Daily Mashriq


ایران حملہ: پاکستان کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی

ایران حملہ: پاکستان کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی یقین دہانی

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاسداران انقلاب کی بس پر حملے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب جاوید ظریف سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ پیشکش کی اور اب پاکستان کا وفد ایران کے تحفظات جاننے کے لیے جلد تہران کا دورہ کرے گا۔

بدھ ہونے والے حملے میں 27 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد یہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلی مرتبہ اعلیٰ سطح کا رابطہ ہوا ہے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب فوجی دستے ایران کے شہر زاہدان اور خش کے درمیان سفر کر رہے تھے اور اس حملے کی ذمے داری دہشت گروپ جیش العدل نے قبول کی تھی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے میں ایرانی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس علاقے میں ماضی میں بھی کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں اور اکتوبر میں جیش العدل کی جانب سے اغوا کیے گئے ایرانی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پاکستان نے مدد کی تھی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس گفتگو کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

البتہ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی مشرقی ایران میں کیے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

ایران کے سپریم لیڈ آیت اللہ خامنائی نے خطے کے چند ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں پر حملے کا الزام عائد کیا البتہ پاسداران انقلاب نے دہشت گرپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان پر الزام عائد کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے پاکستان میں ٹھکانے ہیں اور دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے مذکورہ دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی نہ کی تو ایران اس کا بدلہ لے گا۔

پاسداران انقلاب پر حملے کے بعد ایران میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بھارت اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے ہفتے کو بلغاریہ جاتے ہوئے ایران میں مختصر قیام کیا تھا۔

ملاقات کے دوران انہوں نے پاسداران انقلاب پر حملے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوج پر کیے گئے حملے پر بھی بات کی تھی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس ارگچی نے ملاقات کے بعد سماجی رابطوں کی ویب ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھی کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بھارت اور ایران میں بدترین دہشت گرد حملے ہوئے جس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ آج بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے ایران میں قیام کے دوران میری ان سے ہونے والی ملاقات میں ہم نے خطے میں دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون پر رضامندی ظاہر کی۔ بس اب بہت ہو چکا۔

ومی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر گفتگو کی گئی۔ پارلیمانی کمیشن کے ترجمان علی نجف خشروی نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے اجلاس میں دہشت گرد گروپوں کی جانب سے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔

حملے کے بعد ایران میں پاکستانی سفیر رفعت مسعود کو ایرانی وزارت خارجہ طلب کرکے ان سے احتجاج کیا گیا جبکہ پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنردوست نے راولپنڈی میں پاکستان کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔

متعلقہ خبریں