Daily Mashriq


لکشمی بائی کی سرزمین پر سلطان شہاب الدین کا حملہ؟

لکشمی بائی کی سرزمین پر سلطان شہاب الدین کا حملہ؟

وادی کشمیر میںاونتی پورہ پلوامہ میںفوجی کانوائے پر خوفناک فدائی حملے نے بھارت کو نہ صرف ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی طرف مرکوز کر دی۔حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس کے بیالیس اہلکار مارے جا چکے ہیں اور اتنی ہی تعداد شدید زخمیوں کی بتائی جاتی ہے۔اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نامی عسکری تنظیم نے قبول کی مگر حقیقت میں حملہ آورایک مقامی بائیس سالہ نوجوان عادل احمد ڈار تھا ۔حملے کے فوراََ بعد عادل احمد ڈار کا پہلے سے ریکارڈ کیا گیا پیغام جاری ہوا جس میں یہ نوجوان نہایت جذباتی انداز میں ہتھیاروں کے درمیان کھڑے ہوکر بھارت کو للکار رہا ہے ۔جیش محمد کا سربراہ کون ہے اور یہ تنظیم کیا ہے؟ اس سے قطع نظر مگر جان قربان کرنے والا نوجوان ایک مقامی کشمیر ی تھا جس پر درانداز کی اصطلاح بھی لاگو نہیں ہو سکتی ۔وہ اپنے گھر سے تھوڑی ہی مسافت پر ایک میزائل بن کر خود بھی اُڑ گیا اور اپنے ساتھ درجنوں فوجیوں کو بھی ہوائوں میں تحلیل کر گیا ۔نریندر مودی نے کہا دہشت گرد یہ نہ بھولیں کہ انہوں نے مانیکرانیکا کی سرزمین پر حملہ کیا ہے۔مانیکرانیکا کی اصطلاح مودی نے بہت سوچ سمجھ کر استعمال کی ہوگی ۔مانیکرانیکا ہندوستان کی جنگ آزادی کی اہم کردار لکشمی بائی ہیں جو جھانسی کی رانی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ریاست جھانسی کی رانی نے اپنے خاوند مہاراج گنگا کی موت کے بعد جہاں راجہ کے بھتیجے کی سازشوں کا مقابلہ کیا وہیں انگریزوں کو بھی اقتدار پر قبضے سے دور رکھ کر خود تاج وتخت سنبھال لیا اور اس کے بعد رانی نے پے در پے کئی جنگوں میں انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ایک جنگ میں وہ زخمی ہو کرجنگل کی طرف نکل گئیں اور ایک بن باسی کو یہ وصیت کی اس کی چتا کو گمنامی میں آگ لگائی جائے تاکہ انگریز اس کے مردہ وجود کو بھی نہ پاسکیں۔یوں جھانسی کی رانی ہندوستان میںغیروں اور اپنوں کی سازشوں کے مقابل بہادری کا ایک استعارہ بن کر رہ گئی مگر لکشمی بائی انگریز کے خلاف جرات اور بہادر ی کی واحد مثال نہیں تھی بلکہ اس طرح کی مزاحمت سلطان فتح علی المعروف ٹیپو سلطان اور خود مغلیہ سلطنت کے سربراہ بہاد رشاہ ظفر نے بھی کی تھی ۔اول الذکر تومزاحمت کرتے کرتے جان سے گزرگیا اور آخر الذکر کا مقدر رنگون کا عقوبت خانہ قرار پایا۔نریند ر مودی نے اگر بھارت کو جھانسی کی رانی کا ورثہ قرار دیا تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ پھر جھانسی کا تخت کہاں ہے؟ تخت پر قبضے کا پہلا دعوے دارانگریز کون ہے ؟اور تخت پر قبضے کا دوسرا خواہش مند مہاراج گنگا کا قاتل اور بھتیجا علی بہادر کون ہے؟۔پاکستان،بھارت اور کشمیر کے تعلقات کے بھنور میں اگر جھانسی کا تخت کشمیر ہے جس پر بھارت کا قبضہ ہے تو پھر پاکستان انگریز اور خود کشمیری علی بہادر ہیں۔مطلب یہ ہوا کہ بھارت کشمیر کو نہ پاکستان اور نہ کشمیریوں کے حوالے کرے گا۔حقیقت میں اس اُلجھی ہوئی سہ فریقی کہانی میں کوئی انگریز نہیںاور کوئی علی بہادر نہیں۔