Daily Mashriq

پی ٹی آئی کی حکومت نے اب تک کیا کیا ہے؟

پی ٹی آئی کی حکومت نے اب تک کیا کیا ہے؟

آئیے پہلے ان اقدامات پر ایک نگاہ ڈالئے جو تحریک انصاف کی حکومت نے اب تک اُٹھائے ہیں۔ پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ حکومت کے پہلے پانچ ماہ میں کیا اچھا ہوا اور کیا برا ہوا ہے۔پاکستان تحریک انصاف تبدیلی کا ایجنڈا لیکر حکومت میں آئی تھی۔ تبدیلی کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سب سے پہلے طرزحکمرانی کو تبدیل کرنا ضروری تھا۔ تحریک انصاف نے گورننس کی تبدیلی کیلئے جن پانچ سمتوں میں کام کا آغاز کیا ان میں احتساب کو حکومت کی مرکزی ترجیح قرار دینا‘ نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے کیلئے کام‘ پولیس اور دیگر اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی پالیسی‘ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے سول اور فوجداری قوانین میں تبدیلی کیلئے قانون سازی اور سول سروسز ریفارمز شامل ہیں۔حکومت اکاؤنٹیبلٹی کے کام کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے جہاں نیب قوانین میں ترامیم تجویز کر رہی ہے وہیں قومی دولت لوٹنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میںلانے کیلئے اس نے ایک اسپیشل ٹاسک فورس قائم کی ہے جس کے سربراہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر ہیں۔ اس ٹاسک فورس کے تحت اثاثوں کی بازیابی کا یونٹ مکمل آپریشنل ہے جو بیرون ملک پڑی غیرقانونی دولت کو وطن واپس لائے گا۔ چوئل لیگل اسٹیٹس کے تحت برطانیہ کیساتھ یوکے پاکستان جسٹس اینڈ اکاؤنٹیبلٹی پارٹنرشپ معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہ سوئٹزر لینڈ سے معلومات کے تبادلے کی انڈرسٹیڈنگ یادداشت پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کو عوامی خواہشات کے مطابق بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں جو بلدیاتی نظام قائم کیا اُس نے نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنایا‘ اب پنجاب میں بھی اسی طرز کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے اور خیبر پختونخوا کے موجودہ نظام میں اور بھی بہتری لانے پر کام ہو رہا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے پولیس کے نظام میں تبدیلی کیلئے خیبر پختونخوا میں پولیس ایکٹ 2017ء متعارف کرایا۔ پنجاب کے جمہور حکمرانوںکو یہ توفیق نہ ہوئی اور انہوں نے جنرل مشرف کے دئیے ہوئے پولیس آرڈر 2002ء کی بنیاد پر 10سال پنجاب کا انتظام چلایا۔یہ ہے اصلیت ان لوگوں کی جو آمریت کو برا کہتے ہیں اور اپنے آپ کو جمہوری کہلوانے کے نام نہاد دعوے کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017ء اور پولیس آرڈر 2002ء کے درمیان فرق سمجھنا ہو تو میاں شہباز شریف کے چہیتے پولیس افسر آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے وہ الفاظ یاد کیجئے جو انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ادا کئے تھے۔ ان سے جب خیبر پختونخوا پولیس اور پنجاب پولیس کی کارکردگی میں فرق کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے برملا کہاکہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے پولیس ایکٹ دیا ہے اور یہی کارکردگی میں فرق کی اصل وجہ ہے۔ آج خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب میں بھی پولیس کو سیاسی بنیادوں سے پاک کرنے اور اُسے صحیح معنوں میں خادم اور مددگار بنانے کیلئے کام جاری ہے جسے جلد ہی صوبائی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے سول اور فوجداری قوانین میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ اس ضمن میں جن سمتوں میں کام کیا جا رہا ہے اس کا ایک اجمالی خاکہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ سب سے اہم کام دیوانی مقدمات کی جلد تکمیل کیلئے قانون سازی ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ فوجداری مقدمات کو بھی جلد نمٹانے کیلئے کریمنل لاء میں ریفارمز لائی جا رہی ہیں۔ وراثتی سرٹیفکیٹس کی جلد فراہمی کیلئے بھی آسان پروسیجر بنایا جا رہا ہے اور غریب ونادار لوگوں کو مفت قانونی امداد کی فراہمی یعنی مفت وکیل کی سہولت دینے کیلئے وزارت انسانی حقوق کے تحت لیگل ایڈ اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں انصاف کا حصول ایک ڈراؤنا خواب ہے لیکن عمران خان کا ویژن عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف پہنچانا ہے۔ سول سروسز میں ریفارمز لانے کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے جو اس ضمن میں اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے۔ اس ٹاسک فورس کی قیادت وزیراعظم کے مشیر جناب عشرت حسین کر رہے ہیں جو اپنی نیک نامی اور مہارت کی وجہ سے بڑے ممتاز ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رہے ہیں اور ان کی خدمات کے صلے میں انہیں 2005ء میں جناح ایوارڈ سے نوازا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ان کی تازہ ترین کتاب ’’گورننگ دی اَن گورنیبل‘‘ (Governing The Ungovernable)چھاپی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اس وقت لکھی جب وہ 2016-17 میں وڈروولسن سینٹر کے پبلک پالیسی فیلو تھے۔ ڈاکٹر عشرت حسین 1979ء سے لیکر1999ء یعنی 20سال ورلڈ بینک کیلئے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کا ’’غربت کے خاتمے کا فنڈ‘‘ ڈاکٹر عشرت حسین کی تجویز تھی۔ حال ہی انہوں نے سی پیک اور پاکستانی معیشت پر ایک کتاب لکھی ہے جو اس موضوع پر ایک مستند حوالہ سمجھی جا رہی ہے۔ عمران خان نے جب ڈاکٹر عشرت حسین کو سول ریفارمز کیلئے اپنا مشیر مقرر کیا تو ان کی تقرری سے انہوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کے نظام میں تبدیلی لانے میں کس قدر سنجیدہ اور مخلص ہیں۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں