Daily Mashriq

رویوں کا عفریت

رویوں کا عفریت

اگر دیکھا جائے تو فوجی عدالتوں میں توسیع سے زیادہ اہم ترین مسئلہ یا معاملہ یہ تھا کہ گزشتہ چار سال کے دوران جب فوجی عدالت آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کے نتیجے میں آئین میں 21ویں ترمیم کر کے قائم کی گئی تھی اس کے بعد سول عدالتوں کو فعال کرنے، ان کے نظام کو درست کرنے پر توجہ دی جاتی اور اس سلسلے میں کوئی موثر قانون سازی کی جاتی مگر تمام برسر اقتدار پارٹیاں اس سلسلے میں ناکام رہیں بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتیں جو پارلیمنٹ میں موجود تھیں وہ اس معاملے میں ناکام رہی ہیں۔ فوج جس کا بنیادی کام ملک کا دفاع کرنا ہے ان سے ملک کے اندر ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کرایا جا رہا ہے اور ان کے ہی ذریعے دہشتگردوں کو سزا دلوائی جا رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو فوجی عدالتیں جس مقصد کیلئے قائم ہوئی تھیں اس کے مثبت نتائج پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے ہیں، اس راہ میں وہ پرانی قانونی پیچیدگیاں حائل نظر آتی ہیں۔اس وقت حکومت کیلئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا پہاڑ کھڑا ہوا ہے لیکن یہ معاملہ اکیلا حکومت کیلئے مسئلہ نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کیلئے بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کرنے کی حامی نہیں ہے تاہم اس معاملے میں مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ مسلم لیگ ن کے بعض سینئر رہنما یہ چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کردے مگر کچھ مسلم لیگی اس امر پر راضی نہیں ہیںکیونکہ ان کے نزدیک فوجی عدالتوں کا قیام جمہوریت کیلئے بہتر نہیں ہوتا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ جب سول حکومت موجود ہے تو یہ کام سول عدالتوں کا ہے یا سول حکومتوں کا ہے کہ وہ اس میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔مسلم لیگ ن کے سربراہ اور حزب اختلاف کے لیڈر شہباز شریف فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع دینے کے سلسلے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اگر پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے میں اپنے موقف پر قائم رہی تو اس امر کا امکان موجود ہے کہ 15جنوری کو جو اپوزیشن کا اتحاد قائم ہوا ہے وہ بکھر جائے گا جو حکومت کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی معرض وجود میں آگیا ہے۔اس اتحاد کے ذریعے حزب اختلاف کی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر بھی سخت اور مشکل وقت دیں گی جس کی سب سے بڑی وجہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ان کی ٹیم کا رویہ ہے۔عمران خان وزیراعظم بننے کے باوجود اپنا رویہ جو انہوں نے حزب اختلاف کی جماعت کی حیثیت سے اختیارکیا تھا اس میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ اب بھی اسی طرزسیاست کو فروغ دے رہے ہیں جس نے ملک کی دو بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کو اتحاد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں تک فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے میں دونوں جماعتوں نے اب تک کھل کر بات نہیں کی جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتی ہیں، عمران خان کو بحیثیت وزیراعظم اپنے سیاسی روئیے میں تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ ان کیلئے دو بڑی سیاسی جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ ن ہی دردسر نہیں بلکہ ان کے اتحادی بھی اب ان سے کچھ کھچے کھچے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے جو بائیکاٹ کیا گیا ہے اس میں تحریک انصاف کی حلیف جماعت بی این پی بھی شامل تھی۔ حکومت میں رہ کر سیاستدان کو بہت سارے نامقبول فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنے اقتدار کیلئے ایم کیو ایم کیساتھ ہاتھ ملایا حالانکہ ایم کیوایم کو وہ ایک غدار وطن جماعت کہا کرتے تھے۔ سندھ کے معاملے میں دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ پیپلزپارٹی دباؤ میں آجائے یہ ناممکن ہے کیونکہ پیپلزپارٹی کے جو رہنما ہیں وہ پرانے کھلاڑی اور آزمودہ سیاستدان ہیں۔ ایم کیو ایم کیساتھ تحریک انصاف کی یکجہتی کیسی بھی ہو اس کے کوئی خاص اثرات پی پی پی پر نہیں پڑیں گے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت اور خاص طور پر جو بڑی جماعتیں ہیں جن میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے اس کو ختم کر دیا جائے تو یہ بات ناممکن ہے۔ پرویز مشرف نے مسلم لیگ کا کباڑا کرنے کیلئے چوہدری شجاعت حسین کے کندھے پر بندوق رکھ کی فائر کئے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آج چوہدری برادران سیاست کے جس مقام پر کھڑے ہیں اس سے ہی اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوامی مقبولیت رکھنے والی جماعتوں کاخاتمہ نہیں کیا جا سکتا چنانچہ محولہ حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی غیرمفاہمتی پالیسی کو نظرانداز کرکے مفاہمتی پالیسی کی طرف گامزن ہو کیونکہ حکومت کو جہاں ایک طرف اپنی حلیف جماعتوں کی طرف سے خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی سنائی دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف میں بھی ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان جو خود پارلیمنٹ تشریف نہیں لاتے اور جب حزب اختلاف کے لیڈر تھے اس زمانے میں بھی انہوں نے پارلیمنٹ کا تقریباً پورے سیشن بائیکاٹ کئے رکھا۔ اب انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کے اجلاس سے بائیکاٹ پر ٹویٹ کرکے ناراضگی کا اظہار کیا ان کا یہ ٹویٹ بھی عوام میں ایک مضحکہ خیز انداز میں دیکھا گیا کیونکہ وہ خود بھی اب پارلیمنٹ نہیں آتے ہیں تو دوسروں کو کس بنیاد پر طعنہ دیتے ہیں۔ پہلے خود گڑ کھانا چھو ڑئیے پھر کسی اور کو نصیحت کیجئے۔

متعلقہ خبریں