Daily Mashriq


اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد

اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد

عام انتخابات کے فوراً بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں نے سپیکر ‘ ڈپٹی سپیکر ‘ وزیر اعظم کے عہدوں کے انتخاب میں مشترکہ طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کا اعلان پانچ ماہ بعد گزشتہ منگل کے روز قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن لیڈروں کے دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد کیا گیا۔اس پانچ ماہ کے دوران یہ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی تھی جس کی بنا پر اپوزیشن اتحاد قائم نہیںہو سکا تھا۔ پیپلز پارٹی نے پہلے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب کے لیے ن لیگ کے میاں شہباز شریف کو ووٹ نہیںدیا۔ پھر عہدہ صدارت کے لیے اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں سینیٹر اعتزاز احسن کو اپنے امیدوار کے طور پر کھڑا کر دیا ۔ اس دوران اخباروں کی سرخیوں اور ٹی وی ٹاک شوز پر کرپشن اور احتساب کی خبریں حاوی رہیں۔ معیشت کی دگرگوں صورت حال کے باعث حکومت ایک طرف غیر ملکی قرضوںکا بندوبست کرتی رہی اور دوسری طرف آئی ایم ایف کا امدادی پیکج نرم شرائط پر لینے کے لیے ملک میں تیل‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتی رہی ‘ اس کے باوجود کسی واضح پالیسی کا اعلان نہ کر سکی۔ اس طرح عوام کے مسائل کماحقہ ‘ سیاست کا حصہ نہ بن سکے۔ چند ہفتے قبل اربوں روپے کے بے نامی بینک اکاؤنٹس کی خبریں آئیں۔ جے آئی ٹی بنی اور اس نے اس منی لانڈرنگ کا سراغ آصف زرداری اور 172افراد تک لگایا ۔ اس پس منظر کے ساتھ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا اتحاد قائم ہوا ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ عوام کا ووٹ لینے والے خواہ وہ حکومت میں ہیں خواہ اپوزیشن میں کرپشن کی بحث سے ہٹ کر عوام کے مسائل کی طرف بھرپور توجہ دینے کی طرف آئیں گے۔ عوام کے مسائل پارلیمنٹ میں زیر بحث آئیں گے اور ان پر سنجیدگی سے بحث ہو گی۔ دوسری طرف حکومتی ارکان کی طرف سے احتساب کے بارے میں جو بیانات آتے ہیں ان میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’موجودہ حکومت نے تو کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا ‘‘۔یہ بات بھی صحیح ہے اس لیے حکومتی ارکان کا ان پر تبصرہ کرنا بھی غیر ضروری شمار ہونا چاہیے۔ لیکن حکومتی ارکان یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ جن اپوزیشن لیڈروں پر الزامات ہیں وہ این آر او لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا سوال اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ’’ کس نے این آر او مانگا اور کب مانگا۔‘‘ آصف زرداری نے کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم عمران خان کو این آر او کی تعریف ہی معلوم نہیں۔‘‘ این آر او جنرل مشرف کے دور میں ایک صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے دیا گیا تھا جس میں سیاسی لیڈروں سمیت کئی سو افراد پر قائم مقدمات ختم کر دیے گئے تھے۔ یہ بات بجا ہے کہ این آر او حکومت نے نہیں دیا تھا اورنہ حکومت اس کی مجاز ہے۔

ان بحثوں میں پانچ ماہ گزارنے کے بعد اپوزیشن کے جس اتحادکااعلان کیا گیا ہے وہ بھی لگتا ہے جلدی میں کیا گیا ہے۔ اتحادیوں نے حکومت کو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ٹف ٹائم دینے کا تو اعلان کیا ہے لیکن اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے ارکان کے نام ابھی طے کیے جائیں گے۔ اس اتحادکے حوالے سے بیانات میں شہباز شریف نے افراط زر ‘ مہنگائی ‘ بے روزگاری اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کوموضوع بنایا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن کے انسانی اور جمہوری حقوق حکومت سلب کر رہی ہے۔ انہوں نے میثاق جمہوریت کی طرف رجوع کرنے کی بھی بات کی ہے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک اعلان میں وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومتوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کا ذکر کیا گیاہے۔ ایک اخبار نے اتحادکی خبر دیتے ہوئے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کی بندش کی بات کی ہے۔ فوری طور پر 23جنوری کو جس منی بجٹ کا وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے اس کے حوالے سے اور فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بل کے حوالے سے ٹف ٹائم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اتحاد کی کسی اساسی بنیادی دستاویز کا حصہ نہیں ہے۔ اور نہ یہ اعلان کیاگیا ہے کہ کب مشترکہ کمیٹی بنے گی اور کب اتحاد کی مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

ان حقائق کی بنا پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اتحاد کے قیام کا اعلان فوری ضرورت یا دباؤ کے تحت کیا گیا ہے مشترکہ حکمت عملی‘ اصولی بنیاد ابھی طے ہونا باقی ہے۔ ابتدائی اعلان کے مطابق فوری طور پر اپوزیشن حکومت کے منی بجٹ کے خلاف صف آرا ہو گی جس کے بارے میں حکومت کا اعلان ہے کہ اس میں کوئی نئے ٹیکس نہیںلگائے جائیں گے۔ دوسرے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا۔ اس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا دو محبوب موضوعات جمہوریت اور معیشت کو سیاسی مکالمہ کا موضوع بنایاجائے گا۔ اس طرح کرپشن اور احتساب کے الزامات ثانوی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ الزامات عدالتوں کے دائرہ کار تک ہی رہنے چاہئیں۔ یہ صورت حکومتی پارٹی کے موقف کے مطابق ہے کہ اس نے ایک بھی مقدمہ قائم نہیں کیا ۔ اپوزیشن کو یہ اتحاد عام انتخابات کے فوراً بعد ہی قائم کر دینا چاہیے تھا ۔ تاکہ حکومت کو صحیح خطوط پر پالیسیاں وضع کرنے میں اپوزیشن کی مشاورت حاصل ہوتی جو جمہوریت کا خاصہ ہے۔ پارلیمنٹ میں عوام کی سنجیدہ اور موثر نمائندگی نظر آتی۔ اس اتحاد کے قیام سے پارلیمنٹ کی کارکردگی بہتر ہونے کی امید کی جانی چاہیے اور توقع کی جانی چاہیے کہ حکومتی پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان محض ایک دوسرے کو طعن طرازی کا نشانہ بنانے کی بجائے اہم ایشوز پر سنجیدہ غور و فکر کرنے میں آسانی محسوس کریں گے ‘ حکومتی پارٹی کے ارکان اپنے محکموں کی کارکردگی اور اپنی حکومت کے اہداف کے بارے میںمکمل تیاری کر کے ایوان میں آیا کریں گے ۔

متعلقہ خبریں