اور بھارتی حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیا ہے بلکہ بھارتی سیاسی جماعتوں کی منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس بھی اختلافات کا شکار ہوگئی ہے اور بھارتی سماج پارٹی اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے کانفرنس میں شرکت نہیں کی جو اس بات کی غماز ہے کہ ان جماعتوں نے بھارتی حکمران جماعت کے بیانیہ سے اتفاق کرنے سے انکار کردیا ہے اور قرارداد میں پاکستان کا نام شامل کرنے پر اختلافات پیدا ہونے سے واضح ہوگیا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے الزامات سے یہ جماعتیں متفق نہیں جبکہ فاروق عبداللہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ ادھر ایک بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو موت کا سوداگر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف لاشوں پر سیاست کرنا جانتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ عادل احمد ڈار نے پلوامہ میں ہونے والے حملے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارتی فوجیوں نے سکول سے واپسی پر اس سے زمین پر ناک رگڑوائی تھی، پلوامہ واقعہ پر پاکستان کو ذمہ دار کیوں قراردیا جارہا ہے؟ بھارت کے اندر ہی سے اٹھنے والے ان سوالات کے بارے میں سوچا جائے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارت افواج کے مظالم کی اصل تصویر واضح ہو کر سامنے آتی ہے اور کشمیری عوام کے اندر پلنے والے غم وغصے سے ہونے والے ردعمل پر روشنی پڑتی ہے،بھارتی حکمران اپنے رویئے پر سوچنے کی زحمت تو نہیں کرتے ، مگر ہر بار جب بھارتی سرزمین یا پھر مقبوضہ وادی کشمیر میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کے الزامات بغیر تحقیق کئے فوری طور پر پاکستان پر عاید کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں، پلوامہ حملے کے پس منظر پر غور کیا جائے تو سویڈن میں مقیم بھارتی نژاد پروفیسر کی بات کی اہمیت واضح ہوتی ہے یعنی بقول انکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی موت کا سوداگر اور لاشوں پر سیاست کرنے والا شخص ہے ، بھارتی پروفیسرنے 2002کے گودھرا ٹرین واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نریندر مودی کے مکروہ کردار کو بڑی کامیابی سے بے نقاب کیا ہے اور اس وقت بھی بھارتی ریاست گجرات میں بی جے پی کو انتخابات جیتنے کیلئے لاشوں کی ضرورت تھی جس میں وہ کامیاب رہی جبکہ ایک بار پھر اپریل‘ مئی میں ہونے والے بھارتی عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کو ٹف ٹائم ملنے کے خدشات سے نمٹنے کے لئے مودی سرکار کے پاس اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایک بار پھر لاشوں کا سودا کرے اور اس بار بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے زیادہ قیمتی چیز اور کیا ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے اس نے بھارتی انتہا پسندوں کے جذبات کو بھڑکانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور حسب سابق بغیر تحقیق کے ایک بار پھر الزامات پاکستان پر لگا دئیے ہیں مگر اب کی بار اس کا تیر نشانے پر نہیں لگا بلکہ خطا ہو کر ضائع ہوگیا ہے کیونکہ بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کی چال ناکام بناتے ہوئے کل جماعتی کانفرنس سے حاصل ہونے والی مدعا ناکامی سے دوچار کر دی ہے۔ ادھر پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان میں مقیم غیر ملکی سفیروں کو پلوامہ حملے پر بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر متضاد مواد کو جواز بنانا حقائق کے خلاف ہے۔ انہوں نے سفیروں پر واضح کیاکہ بھارت ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہئے۔ سیکرٹری خارجہ نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ واقعے پر بغیر تصدیق کے پاکستان پر الزام لگانا مناسب نہیں پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ ادھر ایک ٹویٹ میں ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان پلوامہ حملے کے بعد کشمیریوں پر تشدد کی بھارتی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارت منظم انداز میں کشمیری طالب علموں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم بڑھانے کے لئے پلوامہ واقعہ کو جواز نہ بنائے۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میونخ کانفرنس میں امریکی ارکان کانگریس‘ جرمنی‘ کینیڈا‘ ازبک وزرائے خارجہ اور افغان صدر کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی ایجنڈا خاک میں مل گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لنڈ سے گراہم کی قیادت میں امریکی وفد جس میں 8سینیٹرز اور 10ارکان کانگریس شامل تھے نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تاریخی طور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات جنوبی ایشیاء میں استحکام کا ایک عنصر ہیں‘ ارکان کانگریس نے کہا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں سے متاثر ہیں۔ اس صورتحال میں بھارتی وزیر اعظم کی دھمکیوں سے پاکستان کا کچھ بھی بگڑنے والا نہیں ہے اور بھارتی حکمرانوں کے عزائم خاک میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں اس لئے بھارتی حکمرانوں کو پاکستان پر بلا جواز الزامات لگانے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں اپنے روئیے پر غور کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں