Daily Mashriq

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

بھارت پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ دے گا، امریکہ کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، پاکستان صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ بن جائے گا ، اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی ملک میں صدارتی نظام رائج ہوگا، پاکستان دنیا کے نقشہ میں سپر پاور بن کر سارے عالم پر حکمرانی کرے گا ، یہ اور اس قسم کی بہت سی پیشن گوئیاں اہل کشف و کرامات کی جانب سے بھی کی جارہی ہیں ، سفلی علوم جاننے والے بھی بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں اور افواہ سازافواہ طرازی کو آلہ سیاست بنانے والے بھی ایسی ہی لن ترانیاں کرتے نظر آرہے ہیں ، جب اس قسم کی باتیں گردش کرنے لگیں تو مجھ جیسے سطحی علم والے ’واللہ عالم بالصواب‘ کے سوا کہہ بھی کیا سکتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے ارد گرد پھیلی دنیا کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں جتنا ہمارے عقل و شعور کے دائرہ اختیار میں ہے، جبھی تو ہم اپنے ارد گرد پھیلی ماورائی دنیا کے بارے میں نت نئے مفروضے قائم کرکے اپنے تجسس کو طفل تسلیاں دینے لگتے ہیں ، توہم پرستی کا شکار ہوکر ایسی ایسی حرکتیں کرنے لگتے ہیں جن کو ہر بات میں گناہ کی بو محسوس کرنے والے شرک اور بدعت کے طعنوں سے موسوم کرنے لگتے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ غیب کا علم خدا جانتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خدائے لم یزل نے انسان کو اس کرہ ارض پر اشرف المخلوقات ہی نہیں اپنا خلیفہ یا نائب بھی بنا کر بھیجا ہے اور یوں حضرت انسان نے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

کا اقرار کرکے قدرت کے سربستہ راز جاننے کے لئے تلاش اور جستجو کے در دریچے کھول دئیے ۔انسان رب کن فیکون کی کائنات کی وسعتوں کو پاٹ نہیں سکتا ۔ لیکن ان وسعتوں کا اندازہ ضرور لگا سکتا ہے،

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے خالق کائنات کی اس وسیع و عریض کا ئنات کا مطالعہ کرنے کے لئے ’اقراء باسم ربک الذی خلق‘ جیسے حکم ربانی اور آیت قرآنی کی تعمیل ضرور کرسکتا ہے، سواس دعوت فکر پر عمل کرتے ہوئے اگر وہ غیب کا علم نہ جان کر بھی بہت کچھ جان گیا اور یوں وہ مستقبل بینی کرنے کے قابل ہوگیا ۔ علم نجوم علم الاعداد علم جفر دست شناسی قیافہ شناسی ، ٹیلی پیتھی ، قیاس آرائی کشف و کرامت اور اس نوعیت کے دیگر علوم یا خداداد صلاحیتوں نے اس کے آگے تحیر کدہ جہاں کے در کھول کر رکھ دئیے۔ اللہ کے جن نیک اور برگزیدہ بندوں کو عبادتوں ریاضتوں اور چلہ کشیوں کے بعد مستقبل بینی کی صلاحیتیں نصیب ہو ئیں ان میں سے کچھ لوگوں کے نام رہتی دنیا تک باقی رہ گئے ، ہم قیامت اور آثار قیامت کے متعلق احادیث نبوی ﷺسے مستفید ہوکراپنے اجتماعی مستقبل کے متعلق اگر کچھ عرض کرسکتے ہیں تو دوسری طرف اللہ کے نیک بندے آنے والے وقتوں کے متعلق ایسی ایسی پیشن گوئیاں کر گئے ہیں جن کو حرف بہ حرف سچ ثابت ہوتا دیکھ کر ہم انگشت بدنداں ہیں۔حضرت رحمان بابا علیہ رحمت کہتے ہیں کہ میں نے ان درویشوں کی رفتار دیکھی ہے جن کا ایک قدم عرش تک جاپہنچتا ہے ایسے لوگوں کو عرف عام میں پہنچے ہوئے بزرگ کہا جاتا ہے ، ہونگے ایسے لوگ اب بھی اس دنیا میں ، لیکن ان میں سے اکثر داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ، لیکن ان کی بتائی ہوئی پیشن گوئیاں اب بھی اہل خرد کو نہ صرف حیران کر رہی ہیں بلکہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوکر اپنا آپ منوارہی ہیں ، آج کل حضرت نعمت شاہ ولی علیہ رحمت کی پیشن گوئیوں کا چر چا زبان زد خاص و عام ہے ۔ آپ شام کے شہر حلب میں پیدا ہوئے ، اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے کے بعد آپ ایران تشریف لے گئے اور وہیں رحلت فرمائی ایک حوالہ کے مطابق آپ آج سے کم وبیش آٹھ سو پچاس برس پہلے کے صاحب کشف و کرامت ولی اللہ ہو گزرے ہیں ، آپ ان کی حیرت انگیزحد تک سچ ہونے والی پیشن گوئیوں کی سچائی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے فاتح عالم تیمور لنگ اور مغلیہ سلطنت کے بہت سے بادشاہوں کے نام ان کی پیدائش سے بھی بہت پہلے بتادئیے تھے ، مغلیہ دور حکومت کے زوال ، دلی پر نادر شاہی حملہ ، برصغیر پر انگریزوں کی آمد ، گورو نانک کا سکھ دھرم ، جنگ عظیم اول ، جنگ عظیم دوم ، جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ کا کمزور ہونا اور برصغیر سے نکل بھاگنا ، اور کشمیر کو دانستہ طور پر ایک خون ریز مسئلہ بنا کر چھوڑ دینا ، 1965کی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ، سکوت ڈھاکہ ، وغیرہ کے علاوہ اور بہت کچھ ساڑھے آٹھ سو برس پہلے اس عظیم المرتبت فارسی شاعر نے اپنے اشعار میں بتا دیا تھا۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے پاکستان کی موجودہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے یہاں پنپنے والی کرپشن کا بھی ذکر کیا اور بھارت میں مذہبی تعصب اور مسلم کش فساد برپا ہو نے کا بھی تذکرہ کیا جس کے نتیجے میں شمال مغرب کی طرف سے ترکی چین اور ایران کا یکجا ہوکر بھارت کے مسلمانوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا اور بھارتی سورماؤں کو ناکو ں چنے چبوا کر فتح و کامرانی حاصل کر نا شامل ہے ۔ اگر چہ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی ان پیشن گوئیوں پر تنقید کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ، اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سرے سے علوم مخفی کو تسلیم ہی نہیں کرتے ، لیکن یہ بات بھی غلط نہیں کہ

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

متعلقہ خبریں