عادل احمد ڈار کا اگر جھانسی سے تعلق نہیں تو بھی وہ سلطان شہاب الدین کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہے جس نے اپنے وطن کی سرحدوں کو جرات اور بہادر ی سے کشمیر کے پہاڑوں سے برصغیر کی وسعتوں تک دراز کیا تھا ۔اس کے بعد آج تک ایسے ہی کردار جابجا ملتے ہیں ۔ پاکستان ،بھارت اور کشمیر کے مسئلے کو تاریخ کی گہرائیوں اور علامتی اور فلسفیانہ دنیائوں میں لے جانے کا مطلب اسے مزید اُلجھانا ہے۔اس کو اُلجھنے سے بچانے کے لئے اس کی 1947کے بعد کی تاریخ کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور اسی تاریخ کے تناظر میں اس قضیئے کو حل کیا جا سکتا ہے جب ہم کشمیر کے جنوبی ایشیا کے فلیش پوائنٹ ہونے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے۔یہ صرف پاکستان کی ناک اور انا کا سوال نہیں بلکہ کشمیریوں کی عزت ،انا اور آزادی کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان اپنے طور پر بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے کئی تجربات کر چکا اور بھارت کشمیریوں کے ساتھ دوطرفہ اصول کی بنیادپر معاملات طے کرنے کی کوششیں کر چکا مگر نتیجہ صفر +صفر=صفر کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا۔عادل احمد ڈار کی چھاتی پر کسی بھی تنظیم کا سٹکر ہو مگر اس کا کشمیری ہونا ،مقامی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کشمیر میں اگر اضطراب ہے تو کوئی وجہِ اضطراب بھی ہوگی۔کوئی وجہ تو ہے کہ کئی پی ایچ ڈی سکالر بندوق اُٹھا کر جان لڑا اور گنو ابیٹھے ۔پی ایچ ڈی سکالر کسی کچے ذہن اور جذباتی روح کا نام نہیں ایک محقق کا نام ہوتا ہے جس نے ٹھنڈے دل وماغ سے تحقیق کرکے ڈگری حاصل کی ہوتی ہے ۔’’ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘‘ کے مصداق جھانسی کی رانی کی کہانی چھیڑے بغیر بھارت بس اس بات پر غور کرے تو سر ی نگر سے دہلی اور لاہور تک مائوں کے بین ہوں نہ گھر ماتم کدے بنیں۔کسی کی آنکھوں سے خواب چھنیں نہ کوئی آنکھ بے نور ہو۔جھانسی کی رانی ،ٹیپو سلطان ،سلطان شہاب الدین اور سلطان زین العابدین کی باتوں کو چھوڑ کر نہرو،جناح ،ہری سنگھ،شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس کے دور میں رہ کر ہی اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا تلاش کیا جاسکتا ہے۔یہ بات خود بھارت کے ذی ہوش لوگ بھی کر رہے ہیں۔اونتی پور حملے کے بعد بھارت کے معتبر اخبار’’ ہندوستان ٹائمز ‘‘نے بھی اپنے اداریے Kashmir; The Centre must choose options carefully میں لکھتا ہے کہ’’ دہشت گردوں کا پیچھا ضرور کرنا چاہئے مگر یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ایسے میں صبر کرنا حد درجہ مشکل ہے جب آپ کے فوجی اتنی بڑی تعداد میں مارے گئے ہوںمگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دہشت گردی کے نہاں خانہ ٔ دل میں سیاست ہی موجزن ہوتی ہے ۔سپاہیوں کو زمین پر تعینات کرنا ہوتا مگر انہیں مرنا نہیں چاہئے ۔بھارت ردعمل ظاہر کرے مگر یہ منحوس حقیقت یاد رکھے کہ یہ مقامی لوگ ہیں جو اپنے جسموں کو میزائل بنا نے پر آمادہ ہوتے ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں