یرقان کے مریضوں میں اضافہ

یرقان کے مریضوں میں اضافہ

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں صرف تین ماہ کے دوران کالے یرقان کاشکار 1663 نئے مریض رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف یقینا ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ جبکہ 1137 مریضوں میںہیپاٹائٹس بی کے مرض کی بھی نشاندہی کی گئی ، رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہیپا ٹائٹس سی کے مریض ضلع مانسہرہ سے 341 رپورٹ کئے گئے ہیں جہاں 7205 مریضوں کی سکریننگ کی گئی جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع سوات ہے جہاں 12244 مریضوں کی سکریننگ کے دوران 399 مریضوں کی ہیپا ٹائٹس سی کے مرض کی نشاندہی کی گئی۔ ضلع مردان میں 150' نوشہرہ میں 148 نئے کیسز سامنے آئے۔ پشاور میں 12873مریضوں کی سکریننگ کے دوران 148 مریضوں کی نشاندہی کی گئی۔ تاہم ضلع کوہستان اور تور غر میں کچھ بھی رپورٹ نہ ہوسکا۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں یر قان کے نئے کیسز سامنے آنے پر صوبائی حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے کو توجہ دینے کے دعوئوں کے کھوکھلے پن کی نشاندہی ہوتی ہے۔ حکومت صحت کا انصاف کے نام پر گزشتہ چار سال سے جو بلند بانگ دعوے کر رہی ہے یہ رپورٹ ان دعوئوں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس قسم کے دعوے نہ صرف ہیپاٹائٹس بی اور سی بلکہ ٹی بی جیسے موذی مرض اور پولیو کی روک تھام کے حوالے سے بھی کئے جاتے ہیں اور اس ضمن میں متعلقہ شعبے اگر چہ بظاہر تو سر گرم دکھائی دیتے ہیں تاہم ان متعدی اور خطرناک امراض پر قابو پانے میں ناکامی کی خبریں ان شعبوں کی ناقص کارکردگی پر دال ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کے باشندے سفر اختیار کرتے ہیں تو انہیں ہیلتھ سرٹیفیکیٹس کی موجودگی کے باوجود شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے بلکہ پولیو کے قطرے تو بزرگ شہریوں کو ائیر پورٹس پر پلانے کی خبریں عام ہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے دعوئوں کو درست ثابت کرنے کے لئے ان خطرناک بیماریوں کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ صرف سیمینارز اور ورکشاپس پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے پروپیگنڈے کے ذریعے حل نہ ڈھونڈے بلکہ متعلقہ ہسپتالوں کو ضروری ادویات' آلات وغیرہ فراہم کرکے اس صورتحال کاتدارک کرے تاکہ ان امراض میں مبتلا افراد کو بیماریوں سے چھٹکارا مل سکے۔
شاہی کٹھہ کی صفائی
حالیہ بارشوں سے جہاں شہر کے مختلف علاقوں میں گٹر ابل آئے اور بارش کا پانی گلیوں میں آنے کے باعث شہریوں کو نقل و حرکت کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں پشاور کے اندر سے گزرنے والے شاہی کٹھہ میں گندگی جمع ہونے کی وجہ سے نکاسی آب کا پورا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ چوک یاد گار میں انڈر پاس میں پانی بھرنے کی وجہ سے نہ صرف یہ راستہ بند ہوگیا تھا بلکہ وہاں پر موجود دکانوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے تاجروں کا مبینہ طور پر کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس صورتحال پر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس نے جو نا مناسب رویہ اختیار کیا تھا وہ الگ سے سوالات کو جنم دینے کا باعث بنا۔ بہر حال شاہی کٹھہ کو صاف کرنے کی جانب بہ وقت تمام توجہ دینے کے باعث وہاں سینکڑوں ٹن کچرا جمع ہونے کی خبریں اس بات کی تصدیق کے لئے کافی ہیں کہ صفائی کا عملہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہے۔ پہلے نہ صرف شاہی کٹھہ بلکہ شہرکے اندر سے گزرنے والے دیگر نالوں کی باقاعدہ صفائی کے لئے کٹھہ قلی جانفشانی سے سر گرم رہتے تھے اور گند نکال کر نالوں کے کناروں پر ڈھیر کردیتے تھے تاکہ ایک آدھ دن میں ان سے نمی نکل جائے اور یہ قدرے خشک ہوجائے تو میونسپل ادارے کاکچرا اٹھانے والی لاریاں یہ گند اٹھا کر ٹھکانے لگا آتی تھیں۔ مگر بد قسمتی سے اس صورتحال میں تبدیلی ایک تو متعلقہ سینیٹری انسپکٹرز اور کٹھہ قلیوں کی مبینہ غفلت آڑے آتی رہی تو ملک بھر کے ہر شہر کی طرح پشاورمیں بھی شاپنگ بیگز کا استعمال مسئلے کو گمبھیر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی ضرور لگائی مگر متعلقہ صنعتکاروں کی جانب سے ان احکامات کو عدالت میں چیلنج کرکے سٹے آرڈرز لینے کی وجہ سے یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ صنعتکاروں کو قومی مفاد سے زیادہ اپنے مفادات کی فکر ہوتی ہے جو ایک فطری بات ضرور ہے تاہم اگر وہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں شاپنگ بیگز کی تیاری روک کر آج کل جس قسم کے ڈسپوزیبل شاپنگ بیگز کے استعمال کی خبریں آرہی ہیں ان کی تیاری پر توجہ دیں تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے جس کے بعد نہ گلیوں کی نالیاں بند ہوں گی نہ ہی بڑے نالوں میں رکاوٹ پیدا ہوگی کیونکہ انہی نالوں میں پولیو اور یرقان کے جراثیم کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

اداریہ