Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مولانا رومی ایک سبق آموز حکایت دنیاوی مصائب پر کرنے کے حوالے سے انعام ملنے کا ذکر کرتے ہیں کہحق تعالیٰ اپنے بندے کا ذریعہ نجات کسی نہ کسی سبب سے بنا دیتے ہیں۔ ایک عورت کو صبر کے میدان میں رب تعالیٰ نے آزمایا۔ہرسال خدا عزوجل اسے اولاد نرینہ سے نوازتے،مگر چند ماہ بعداس کے گلستان کا یہ پھول مرجھا جاتا ، اس کی گود پھر خالی ہو جاتی۔ اس بے کس ماں کے یکے بعد دیگر ے بیس بچے اس کا خون جگر کر کے داغ جدائی دے گئے۔ آخری بچے کے فوت ہونے پر اس کے غم کی آگ بھڑک اٹھی۔

آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق ومالک کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی۔ اپنا سارا غم اوراپنے جگر کا خون مناجات میں پیش کیا’’اے کون ومکان کے مالک!تیری اس گنہگار بندی سے کیا تقصیر ہوئی کہ سال میں نو مہینے خون وجگر دے کر اس بچے کی تکلیف اٹھاتی ہے،جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہاردیکھنا نصیب ہوتی ہے ۔

میرے باغ میں بیس پھول کھلے، مگر میں نے سیر ہو کر ایک کی بھی دیدنہ کی۔آئے دن مجھے غم کی ہول لگی رہتی ہے، میرا کوئی بچہ پروان نہ چڑھا۔ اے دکھی دلوں کے بھید جاننے والے!مجھ بے نواپر اپنا لطف وکرم فرما۔

دکھ درد کی ماری کو روتے روتے اونگھ آگئی۔ خواب میں اس نے ایک شگفتہ پر بہار چمن دیکھا، جس کے اندر سیر کررہی تھی۔ سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بناہوا اسے ایک محل نظر آیا، جس کے اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا۔ باغات اور تجلیات سے یہ عورت خوش اور بے خود ہوگئی، محل کے اندر جا کر اس نے دیکھا کہ اس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں۔

اسے وہاں اپنے سب کھوئے ہوئے بچے مل گئے ، جو اسے دیکھ کر کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ پھر اس نے ایک محبت بھری آواز سنی کہ تونے جو بچوں کے مرنے پر صبر کیا تھا، یہ اس کا اجر ہے۔خوشی کی اس لہر میں اس کی آنکھ کھل گئی، جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اس کا تمام ملال جاتا رہا۔ اس عورت نے مالک حقیقی کی بارگاہ میں بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا’’الٰہی اب اگر اس سے بھی زیادہ تو میرا خون بہا دے تو میں راضی ہوں‘‘۔

اب اگر تو مجھے سینکڑوں سال بھی اسی طرح رکھے ،جس طرح میں اب ہوں تو کچھ غم نہیں، یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس نے سمجھ لیا کہ چند روزہ زندگی کے بعد اسے بہت اچھا ٹھکانہ ملنے والا ہے۔ ان چند دن کے فراق کے بعد میری اپنے بچوں سے دائمی ملاقات ہونے والی ہے۔

انسان کو ہر حال میں صبر کادامن نہیں چھوڑنا چاہیئے، کیونکہ اس کا اجر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں اگر نہ ملے تو آخرت میں ضرور اس کو اجر ملنا ہے۔

متعلقہ خبریں