Daily Mashriq

آزاد میڈیا کی ضرورت

آزاد میڈیا کی ضرورت

پاکستانی میڈیا اور اس سے وابستہ لاکھوں ورکرز آج مشکل دور سے گزر رہے ہیں، حکومت میڈیا بحران کو وقتی اور مصنوعی قرار دے رہی ہے، وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا موجودہ دور کی ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھ پایا ہے ان کے نزدیک اگر جدید ٹیکنالوجی کو اپنا لیا جائے تو میڈیا بحران ازخود ختم ہو جائے گا جبکہ میڈیا مالکان اور اس سے وابستہ لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت دیگر بحرانوں کی طرح میڈیا بحران کو بھی سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں 1958ء کے پہلے مارشل لا کے بعد سے کبھی بھی آزاد صحافت کرنا آسان نہ تھا، تاہم گزشتہ کئی عشروں سے صحافت اور صحافتی ادارے جبر کے مکمل شکنجے میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ تب ہی تو آج کی صحافت ’’بیان یاتی‘‘ ہوکر رہ گئی ہے۔ پاکستانی میڈیا اور میڈیا سے وابستہ وہ ورکنگ جرنلسٹ ہوں یا وہ مالکان جنہوں نے صحافت کو بطور کیریئر اختیار کیا، اپنی تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود آزاد صحافت کے علَم کو تھامے ہوئے ہیں، انہی کے عزم اور حوصلوں نے سچائی جاننے اور عوام کے سامنے حقائق پیش کرنے کے مشن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ میڈیا کو دباؤ سے آزاد کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے ’’فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے‘‘ میں واضح ہدایت دے دی ہے۔ اس پر عمل درآمد کرنا حکومت سمیت ریاست کے تمام اداروں کی آئینی ذمہ داری بھی ہے اور عافیت کا راستہ بھی یہی ہے۔میڈیا سے وابستہ سب ہی لوگوں کو اپنے اندر ’’خود احتسابی‘‘ کے نظام کو عملی طور پر بروئے کار لانا پڑے گا جس کے کمزور ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں ’’بیان یاتی اور مفاداتی صحافت کرنے والی مخلوق غالب ہوتی ہے‘‘۔ صحافت کو بطور کیریئر اختیار کرنے والے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اس ضابطہ اخلاق پر کاربند رہنے کے پابند ہیں جسے دنیا بھر کے آزاد اور غیرجانبدار میڈیا سے وابستہ صحافی اور ان کی پیشہ ورانہ تنظیمیں تسلیم کرتی ہیں۔ جس کے مطابق وہ اپنی ذاتی پسند وناپسند، سیاسی ونظریاتی نقطۂ نظر اور مذہبی رجحانات سے قطع نظر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے حق یا مخالفت میں ایکٹوسٹ نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ وہ کسی ایک جماعت کو پسند اور کسی دوسری جماعت سے اختلاف تو رکھ سکتا ہے مگر اپنے اختلاف کو کسی کی دشمنی کیلئے وجہ جواز نہیں بنا سکتا۔ تاہم وہ اپنے گرد وپیش رونما ہونے والے واقعات سے نہ تو بے خبر رہ سکتا ہے اور نہ ہی کسی واقعہ کی رپورٹنگ، تجزئیے یا تبصرے میں ان زمینی حقائق کو نظرانداز کرسکتا ہے جو اس کے سامنے پیش آتے ہوں یا اس کی تحقیق یا مصدقہ ذرائع سے اس کے علم میں آئے ہوں۔ قائداعظم نے درست فرمایا تھا کہ صحافت ایک عظیم طاقت ہے جو فائدہ بھی پہنچا سکتی ہے اور نقصان بھی۔ اگر یہ صحیح نہج پر ہو تو اس سے رائے عامہ ہموار کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے‘‘۔ خود قائداعظم نے حصولِ پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد میں مسلم میڈیا کو فعال، متحرک اور منظم کرکے مسلمانانِ برِصغیر کو آل انڈیا مسلم لیگ کے حق میں ہموار کیا تھا۔ قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام اخبارات وجرائد کا اجرا بھی کیا اور دوسرے اخبارات وجرائد کو مسلم لیگ کے مؤقف کی حمایت کرنے پر رضامند بھی کیا۔ قائداعظم کے نزدیک میڈیا کی کیا اہمیت تھی، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے زیراہتمام جاری ہونے والے اخبارات کے انتظامی معاملات کی نگرانی میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے تھے۔ قائداعظم نے صرف مسلم لیگ کے زیرانتظام شائع ہونے والے اخبارات وجرائد پر ہی توجہ نہیں دی تھی بلکہ پورے ہندوستان میں شائع ہونے والے مسلمانوں کے ان تمام اخبارات وجرائد کی حمایت حاصل کرنے پر بھی توجہ دی جو انگریزی، اردو، بنگالی، سندھی، پشتو یا دیگر علاقائی زبانوں میں شائع ہوتے تھے۔ قائداعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی مسلسل اور اَنتھک جدوجہد کے نتیجے میں پورے ہندوستان کا کوئی صوبہ اور کوئی بڑا شہر ایسا نہ تھا جہاں سے پاکستان کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کرنے والا اخبار یا جریدہ شائع نہ ہوتا ہو۔ قائداعظم کی مساعی سے اورینٹ پریس آف انڈیا کے نام سے مسلمانوں کی ایک خبر رساں ایجنسی اور دہلی میں مسلم جرنلسٹ فیڈریشن بھی قائم ہوئی تھی۔ مئی1947ء میں دہلی کے اینگلو عربک کالج کے ہال میں آل انڈیا مسلم نیوز پیپر کنونشن منعقد ہوا تو اس میں ہندوستان بھر سے آئے ہوئے 54اخبارات وجرائد کے مدیران نے شرکت کی تھی۔ اس کنونشن کا افتتاح آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل نوابزادہ لیاقت علی خان نے کیا تھا۔ اس حوالے سے ’’قائداعظم اور مسلم اخبارات کا اجرا‘‘ کے عنوان سے کئی برس قبل تحریکِ پاکستان اور قائداعظم پر تحقیق کرنے والے معروف محقق خواجہ رضی حیدر نے تفصیلی مضمون لکھا تھا۔ معلوم نہیں کہ وہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے یا نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد چلنے والی تمام تحریکوں میں بھی پاکستانی میڈیا نے اہم رول ادا کیا ہے۔ خود جو ادارے اور جو جماعتیں آج آزاد میڈیا کو اپنا تابع مہمل بنانے کے خبط میں مبتلا ہیں، ان کی مثبت امیج بلڈنگ میں آزاد میڈیا نے ہی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے میڈیا کو ہاؤس اریسٹ سے رہائی دی جائے اور ان قوتوں اور افراد کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے جو میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نئی قانون سازی کے ذریعے اسے ہاؤس اریسٹ سے پسِ دیوارِ زنداں ڈالنے کے خواہش مند ہیں۔

متعلقہ خبریں