Daily Mashriq


بدعنوانی کیا ہے ؟

بدعنوانی کیا ہے ؟

وہ جب کہتے ہیں کہ خدا اور عوام ساتھ ہیں تو چیخ اٹھنے کو دل کرتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہا جائے کیا کیا جائے ۔ سیاست دانوں کی بد عنوانی کوچھپانے کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ۔ یہ وہی حال ہے کہ جب صدیاں پہلے یورپ میں بادشاہت رائج تھی اور اس بادشاہت کو چرچ کی مدد کی ضرور ت رہتی تھی ۔ اسی نظام نے بادشاہ کو خدا کا پر تو بنا دیا اور بادشاہ کی حکم عدولی خدا کی حکم عدولی سمجھی جانے لگی ۔ بادشاہ اب بھی باقی ہیں اور چرچ کی مدد کی خواہش ان کے لہجے میں بولتی صاف دکھائی دیتی ہے ۔ ان کی آج بھی کیفیت ایسی ہے کہ یہ اپنی حکم عدولی کو تقریباً خدائی احکامات کی حکم عدولی سمجھتے ہیں ۔ ان کی بد عنوانی کوئی بد عنوانی نہیں ۔ ان کا لوٹنا ملک کے مفاد میں ہے ۔ وہ مسلسل اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کے پیروں سے جمہوریت کا لنگر بندھا ہے ، وہ ذرا ادھر کے اُدھر ہوئے توجمہوریت ہی ڈانواں ڈول ہو جائیگی ۔

ان کی کرپشن کی سمجھ پر بھی مجھے حیرت ہے ۔وہ کہتے ہیں ان کا ضمیر صاف ہے ، انہیں بتایا جائے کہ انہوں نے کس سے رشوت لی ۔جی چاہتا ہے کہ اتنا ہنسو ں کہ ہنستے ہنستے آنسو نکل آئیں ۔ رشوت لینا ہی بد عنوانی ہے ۔ ایک حکمران کا اپنی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے ایس آراو جاری کروانا ، بد عنوانی نہیں ۔ اپنے لئے مشینری بنا ٹیکس ادا کیے اسے ایس آراو کی آڑ میں در آمد کروانا بد عنوانی نہیں ۔ موٹر وے کی تعمیر میں اپنا کمیشن رکھنا بد عنوانی نہیں ۔ یلو کیب سکیم میں اپنا حصہ رکھنا بھی بد عنوانی نہیں ۔ اس وقت ملک میں سی پیک کا بہت شور ہے ۔ اس میں کیا کیا کام کس طور کیئے جارہے ہیں کیا ہم میں سے کسی کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ۔ کوئلے سے بجلی بنانے کے تیرہ کارخانے جو سی پیک معاہدے کے تحت لگائے جارہے ہیں ان کارخانوں میں کس کا کیا حصہ ہے اس بارے میں کئی باتیں سنائی دے رہی ہیں ۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ ان کا رخانوں میں ان کی حصہ داریاں ہیں جو پاکستان کی سیاست کے بڑے بڑے نام ہیں جو ابھی حکومت میں شامل ہیں ۔ جو سی پیک کے لیے راہ ہموار کر نے والے ہیں انہوں نے چین سے وہ ٹیکنالوجی خریدی ہے جو چین اپنے ملک میں آلودگی کے باعث ختم کرنا چاہتا تھا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو اپنے اس کاروبار میں شامل کررہے ہیں ۔ ان میں سے کسی نے کوئلے سے بجلی بنانے کے یہ کارخانے لگانے سے پہلے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ گنجان آباد علاقوں میں لگائے جانے سے یہ کارخانے کتنی ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیں گے ۔ انہیں اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ یہاں کوئلے سے پیدا کی جانے والی بجلی یہاں کے عوام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوگی اور اگر اسے واپس چین لے جا یا جائے گا تو اسکی ماحولیاتی آلودگی یہیں رہ جائے گی ۔ پاکستان میںلوگوں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوںگے۔ ہمارے ملک میں خود حکومت کا ہی صحت کی مد میں خرچ کس قدر بڑھ جائے گا ۔ ہم ان پڑھ لوگ ہیں ۔جہالت ہماری گھٹی میں ہے تبھی تو ہم کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو ''ووٹ صرف بھٹو کا ہے '' اور چلو بی خود کھاتے ہیں تو کیا ہوا مسلم لیگ والے کچھ کام تو کرتے ہیں ہم لوگ اپنے ہی مفادات سے بے بہرہ لوگ ہیں ، اپنے ہی نقصان کے سودے کرتے ہیں ، ہماری جہالت کوئی عام جہالت نہیں ہم مجرمانہ جہالت اور غفلت کا شکار لوگ ہیں ۔ اور ہماری زندگیاں اسی لیے دن بہ دن اور بھی اداس اورپژمردگی کا شکار ہوتی جارہی ہیں ۔ پوری دنیا میں اداسی کی اوسط شرح 20سے 21فی صد تک ہے لیکن پاکستان میں لوگوں کی یہ ادا سی ، پژمردگی اور ڈپریشن تیس فیصد سے بھی بڑھی ہوئی ہے ۔ اس لیے کہ ہم اپنے مجرموں کو نہیں پہچانتے ۔ ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ، کوئی ہمیں کیسے لوٹ رہا ہے ہمیں معلوم ہی نہیں ۔کبھی کوئی یہ نہیں سوچتا کہ چین کے کارخانے کن لوگوں کے ہیں ۔ یہ کارخانے کس طرح کسان کو حدار بعہ کے سراب میں جکڑ کر مارتے ہیں ۔ ایک خاص حدود اربعہ سے باہر کوئی کسان اپنا گنا کسی چینی بنانے کے کارخانے کو بیچ نہیں سکتا ۔

