Daily Mashriq

حکومت پر بیرونی اور اندرونی دباؤ

حکومت پر بیرونی اور اندرونی دباؤ

پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کا وفاقی وزرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان پارٹی قیادت کیلئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے۔ اراکین اس بات پر مشوش تھے کہ حکومت کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ اراکین کے مطابق مہنگائی کی موجودہ لہر کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں اور ان کے حلقوں کے لوگ اس بارے میں سوالات بھی کرتے ہیں جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین کی جانب سے وزراء کی کارکردگی اور خاص طور پر اراکین اسمبلی کیساتھ اُن کے رابطوں سے گریز کے عمل پر خاص طور پر شکوے سامنے آئے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب حزب اختلاف کی جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں اور حکومت کی حمایت کرنے والی جماعت بی این پی نالاں ہونے کا واضح اعلان کر چکی ہے ایسے میں تحریک انصاف کی اندرونی صفوں میں قرب کی بجائے بعد کا تاثر سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے جو مخالف عناصرکا حوصلہ بڑھانے کے مترادف ہوگا۔ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد پر شاید فوری طور پر حکمران جماعت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو لیکن اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے اتحادیوں کیساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کیا اور خاص طور پر اپنے اراکین کو مطمئن نہ کر سکا تو وہ دن زیادہ دور نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کو سخت خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں کافی معاملات میں ہم آہنگی اور پس پردہ مشاورت ومعاملت کے بعد اب فرنٹ فٹ پر آکر کھیلنے کی پوزیشن میں خود کو واضح کر رہے ہیں جبکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا تقریباً فیصلہ کر چکے ہیں اس کے باوجود بہت سارے معاملات اور عوامل کے باعث ہنوز دلی دور است کا معاملہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ البتہ اگر پی پی پی اور مسلم لیگ ن دیگر جماعتوں کی مشاورت سے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا معرکہ سر کر لیتے ہیں اور متفقہ طور پر چیئرمین سینیٹ لانے میں ان کو کامیابی ہوتی ہے تو اس کے بعد ایوان زیریں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے کی فضا ہموار ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو کسی ایک شخص کے نام پر اتفاق رائے کرنے میں زیادہ اختلاف رائے کا سامنا شاید اس لئے نہ ہو کہ مسلم لیگ ن سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی کو صادق سنجرانی کے مقابلے میں متفقہ چیئرمین سینیٹ بنانے کا عندیہ دے چکی ہے۔ علاوہ ازیں رضا ربانی کی شخصیت اور اس عہدے پر وقار سے فائز ہونے کے باعث چیئرمین سینیٹ کیلئے شاید ان سے موزوں شخص دوسرا نہ ملے۔ بہرحال یہ صرف اندازے ہی ہیں وگرنہ سیاسی شب وروز تغیرات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ مخالف سیاسی جماعت اپنی ہی حریف جماعت کے رکن کا نام کسی عہدے کیلئے پیش کرے اور یقینی کامیابی کے باوجود وہ جماعت چیئرمین سینیٹ کا عہدہ کسی اور کے نامزد کردہ شخص کی جھولی میں ڈال دے۔ جو مجبوری اور الم اس قسم کے فیصلے کا باعث تھی وہ اب بھی ہے یا نہیں اور پلوں کے نیچے بہتا پانی ان میں سے کتنی مجبوریوں کو ساتھ بہا کر سمندربرد کر چکی ہے یا پھر بھاری پتھر بلکہ چٹان ویسا کا ویسا منجدھار کی زد میں ہے۔ بظاہر تو چٹان نہ صرف بدستور منجدھار کی زد میں ہے بلکہ پانی کے منہ زور ریلے نے آس پاس کی زمین کٹاؤ کا شکار بنا کر بہا لیجا کر چٹان کا توازن مزید بگاڑ دیا ہے۔ بہرحال کچھ سخت جان ہونے کا چٹان نے بھی احساس دلایا ہے اور کچھ پانی کی بے ہنگم موجوں کو طوفانی ہواؤں کے تھپیڑوں نے تھما سا دیا ہے مگر کشمکش سے اب بھی حالات نکلے نہیں۔ آج کی ایک بڑی تبدیلی کے بعد رخ طوفان اور موجوں کی قوت وہیئت سے افق اور سمت کا قدرے اندازہ ممکن ہوگا۔ یہ ساری صورتحال مفروضے اور اندازے ہی سہی لیکن جو صورتحال تحریک انصاف کیلئے تکلیف دہ حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے وہ ان کے اپنے اراکین کی جانب سے اپنی ہی حکومت اور وزراء کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار اور عوامی سوالات ودباؤ کا سامنا کرنے میں شدید مشکلات کی شکایات ہیں، جن پر فوری توجہ ہی کافی نہ ہوگی بلکہ ان تحفظات وشکایات کو جلد سے جلد دور کرنے کی سبیل تلاش کرنی ہوگی وگرنہ یہی کمزوری دراڑ کی صورت میں نہ سہی بددلی، بیزارگی اور لاتعلقی کی صورت میں سامنے آئے تو تحریک انصاف کی قیادت میں ایسے شناوروں کی تعداد کم ہی دکھائی دیتی ہے جو ا س خلیج کو زور بازو سے پار کر کے سینہ چاکان چمن کو سینہ چاکوں سے جوڑے رکھنے کی تدبیر کر سکیں۔ تحریک انصاف کا معاملہ حزب اختلاف کیساتھ جو بھی ہو اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے والے معاملات پر سب سے پہلے توجہ دینا ہوگی۔ حزب اختلاف کا دباؤ نہ ہوتا تو شاید تحریک انصاف کے ان ناطقیں کو مزید کافی عرصہ پھٹ پڑنے کا موقع نہ ملتا اور نہ ہی ایم کیو ایم کی قیادت سے وزیراعظم نیازمندانہ ملاقات کیلئے وقت نکالتے۔ تحریک انصاف کے پاس اپنے اراکین اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کامیاب سعی کے علاوہ کوئی موزوں راستہ نہیں۔ یہ باقی نہ رہے تو چھتری بھی طوفانی بگولوںکو زیادہ دیر روکنے کے قابل نہیں رہ سکے گی۔

متعلقہ خبریں