Daily Mashriq


پہلے مرحلے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بڑی رقم ہے، سعودی ولی عہد

پہلے مرحلے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بڑی رقم ہے، سعودی ولی عہد

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروادی جبکہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے کہا کہ ’پہلے مرحلے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بڑی رقم ہے‘۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیے گئے عشایے میں خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ‘میں آج پاکستان میں بہت خوش ہوں، ہمارے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں اور ہم نے ہر مشکل اور سازگار حالات میں ساتھ مل کر کام کیا ہے’۔

باہمی تعاون کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ ‘ہم اسی تعاون کو جاری رکھیں گے، بالخصوص پاکستان کا عظیم قیادت کے ساتھ بہترین مستقبل ہے’۔

پاکستانی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد بن سلمان نے کہا کہ 'گزشتہ برس پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 5 فیصد سے زائد تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں پاکستان بہت اہم ملک بننے جارہا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اس کا حصہ ہیں‘۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ ہمیں انتظار ہے کہ آپ ہمارے شراکت دار ہوں گے اور ہم کئی امور ساتھ انجام دیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آج مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کردیئے، پہلے مرحلے میں سعودی سرمایہ کاری کی مالیت 20 ارب ڈالر کی ہے اور پہلے مرحلے کے لیے یہ بہت بڑی رقم ہے۔‘

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے مہینے اور سال کے ساتھ سعودی سرمایہ کاری میں بڑے اعداد و شمار کے ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ انہوں نے سیاحت سے متعلق بھی بات چیت کی ہے اور بتایا کہ اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ سیاح سعودی عرب کا دورہ کر سکتے ہیں جبکہ ریاض کے پاس 5 کروڑ سیاحوں کو ملک میں داخلہ دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 15 سے زائد برسوں میں سعودی عرب کا ہدف 10 کروڑ سیاحوں کے دوروں کا ہے جو ہمارے لیے بہت آسان ہے کیونکہ سعودی عرب میں تاریخی ورثہ، قدرتی مناظر، عظیم لوگ، انفراسٹرکچر اور استحکام سمیت سب کچھ ہے اور اس حوالے سے سرمایہ کاری کے لیے مالی ذرائع اور مواقع بھی ہیں۔

محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب مل کر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے امور پر کام کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک اس خطے کو شاندار مستقبل دیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے خطے (مشرق وسطیٰ) پر یقین رکھتے ہیں اس لیے یہاں سرمایہ کررہے ہیں اور ایک دن ’عظیم مشرق وسطیٰ‘ بنے گا اور اس کے مشرق میں پاکستان ہوگا’۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ ولی عہد بننے کے بعد ان کا سعودی عرب کے مشرقی ممالک کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں پاکستان پہلا ملک ہے جہاں انہوں نے دورہ کیا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے عظیم دن ہے، عمران خان

عشائیے سے قبل وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے لیے آج عظیم دن ہے، سعودی عرب ہمیشہ سے ہمارا دوست رہا ہے، اس نے ہمیشہ پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اس لیے اسلام آباد ہمیشہ سعودی عرب کی قدر کرتا ہے۔

وزیراعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ تعاون کرنے پر میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو نئے سطح پر لے کر جارہے ہیں جہاں سرمایہ کاری کے معاہدے دونوں ممالک کے لیے سود مند ثابت ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب سے ہماری محبت کی ایک وجہ مکہ و مدینہ بھی ہیں، میرے لیے مکے اور مدینے کا سفر سب سے بڑا اعزاز ہے، دونوں ممالک میں سیاحت کے میدان میں بہت مواقع ہیں۔

وزیراعظم نے سعودی عرب کو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک تاب ناک مستقبل ہے جہاں سعودی عرب ہمارا شراکت دار ہے‘، انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگلے 10 برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی مزید بڑھے گی’۔

'مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں'

سعودی ولی عہد نے وزیراعظم پاکستان کی درخواست پر سعودی عرب میں قید پاکستانیوں اور مزدوروں کے معاملے کا جائزہ لینے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو کچھ کر سکے ضرور کریں گے۔

قبل ازیں عمران خان نے ولی عہد سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستانی حجاج کرام کو پاکستان میں امیگریشن کی سہولت فراہم کریں۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے کہا کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں روزگار سے وابستہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے دوری جھیلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 ہزار پاکستانی معمولی جرائم کے باعث سعودی جیلوں میں قید ہیں، وہ غریب ہیں اور ان کے بچے اور اہل خانہ یہاں پاکستان میں انتہائی پریشان ہیں، میری سعودی عرب سے خصوصی درخواست ہے کہ وہ ان مقید پاکستانیوں کو اپنے لوگوں کی طرح سمجھیں کیونکہ ہم سعودیوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور اسی طرح آپ بھی انہیں اپنا سمجھیں۔

متعلقہ خبریں