Daily Mashriq


تمہارا شہر میں کیوں تذکرہ نہیں ہوتا؟

تمہارا شہر میں کیوں تذکرہ نہیں ہوتا؟

اس قدر دھول اڑائی جا رہی ہے' اس قدر دھواں چاروں جانب پھیل رہا ہے کہ آنکھیں آگے کی سمت دیکھنے میں مشکل کا شکار ہو رہی ہیں۔ حکومت مخالف اور موافق قوتوں کے مابین بیانات' تجزیہ کاروں کے تبصروں اور کالم نگاروں کے کالموں کے بعد اس بات کا فیصلہ مشکل تر ہو رہا ہے کہ کس کا موقف درست ہے ۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ماہرین آئین و قانون بھی کسی بات پر متفق دکھائی نہیں دیتے اور ہر شخص اسی آئین سے جو اس ملک میں رائج ہے اپنی اپنی پسند کے دفعات سامنے لا کر مختلف تاویلات کی صورت پیش کر رہا ہے جس کی کچھ نہ کچھ جھلک اس کالم کے شائع ہونے تک امید ہے کہ عوام کے سامنے آچکی ہوگی کیونکہ 17جولائی کو عدالت عظمیٰ میں پانامہ کیس کی شنوائی کے موقع پر دونوں جانب کے آئینی اور قانونی ماہرین کے جے آئی ٹی پر دلائل کا آغاز ہوچکا ہوگا جبکہ یہ کالم اتوار 16جولائی کو تحریر کیا جا رہا ہے۔ اس لئے وثوق کے ساتھ فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اگرچہ دونوں جانب کے وکیلوں کے دلائل کا معاملہ بھی اتنا مختصر نہیں ہوسکتا کہ ادھر وہ پیش ہوئے اور ادھر فاضل عدالت نے فیصلہ سنا دیا یعنی حتمی فیصلے کی گھڑی شاید ابھی دور ہے کیونکہ دلائل کا انبار لگانے اور پھر ان دلائل کی چھان پھٹک کے لئے فاضل عدالت کو بھی وقت درکار ہوگا۔ اگرچہ شریف خاندان کی جانب سے سازشی تھیوری کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں تاہم یہ بھی ایک قانونی نقطہ ہے جس پر عدالت ہی میں بہتر انداز سے بحث کے بعد کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتاہے جبکہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کے حالیہ بیانات نے بھی سوچ کے در وا کردئیے ہیں کہ یہ رپورٹ حتمی نہیں اور اسے چیلنج کیاجاسکتا ہے۔ یعنی اگر یہ رپورٹ چیلنج ہو جاتی ہے تو اس کیلئے بعض قانونی ماہرین کے مطابق اس سے بھی بڑے بنچ کے لئے استدعا کی جاسکتی ہے۔ باتیں تو اور بھی بہت سی ہیں مگر ان پر بحث سے قطع نظر میں ایک اور مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ چار سو کے قریب افراد کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہونے کے باوجود صرف شریف خاندان کے خلاف پورے ملک میں جس طرح احتساب کی بھٹی سلگا کر پورے خاندان کو اس میں جھونک کر بعض حلقے دل ہی دل میں خوش ہو رہے ہیں وہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کسی اور کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس صورتحال کو بھی رکھئے ایک طرف اور کرپشن کے عمومی مسئلے پر آجاتے ہیں۔ یعنی کون نہیں جانتا کہ ہمارا معاشرہ اس ''نیک کام'' میں سر تا پا بری طرح دھنسا ہوا ہے اور بقول شاعر

زفرق تا بہ قدم ہز کجا کہ می نگرم

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اس جا است

اور اس حوالے سے قیام پاکستان کے ابتدائی چند برس کو چھوڑ کر خصوصاً ایوبی آمریت سے آج تک کرپشن اور لوٹ مار کی جو داستانیں ہماری تاریخ کاحصہ ہیں ان کو پڑھ اور سنکر یقینا رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسرے شعبوں کو بھی رہنے دیں صرف بنکنگ کے شعبے کو ہی لے لیجئے جس طرح سرمایہ داروں' صنعت کاروں' جاگیر داروں' سیاستدانوں' بیوروکریٹس اور اسٹبلشمنٹ کے نمائندوں (بہ استثنائے چند ہر طبقہ) نے جس طرح اپنے اثر و رسوخ کااستعمال کرتے ہوئے بنکوں سے کروڑوں اربوں بلکہ کھربوں کے قرضے لے کر بعد میں معاف کروائے ان سے تو یہی لگتا ہے کہ جیسے یہ رقوم ان کے لئے شیر مادر ہوں اوروہ انہیں ہڑپ کرنے کا پورا پورا بلکہ پیدائشی حق رکھتے ہوں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بنکوں سے بھاری رقوم بطور قرض لے کر معاف کروانا تو ایک کاروبار بن چکا ہے حالانکہ بنکوں کے پاس یہ رقم قوم کی امانت ہوتی ہے جو غریب عوام اپنی بچت کھاتوں' سکیموں وغیرہ کے ذریعے پس انداز کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کے سفید کالر کرائم کے ذریعے ایک خاص طبقہ یہ رقوم کھا جاتا ہے تو دوسری جانب بنک ان بچتوں پر عوام کو دئیے جانے والے منافع میں مسلسل کمی کرتے رہتے ہیں۔ اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو ایک وقت تھا کہ سیونگز اکائونٹس پر شرح منافع پندرہ فیصد سالانہ تک ہوتا تھا۔ ڈیفنس سیونگز سرٹیفیکیٹس اور اسی قبیل کے دوسرے سرٹیفیکیٹس پر اس سے بھی زیادہ منافع بتدریج بڑھتے بڑھتے آخری حد کے حساب سے22 فیصد تک پہنچ جاتا تھا مگر آج دیکھیں کہ یہ منافع پانچ ساڑھے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ اب تو کرنسی ریٹ بھی گھٹ کر پاتال میں جا پہنچا ہے اور اگر پرانے دور کے منافع کا کرنسی کی قدر کے حوالے سے موازنہ کیاجائے تو اس حساب سے موجودہ ساڑھے پانچ فیصد اس قدر کم ہے کہ صورتحال '' انگشت بدنداں'' والی ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال صرف اور صرف ان ''سفید پوش' لٹیروں کے جرائم کی بدولت ہے۔ اس ضمن میں صرف بنکوں سے قرضے لے کر ہڑپنے کی بات نہیں ہے۔ اگر آپ کو یاد نہ ہو تو میں یاد دلا دیتا ہوں کہ مہران بنک کو لوٹنے کا واقعہ اتنا بھی پرانا نہیں کہ بھول بھال کر طاق نسیاں پر دھر دیا جائے۔ اس حوالے میں جو انکوائری کی گئی تھی اس کے بارے میں سینہ بہ سینہ چلنے والی خبریں یہ تھیں کہ اس انکوائری کی فائلیں مبینہ طور پر بعض نقاب پوش حملہ آوروں نے بنک کے متعلقہ شعبے میں گھس کر او ر الماریوں پر برسٹ مار، تالے توڑ' دروازے کھول کر قبضے میں لے لی تھیں جس کے بعد آج تک اس راز سے پردہ نہیں سرکایا جا سکا کہ اس دلیرانہ واردات میں کون شامل تھے اور یہ واردات کن کے ایماء پر دن دیہاڑے کی گئی؟ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ صرف شریف فیملی کو ڈاکو' چور' لٹیرے ثابت کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ زرداری کی وارداتوں کو بھی سامنے لانا پڑے گا۔ اور کھربوں کے قرضے معاف کرانے والوں کے گریبانوں کو بھی ناپنا پڑے گا۔ بصورت دیگر شریف خاندان کو اقتدار سے بدنام کرکے ہٹانے میں تو شاید کوئی رکاوٹ نہ ہو مگر کرپشن کا ناسور ہمارے گلے کا ہار بن کر چمکتا رہے گا۔

ہمارے ساتھ شریک گناہ تھے تم بھی

تمہارا شہر میں کیوں تذکرہ نہیں ہوتا؟

متعلقہ خبریں