وہ گنا کر شنگ سیزن میںان کارخانوں کے باہر لائنوں میں لگے رہتے ہیں ۔ اور یہ تو شاید کسی کو خیال آجاتا ، یہ کیسے معلوم ہوتا کہ کس فصل کی جگہ اس علاقے میں گنے نے لی ۔ گنے کو پانی کی کتنی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں پانی کی کس قدر کمی ہے ؟ ہم اپنے حکمرانوں کی بد عنوانیوں کو کہاں پہنچ سکتے ہیں ۔ ہم تومیٹرو بس کے سفر سے ہی خوش ہو جاتے ہیں ۔ اس بس کے سفر سے خوش ہو کر ہم ان لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو حیلے بہانے سے ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں ۔ جن کی آنکھیں ہمارے غم میں آبدیدہ نہیں ہوتیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا اقتدار ان سے نہ چھین جائے ۔ وہ اپنے ہی لوگوں پر اعتبار نہیں کر سکتے کیونکہ وہ لوگ جو ان کے بہت قریب رہے ہیں کہتے ہیں کہ اگر ان کے دل میں یہ خیال بھی آجائے کہ کوئی شخص ان کے مفادات کے بر خلاف کام کرنا چاہتا ہے تو یہ لوگ اس شخص کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ جاوید ہاشمی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ انہیں کس طور میاں صاحبان نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے بیدخل کیا ، اور کس طور جاوید ہاشمی اس سارے کھیل میں ایک عام پیادے کی طرح سیاسی طور پر مارے گئے ، ہم سب دیکھ چکے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اقتدار کے لیے آبدیدہ رہتے ہیں۔ انہیں نہ چودھری نثار کی وفاداری کا یقین ہے ، نہ کسی اور سے محبت کی خواہش ہے ، یہ عوام کو بھی بے وقوف بناتے ہیں ، ان کے لیے بد عنوانی کی تعریف وہی ہے جس کے بعد انہیں کوئی بد عنوان نہ پکارے لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکے کہنے سے بد عنوانی کی تعریف بد ل جاتی ہے ۔ اور کیا ان جیسے لوگ اب عدالت کو سمجھائیں گے کہ بد عنوانی کیا ہے ؟ ۔

متعلقہ خبریں