Daily Mashriq


سعودی ویزہ فیس میں کمی

سعودی ویزہ فیس میں کمی

سعودی عرب کی جانب سے پاکستانیوں کے لئے ویزہ فیسوں میں کمی کا اعلان یقینا خوش آئند ہے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد کے موقع پر اس قسم کے اعلان سے دونوں برادر ملکوں کے تعلقات میں مزید قربت آئے گی۔ اس سلسلے میں جو اعلان سامنے آیا ہے اس کے مطابق سنگل ویزہ فیس 2ہزار ریال سے کم ہو کر 338 ریال جبکہ ملٹی پل انٹری ویزہ 3ہزار سے کم کرکے 675 ریال کردیاگیا ہے‘ وزٹ ویزہ میں کمی کی وجہ سے پاکستانی زائرین کے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے جانے پر اخراجات کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو روڈ ٹو مکہ میں بھی شامل کرلیا ہے جس سے مقدس مقامات پر جانے والوں کو جدہ ائیر پورٹ پر قطاروں میں نہیں لگنا پڑے گا بلکہ لاہور اور کراچی سے ہی سب کچھ کلیئر ہو جائے گا۔ جہاں تک روڈ ٹو مکہ سہولیات کا تعلق ہے تو اسے صرف لاہور اور کراچی تک محدود کرنا ملک کے دیگر علاقوں کے زائرین کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اس لئے اس سہولت کو اسلام آباد‘ پشاور اور کوئٹہ تک بڑھانا چاہئے تاکہ ان شہروں اور دیگر قریبی شہروں کے زائرین بھی اس سہولت سے استفادہ کرسکیں۔

گیس مسئلے پر سیاست؟؟

بد قسمتی سے ہمارے ہاں سیاست میں خوشامد گری کے عنصر کاجادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ آج کے اخبارات میں خیبر بازار کے ایک خود ساختہ سماجی شخصیت کا بیان چھپا ہے جس میں رکن قومی اسمبلی حاجی شوکت علی کی کوششوں پر رطب اللسانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی کوششوں سے پشاور میں گیس کا مسئلہ حل ہوگیا ہے‘ حالانکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور نہ صرف دن کے اوقات بلکہ رات 9بجے سے علی الصبح تک گیس لوڈشیڈنگ بدستور جاری ہے‘ اس قسم کے چاپلوسانہ بیانات سے عوام کے مسائل تو حل نہیں ہوتے البتہ جن عوامی نمائندوں کی بے جا تعریفیں کی جاتی ہیں خود ان کی پوزیشن خراب ہوتی ہے اس لئے عوامی نمائندوں کو بھی چاہیئے کہ نہ صرف عوام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے حقیقی اقدامات کریں اور عوام کو بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ سے نجات دلائیں بلکہ ایسے چاپلوسوں کو روکیں جو الٹا عوامی نمائندوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ تعریفیں تب درست ہوتی ہیں جب واقعی عوام کے مسائل حل کرنے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور اگر کوئی عوامی نمائندہ مسائل حل کرتا ہے تو یہ اس کا اخلاقی فرض ہے کہ عوام نے اسے ووٹ دئیے ہی اس لئے ہیں کہ وہ ان کے مسائل پر توجہ دے نہ کہ جھوٹی تعریفیں کروا کے عوام کے دلوں میں موجود احترام ختم کرائے۔

متعلقہ خبریں