Daily Mashriq


سعودی عرب میں قیدپاکستانیوں کا معاملہ

سعودی عرب میں قیدپاکستانیوں کا معاملہ

سعودی ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورہ پر ہیں۔ اُن کا یہ دورہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس دورے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میںتاریخی سرمایہ کاری کی توقع کی جا رہی ہے۔گزشتہ برس پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی دگر گوں معاشی حالت بہتر کرنے کی غرض سے اپنے دوست ملک کی مدد لینے ریاض کا دورہ کیا تھا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو چھ ارب ڈالر کی امدادموصول ہوئی تھی۔ سعودی امداد اس حوالے سے بھی خو ش آئند ہے کہ اس کے بعد پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو ایک قوی سہارا ملنے کی اُمید ہے البتہ اس دورے پر ایک اور اہم معاملہ بھی حکومت کی توجہ کا مستحق ہے۔ عمران خان کو سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کے مسئلے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر اس ملاقات کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی جیلوں میں اس وقت تقریباً تینتیس سو سے زائد پاکستانی شہری قید ہیں اور انتہائی قریبی روابط ہونے کے باوجود شاہی حکومت کی جانب سے موت کی سزا پانے والے قیدیوں میں پاکستانیوں کی تعداد دیگر ممالک کے قیدیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے پچھلے پانچ سالوں کے دوران تقریباًایک سو کے قریب پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دی گئی جن میں بیس کو 2014، بائیس کو 2015،سات کو 2016، سترہ کو 2017 اور تیس کے قریب پاکستانیوں کو گزشتہ برس سزائے موت دی گئی۔ پاکستان کی پچھلی حکومتو ںکی جانب سے بھی اس معاملے کو خاطر خواہ توجہ نہ مل سکی اور حکومت کی طرف سے اپنے اسیر قیدیوں کو سفارتی اور مالی امدادفراہم کرنے کے لیے بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا سال 2017 میں دیا گیا بیان حکومت کے اس غیر ذمہ دار رویے کی قلعی کھولتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’’یوں معلوم ہوتا ہے کہ تارکین وطن اور بالخصوص عرب ممالک میں قید پاکستانیوں کے حوالے سے کوئی پالیسی تشکیل نہ دینا ہی حکومت کی پالیسی ہے۔ ‘‘ 13فروری کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ سعودیہ میں قید پاکستانی قیدیوں کا مسئلہ ولی عہد محمد بن قاسم کے سامنے اُٹھایا جائے گا اور خاص طور پر وہ قیدی، جو معمولی جرائم میں قید ہیں،کے ساتھ نرمی کرنے کی درخواست بھی کی جائے گی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ بھلے دیر سے ہی صحیح،حکومت کو اپنے بیرون ملک قیدیوں کو خیال تو آیا۔ آئینی طور پرحکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے شہری خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، وہ اپنے شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ کرے اور یہ ذمہ داری ایسے قیدیوں کے حوالے سے مزید سخت ہو جاتی ہے جنہیں شدید سزائیں دی گئی ہوں۔ بدقسمتی سے بیرون ملک مقدمہ بھگتنے والے پاکستانیوں کو کسی سفارتی امداد یا وکیل کے بغیر، متعصب مترجم کے ساتھ ہی مقدمہ لڑنا پڑتا ہے۔ انہیں مقامی قانون سے ناواقفیت، غیر ملکی عدالتوں سے ابلاغ نہ کر پانے اور پاکستان سے اپنی بے گناہی کے ثبوت اور ضروری دستاویزات نہ منگوا سکنے کے باعث شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی سزائے موت پر تواتر سے اُس وقت عمل درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ اس کا پاکستانی حکومت کے ساتھ قیدیوں کی حوالگی کا معاہدہ طے پانے کوہے۔ یہ معاہدہ ان ہزاروں قیدیوں کی باعزت وطن واپسی یقینی بنائے گا جو بیرون ملک قید ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس معاہدے کے بعد ان ملزمان کے جرائم کی شفاف تفتیش اور باقی ماندہ سزا اپنے وطن میں کاٹنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ گزشتہ برس مارچ میں اس وقت کی حکومت نے چین اور سعودی عرب کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے معاہدے کے حوالے سے کچھ پیش قدمی کی تھی اور وفاقی کابینہ سے اس کے لیے منظوری بھی لے لی گئی تھی ۔مگراس میں خارجہ امور ،دفاع اور قانون کی وزارتوں کی جانب سے اپنا مؤثر کردار ادا نہ کرنے کے باعث یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ اس غیر ذمہ دار اور کاہل رویے کے باعث ہم ان اٹھارہ پاکستانیوں کی مدد کے لیے کچھ نہیں کر پائے جنہیں پچھلے برس اپریل سے اب تک کے دوران ملک سے باہر سزائے موت دے کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔ یہ وہ شہری تھے جنہیںمعاہدہ طے پا جانے کی صورت میں اپنے گھر اور پیاروں سے ملایا جا سکتا تھا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے سال 2015میں بیرون ملک قیدیوں کے تبادلے کے تمام معاہدے معطل کر دیے تھے جنہیں پچھلے برس اپریل میں سپریم کورٹ کی جانب سے دوبارہ بحال کیا گیا تھا۔ البتہ موجودہ حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ متحدہ ارب امارات اور برطانیہ سے اس معاہدے کی نئی شقوں پر بات چیت کر رہی ہے، ایسی صورت میں یہ معاہدہ اس وقت کس حالت میں نافذ ہے، اس میں کچھ قانونی ابہا م پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کو سعودی حکومت کے سامنے یہ مطالبہ رکھنا ہوگا،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں