Daily Mashriq

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس سے کسی کو انکار نہیں

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس سے کسی کو انکار نہیں

پاکستان کئی لحاظ سے دنیا کے اہم ممالک میں شامل ہے لیکن اس کا جغرافیہ اسے اہم ترین ممالک میں شمار کروا دیتا ہے اور یہی جغرافیہ ہے جو اس کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر اس کی سرحدیں ایک طرف چین سے جڑی ہیں اور ایک طرح سے یہ اس طرف سے چین تک پہنچنے کیلئے مغرب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو دوسری طرف ہر وقت حالت جنگ میں رہنے والے افغانستان سے اس کی سرحد لگی ہوئی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے مشرق میں بھارت جیسا چالاک ا ور عیار دشمن بھی موجود ہے جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

اُس نے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکا، اس کے حصے میں آنے والا جنگی ساز وسامان اوراثاثے روکے، اس کے قیام کے بعد اس کے اندر سازشیںکیں اور کر رہا ہے۔ پاکستان پر چار جنگیں مسلط کیں اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا دیا گیا۔ بے تحاشہ روایتی اور غیرروایتی جنگی اسلحہ خریدا، ایٹم بم بنایا اور بم بناتے ہی اپنا لہجہ بدل لیا، بلوچستان میں کھلم کھلا مداخلت کرتا رہا اور کر رہا ہے، اس کا حاضر سروس نیوی افسر جاسوسی کرتے ہوئے پاکستان سے پکڑا بھی گیا۔ اس جیسے بے شمار جرائم وہ پاکستان میں کرتا ہے لیکن مغرب میں کبھی کوئی واویلا نہ ہوا لیکن اگر پاکستان اس کے جواب میں بھی کچھ کرے تو اس کیخلاف آوازیں آنے لگتی ہیں اور پاک فوج تو گویا ایک ایسا کانٹا ہے جو مغرب ہو یا مشرق ہر دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا نہیں چبھتا ہے۔ 12جنوری2019 کے اپنے شمارے میں اکانومسٹ نے پاکستان میں غربت کا ذمہ دار پاکستان آرمی کو ٹھہرایا اور بہت سارے الزامات بھی عاید کئے ہیں۔ اُس نے لکھا کہ پاک فوج دہشتگردی کی ذمہ دار ہے اور قیا م پاکستان سے لیکر اب تک منفی طریقوں سے ریاستی نظرئیے کا دفاع کر رہی ہے اور اس بات پر مُصر ہے کہ پاکستان اسلام کے دفاع کیلئے قائم ہوا ہے۔ عوام کی فلاح کیلئے نہیں اُس نے یہ بھی لکھا کہ پاک فوج ظلم وستم کے نظرئیے پر ایمان رکھتی ہے۔ جریدے کے تعصب کی وجہ بھی اس کالم میں سامنے یوں آتی ہے کہ اُس نے لکھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام نہ صرف ملک کی زبوں حالی کی وجہ ہے بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے اور یہاں بھی اُس نے پاک فوج کیخلاف اپنا بغض نکالتے ہوئے اسے مذہبی طور پر متعصب قرار دیا۔ جریدے نے ان تمام باتوں میںپاکستان کا بھارت کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں کیا تاہم برآمدات میں بھارت اور بنگلہ دیش کے پاکستان سے آگے ہونے کی وجہ سے موازنہ کرنا نہیں بھولا۔اگر وہ ان باقی معاملات میں بھی پاک بھارت موازنہ کرتا تو اُسے یہ معلوم ہوتا کہ پہلے ایٹم بم کس نے بنایا،اُسے یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ شدت پسندی کسے کہتے ہیں، اُسے یہ بھی پتہ چلتا کہ اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کہاں ہوتا ہے ۔اُس نے احمدیوں کے بارے میں تو اپنا نکتہء نظر بیان کیا لیکن اسلام کے خلاف اُن کی سازشوں کو بے نقاب نہیں کیا۔اُس نے بلوچستان کے حالات کو اپنے مطابق تو بیان کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہاں کون سرگرم ہے اور پاکستان کی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔اُس نے تاریخ پر بھی نظر نہیں ڈالی کہ اُسے پتہ چلتا کہ بھات نے کیسے پاکستان کے اندر آکر سازش اور مسلح مداخلت کی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنادیا۔ اُس نے چار پاک بھارت جنگوں پر تبصرہ کیا تو بس اتناکہ بھارت کو چاروں کا فاتح بنا دیا۔ کیسے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا ورنہ کشمیر کے آزاد حصے کا ذکر بھی کرتا اور واہگہ پر بھارت کے انجام پر بھی روشنی ڈالتا ۔اُس نے 1971کی بھارتی دہشت گردی کو بھارت کی طرف سے بنگالیوں کی نسل کشُی روکنے کی کو شش قرار دیا لیکن کشمیر کے معاملے پر اُس کے صفحات اندھے کی آنکھ بن گئے اور اُسے نہ تو پیلٹ گن نظر آئی اور نہ وہ بے نور آنکھیں جو اِن بندوقوں کی نذر ہو گئیں اور نہ کشمیری بوڑھے، جوان، مرد ، عورتیں اور بچے جو بھارتی فوجیوں کی بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔اُس نے یہ خود ساختہ انکشاف بھی کیا کہ افغان طالبان لیڈر کوئٹہ میں بنتے ہیں لیکن افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ 17بھارتی قونصلیٹوں یا با الفاظِ دیگر دہشت گرد فیکٹریوں کے بارے اُس نے اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کیا ۔ اگر وہ یہ سارے تقابلی جائزے لیتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہی بھارت کے جنگی جنون کی وجہ سے اپنے وسائل اپنی ترقی کی بجائے اپنے دفاعی معاملات پر خرچ کر رہے ہیں۔یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں کہ دشمن آپ کے خلاف خود کو اسلحے سے لیس کرے اور آپ آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہیں۔ پاکستان ایک آزاد اور زندہ ملک ہے اور اسے اپنی آزادی کی حفاظت ہر صورت کرنی ہے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ اب بھی پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت سے کئی گُنا کم ہے۔ سچ یہ ہے کہ پاک فوج ملکی ترقی میں اپنا اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے بلکہ یہ وہ فوج ہے کہ ملک کو جس شعبے میں اس کی ضرورت پڑی اس نے آگے بڑھ کر اپنے فرائض سے زیادہ اپنا کردار ادا کیا۔جہاں ضرورت پڑی بہترین تعلیم فراہم کی، جہاں ضرورت پڑی صحت کی سہولت لے کر پہنچ گئی، صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا۔ غرض ہر شعبہ زندگی میں اپنا خون پسینہ شامل کیا اور ویسے بھی اِن غیر ملکی طاقتوں اور اِن کے زرخریدوں کو ہمارے اندرونی معاملات کے بارے میں اپنی رائے کا یوں بے جا اظہار کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں