ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔

ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔

غالب نے کہا تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے!
اگر انسان کی ہر خواہش پوری ہوجائے تو یہ دنیا جنت نہ بن جائے یہ تو پل صراط کا سفر ہے یہاں قدم قدم پر نت نئے تجربات سے حضرت انسان کا واسطہ پڑتا رہتا ہے خوشی و غم کی آنکھ مچولی میں زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ جہاں بجتے ہیں شادیانے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں۔ تقدیر اور تدبیر کے نہ ختم ہونے والے مباحث میں الجھا ہوا انسان زندگی کے سمندر میں ڈبکیاں کھاتا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب گنتی کے سانس پورے ہوجاتے ہیں تو وہ ابدی زندگی کی طرف کوچ کر جاتا ہے ۔یہ ذہن میں رہے کہ آنے والی ابدی زندگی کا دارومدار ہماری اس دنیا کی کارکردگی پر ہی ہے۔ اس لیے خالق کائنات کی تخلیق کردہ اس دنیا کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں کیا جاسکتا بس دیکھنا یہ ہے کہ جو سانس ہمیں ودیعت ہوئے ہیں جوشب وروز ہمیں ملے ہیں وہ ہم کس طرح گزارتے ہیں؟راستے سارے واضح ہیں ہدایات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی موجود ہے خالق نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دے کر انسان کو دنیا کے سفر پر روانہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پیغمبروں کی صورت بہت سے رہنما بھی ہمراہ کردیے کہ اسے ٹھوکر نہ لگے یہ حق اور سچ کے راستے سے بھٹکنے نہ پائے ہم اس چند روزہ فانی زندگی میں جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی ذمہ داری قبول بھی کرنی چاہیے۔ انسانی خواہشات کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے مال و دولت میں اضافہ، اچھا عہدہ ، نیک اولاد اور اسی طرح کی دوسری بہت سی خواہشات !خواہشات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ان کا شمار ممکن نہیںانسانی خواہشات کا سفر بڑا طویل ہے۔ اس کا اختتام ممکن نہیں ہے اس سفر میں منزل نہیں ہے بس آگے ہی آگے بڑھتے رہنا ہے۔ انسانی خواہشات کبھی بھی ختم نہیں ہوتیں ہر لمحہ ہر پل انسانی دل و دماغ میں نت نئی خواہشات جنم لیتی رہتی ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اچھی خواہشات رکھتے ہیں۔ اگر خواہش اچھی ہو تو محمود ورنہ مذموم !اس حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہش بذات خود کوئی اہمیت نہیں رکھتی اس کی اہمیت اس کے اچھا یا برا ہونے کی وجہ سے ہے خواہش کے حوالے سے ہمیں دو قسم کے نظریات ملتے ہیں۔ ایک مکتبہ فکر کا یہ کہنا ہے کہ خواہشات کسی کی بھی پوری نہیں ہوتیں البتہ ضروریات پوری ہو جاتی ہیں اس لیے انسان کو اپنی ضروریات تک محدود رہنا چاہیے۔ خواہشات کی راہ پر چل نکلنے والے کبھی بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ دوسری سوچ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسان میں خواہش کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر خواہش ختم ہوجائے تو انسان ختم ہوجاتا ہے مثلاًاچھی زندگی گزارنے کی خواہش ، بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کی خواہش ، یہ خواہش بھی ہے اور جذبہ بھی !عبدالستار ایدھی اور دوسرے بہت سے لوگ اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھے اور لوگوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا جب کالم لکھنے کا ارادہ کیا تو ذہن میں حضرت انسان کی لمبی عمر پانے کی خواہش کے حوالے سے بہت سی باتیں تھیں۔ زندگی سے پیار ہماری سرشت میں موجود ہے ہم سب جینا چاہتے ہیں لمبی عمر پانا چاہتے ہیں ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ جوانی تا بہ پیری ! پیری تا بہ کہہ!یعنی جوانی بڑھاپے تک ہے اور پھر بڑھاپا کب تک؟اس کے سیدھے سادے معنی یہی نکلتے ہیں کہ اس پتنگ نے ایک دن کٹنا ہے اگر انسان سو برس بھی جی لے تو پھر ایک دن رخصت ہونا پڑتا ہے یوں کہیے موت ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے ورنہ آج بازاروں اور گلیوں میں لوگ زندہ لاشوں کی صورت پڑے ہوتے کسی کے لیے بھی چلنا پھرنا ممکن نہ ہوتا کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ جاتا اس خیال کے ساتھ ہی ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ پھر زندہ تو وہ ہوئے جن کی زندگی کار آمد ہے۔ دوسروں کے لیے فائدہ مند ہے جن کی ذات سے ان کو ان کے خاندان کو ملک و ملت کو اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔پرانے وقتوں کی بات ہے یونان کے کسی قبرستان میں ایک سیاح گھوم پھر رہا تھا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہر قبر پر لگے ہوئے کتبے پر مرنے والے کی عمر سات آٹھ یا دس بارہ برس سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کا ذہن اس بات کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سب لوگ بچپن میں ہی انتقال کر جائیں ؟لوگ اپنی طبعی عمر پوری کرتے ہیں اس دوران شادیاں ہوتی ہیں اولاد کا سلسلہ پھلتا پھولتا ہے یہ کیا کہ سب لوگ بچپن میں ہی انتقال کرجائیں؟ اس نے قبرستان سے باہر آکر اپنی حیرت کا اظہار ایک مقامی بزرگ سے کیا تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ یہاں قبروں پر لگے ہوئے کتبوں میں مرنے والوں کی عمر ماہ و سال کے حوالے سے نہیں لکھی جاتی کہ یہ کتنے برس جئیے بلکہ یہاں کتبوں پر جو عمریںدرج ہیں وہ اس حوالے سے ہیں کہ ان کی ذات سے ان کے معاشرے اور بنی نوع انسان کو کتنے عرصے تک کتنا فائدہ پہنچا؟یہ کتنے عرصے تک دوسرے لوگوں کے لیے مفید رہے ؟ بس ان کتبوں پروہی عمریں لکھی گئی ہیں !اگر ایک انسان دنیا کے لیے کارآمد نہیں ہے اس کی ذات سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ وہ اپنے لیے جی رہا ہے یا اپنی خوشیوں کے حصول کے لیے اس کی ذات سے دوسرے تکلیف میں ہیں تو پھر وہ زندہ نہیں ہے بلکہ مردہ ہے یوں کہیے مردوں سے بھی بدتر ہے وہ اس لیے کہ مردے تو کسی کو دکھ نہیں دیتے ان کی ذات سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچتی !۔

اداریہ