Daily Mashriq

جعلسازوں کی نشاندہی اور کارروائی مہم کی ضرورت

جعلسازوں کی نشاندہی اور کارروائی مہم کی ضرورت

مستند ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کے مرکز ڈگری گارڈن میں ایک نرس کا گائناکالوجسٹ بن کر دلالوں کے ذریعے دھندہ چلانا اور آپریشن جیسا نازک اور پیچیدہ کام کی انجام دہی جہاں صحت سے متعلق حکام کی چشم پوشی‘ ملی بھگت یا سراسر غفلت سے ممکن ہوا‘ یہ سارے معاملات اپنی جگہ، سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اتنے ماہرین صحت اور ہر بڑے ہسپتال میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ڈاکٹروں میں سے کسی کا ضمیر بھی نہ جاگا کہ وہ سادہ لوح مریضوں کی جانوں اور ان کے اعزہ کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے والی اس جعلی گائنا کالوجسٹ کی نشاندہی کرتیں۔ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی تھی اور اپنے پیشے کے احترام کا تقاضا بھی۔ اگر ایک نرس گائنا کالوجسٹ بن کر مریضوں کا علاج کرسکتی ہے، آپریشن تک کر لیتی ہے تو پھر شب وروز محنت کرکے ڈاکٹر بننے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف طبی شعبے ہی میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں یہاں تک کہ صحافت کے شعبے میں بھی پیشے کی بدنامی کا باعث بننے والے جعلی لوگوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ ان کے پیشے کا وقار برقرار رہے۔ اس قسم کی صورتحال اگر ڈبگری گارڈن جیسے صوبے کے مریضوں کی سب سے بڑی اور مہنگی ’’منڈی‘‘ میں ممکن ہے تو مضافات اور دیہی علاقوں میں کیا عالم ہوگا۔ اس ضمن میں صوبے‘ ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ شعبہ طب سے تعلق رکھنے والوں کی خاص طور پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قسم کے افراد کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

سیاسی بنیادوں پر میڈیکل کالجوں کا قیام

ہمارے نیوز رپورٹر کی اس رپورٹ میں جس اہم صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے یہ حکومت کیساتھ ساتھ ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کیلئے یکساں غور وفکر کا باعث امر اسلئے ہے کہ اس کا تعلق انسانی صحت سے متعلق ہے جس سے براہ راست اور بالواسطہ ہر کسی کو واسطہ پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق ادوار میں قائم میڈیکل کالجزکیلئے عمارتوں کا بندوبست کرنے کی بجائے خیبر پختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر نئے میڈیکل کالجز کے قیام سے محکمہ صحت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عمارتوں کیساتھ ساتھ محکمہ صحت کو فیکلٹی ممبران یعنی تدریسی عملے کا بندوبست کرنے میں بھی پیچیدگیوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ کالجز میں بنیادی سائنس کیلئے تدریسی عملے کی تعیناتی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سابق دور میں بھی جتنے کالجز قائم کئے گئے اس کیلئے سٹاف کا مسئلہ شدید رہا جس سے نمٹنے کیلئے محکمہ صحت نے ان کالجز میں سینئر رجسٹرار کے عہدوں پر تعینات ڈاکٹرز کو ایسوسی ایٹ اور پروفیسرز کے عہدوں پر لگا دیا ہے۔ محولہ صورتحال میں تدریس تعلیم وتعلم کا کیا عالم ہوگا اور ان کالجوں سے فارغ التحصیل طلبہ کی قابلیت تجربہ اور استعداد کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ میڈیکل کالجوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن نئے میڈیکل کالجوں کو سیاسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ طبی ضروریات اور ڈاکٹروں کی تعداد وضروریات کو مدنظر رکھ کر مکمل انتظامات کیساتھ بننا چاہئے۔ اب تک جن میڈیکل کالجوں کا باضابطہ قیام عمل میں لایا گیا ہے وہاں جلد سے جلد ضروری سہولیات اور تدریسی عملے کی تعیناتی یقینی بنائی جائے جن میڈیکل کالجوں میں ابھی داخلوں کا مرحلہ نہیں آیا ان کو مؤخر کر کے مکمل انتظامات بشمول عمارت وغیرہ کی سہولیات کا بندوبست یقینی بنایا جائے اس کے بعد ہی داخلے دیئے جائیں۔

شہر بھر میں منشیات فروشی

مشرق فورمز میں تقریباً تمام علاقوں میں منشیات سے متعلق عوام کی شکایات اور مشکلات پولیس چیف کیساتھ ساتھ انسداد منشیات فورس کے حکام کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ منشیات کی کھیپ شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں باآسانی کیسے پہنچتی ہے اور یہ کاروبار کیسے دھڑلے سے ہوتا ہے اس پر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو نہ اس سوال کا جواب ملنا مشکل ہے اور نہ ہی منشیات فروشی کی روک تھام مگر کرے کون؟ یہ صورتحال شہر کے کسی ایک علاقے میں ہوتی تو اتنی تشویش کی بات نہیں تھی تشویش کی بات یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں۔ وزیرمملکت برائے داخلہ کو اسلام آباد کے بڑے نجی تعلیمی اداروں میں منشیات کی وباء کی شرح بارے میں مبالغے کی حد تک رپورٹوں سے تو آگاہی ہوتی ہے کیا ہی بہتر ہوتا کہ وزیرمملکت اپنے آبائی صوبے اور علاقے میں منشیات فروشی اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے بھی آگاہی رکھتے اور ضروری اقدامات پر توجہ دیتے۔

متعلقہ خبریں