Daily Mashriq


معروضی حالات اور سازشی تھیوری

معروضی حالات اور سازشی تھیوری

ملک اس وقت چاروں جانب سے ملک دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کئی قسم کے حالات سے دو چار ہے ایک جانب افواج پاکستان کی جانب سے داعش کا راستہ روکنے کے لئے راجگال میں زمینی آپریشن خیبر ون شروع کردیاگیا ہے دوسری جانب وادی نیلم میں بھارتی ریشہ دوانیاں عروج پر ہیں۔ افغانستان کے اندر لا تعداد بھارتی قونصل خانوں کی موجودگی اور امداد سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لئے تربیتی کیمپوں کی موجودگی کے انکشافات ہو رہے ہیں جن کا مقصد سی پیک اور گوادر منصوبوں کو سبو تاژ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اور امداد کرنا ہے۔ اس صورت میں ملکی سیاسی سطح پر پانامہ کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی میں عسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کے حوالے سے کسی سازشی تھیوری کے الزامات پر پاک فوج کے ترجمان کا تازہ بیان یقینا قابل غور ہوناچاہئے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل )آصف غفور نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔ فیصلہ بھی اسی نے کرنا ہے۔ جے آئی ٹی وہ ایشو ہے جس کا فوج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دونوں ارکان نے جے آئی ٹی میں ایمانداری سے اپنا کام کیا۔ فیصلہ عدالت کرے گی۔ فوج کی جانب سے حکومت کے خلاف سازش کے سوال کا تو جواب دینا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے پاکستان کے مفاد کو دیکھنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم وہ کام کر رہے ہیں جو ملک کے دفاع کیلئے ضروری ہے۔ سیاسی معاملات حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی فوج پاکستان کاحصہ ہے۔ ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ قانون اور آئین کا احترام کرے۔ پاک فوج آئین کی عملداری چاہتی ہے۔ یہ کہنا کہ فوج سازش کا حصہ ہے اس سوال کا جواب دینا بھی نہیں بنتا۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے بتایا کہ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں اصل مسئلہ ہی یہ سوشل میڈیا ہے جسے اگر اسی طرح بے لگام چھوڑنے کی پالیسی تبدیل کرنے کی جانب توجہ نہیں دی گئی توجس طرح آج کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی خاندان کے خلاف نا مناسب سے بھی آگے جاکر انتہائی تو ہین آمیز مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے آنے والوں دنوں میں کسی کی عزت بھی بچنے نہیں پائے گی۔ بد قسمتی سے اس ضمن میں مختلف سیاسی گروہوں نے باقاعدہ اپنے گروپ بنا رکھے ہیں جو فرضی ناموں سے فیس بک' ٹوئیٹر اور دوسرے آئی ٹی ایپس پر مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف تو ہین آمیز مواد کے ذریعے اپنے خبث باطن کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ فرضی اکائونٹس افواج پاکستان کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈہ کرنے کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں سے عین ممکن ہے کہ بعض بیرونی دشمنوں کی جانب سے چلائے جا رہے ہوں اور اس قسم کے منفی پروپیگنڈے پر مبنی مواد کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی مبینہ طو ر پر اچھالنے میں ملوث ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے سے جو مبینہ ثبوت سامنے آئے ہیں اور بعض افراد کو ان سے اتفاق نہ ہو تو وہ بھی اس حوالے سے جوابی پروپیگنڈہ کرکے افواج پاکستان کے خلاف اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے ہوں اور اس میں کسی سازشی تھیوری کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار کسی بھی صورت ممکن نہیں کہ جے آئی ٹی میں عسکری اداروں کی شرکت سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ہوئی ہے اور یہ افواج پاکستان کی اپنی خواہش ہر گز نہیں تھی۔ اس لئے اگر کسی کو اس حوالے سے اعتراض تھا تو اس کے لئے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کی تشکیل کے ہنگام ہی درخواست کے ذریعے رجوع کیاجاسکتا تھا اور اس حوالے سے آئینی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس فیصلے کے مضمرات (اگر کوئی تھیں) پر بحث کرکے اپنے خدشات کا اظہار کیا جاسکتا تھا۔ تاہم اس وقت تو دونوں فریقوں نے اس فیصلے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں کھانے اور کھلانے کے عمل سے اپنی سوچ واضح کردی تھی جبکہ جوں جوں کارروائی آگے بڑھتی رہی اس حوالے سے عدم اطمینان اور عدم اعتماد کی خبریں سامنے آنے لگی تھیں۔ بہر حال ہم آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے عدالت ہی کی جانب سے دئیے گئے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اختیارات سے کوئی تجاوز نہیں کیا۔ اس لئے جو حلقے اس ضمن میں کسی سازشی تھیوری کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افواج پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں وہ اندھیرے کمرے میں سیاہ رنگ کی بلی کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کے عوام افواج پاکستان کے ملک و قوم کے لئے بے پناہ قربانیوں کے پیش نظر ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں