Daily Mashriq

جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا

جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے دیا

پاکستانی سیاست میں کئی فعال مذہبی جماعتیں افغان طلبان کے ساتھ حالیہ مذاکرات کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔

یہی مذہبی جماعتیں ماضی میں افغانستان میں ناصرف کُھل کر افغان طالبان کی حمایت کرتی رہی ہیں، بلکہ اُن کے بعض کارکن ماضی میں وہاں لڑائی میں حصہ بھی لیتے تھے اور افغانستان میں طالبان کی جنگ کو ’جہاد‘ کہتے تھے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جمعیت علمااسلام (س) کے مولانا حامد الحق اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے بی بی سی کو دیے گئے الگ الگ انٹرویوز میں حالیہ مذاکرات کو اچھا اقدام قرار دیا ہے اور اُمید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

امریکہ کی افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اُن کی جماعت روز اول سے افغانستان میں مسئلے کا حل بات چیت سے نکالنے کی خواہاں ہے اور حالیہ مذاکرات کو مثبت نظر سے دیکھتی ہے۔

’مذاکرات طالبان کی بھی خواہش تھی اور امریکہ نے بھی افغانستان کے داخلی اور بین الاقوامی حالات کے حوالے سے زمینی حقائق کو تسلیم کرکے مذاکرات پر جو آمادگی ظاہر کی ہے، یہ ایک مثبت عمل ہے۔‘

مولانا فضل الرحمان کے مطابق افغان طالبان کو افغان حکومت سے بھی مذاکرات شروع کرنے چاہییں کیونکہ بقول اُن کے آخر میں صرف افغان ہی وہاں رہ جائیں گے۔ ’جہاں امریکی انخلا ضروری ہے وہاں داخلی امن اور داخلی صلح اُس سے بھی بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے۔‘

جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق جنھیں اُن کی زندگی میں ہی ’فادر آف طالبان‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اُن کے صاحبزادے مولانا حامد الحق بھی حالیہ مذاکرات کو ایک اچھا اقدام قرار دیتے ہیں۔ مولانا حامد الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی والد کی ہلاکت بھی اسی لیے میں ہوئی کہ وہ افغانستان اور پاکستان میں امن کے خواہاں تھے۔ ’قرآن میں آیا ہے کہ صلح میں خیر ہے تو اگر صلح ہوتی ہے اور دو فریقین آپس میں بیٹھتے ہیں، تو اس کا فائدہ پوی دنیا کو پہنچے گا۔‘

پاکستان کی ایک اور مذہبی سیاسی جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی دیگر مذہبی رہنماؤں کی طرح امریکہ اور طالبان کے درمیان حالیہ مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

سراج الحق کے مطابق طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے بھی بیٹھیں گے اور اُن کے بقول افغانوں کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔ ’اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہے ہی نہیں کہ افغان آپس میں نہ بیٹھیں۔‘

جولائی 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنے اعلیٰ سفارتکاروں کو ان ہدایات کے بعد کہ وہ افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات شروع کریں، نومبر میں ہی امریکی سفارت کاروں اور طالبان کی ملاقاتیں شروع ہوئی تھیں۔

حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امن اور سلامتی کے علاقائی اُمور کے لیے افغان صدر کے خصوصی ایلچی عمر داودزئی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان ملاقاتوں سے پہلے یہ طے ہوا تھا کہ امریکہ سے بات چیت کے بعد طالبان افغان حکومت سے بھی بات چیت کریں گے، لیکن آخری اطلاعات آنے تک افغان طالبان افغاناستان کی حکومت سے مذاکرات کے لیے راضی نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں