بابا مری ھُم نہ

بابا مری ھُم نہ

بزرگ شہریوں کی اوقات پر ہم پہلے بھی کئی بار گفتگو کر چکے ہیں۔ جب اس کہانی کے کرداروں کے کچھ نئے گوشے سامنے آتے ہیں تو ان کا تذکرہ ضروری ہو جاتا ہے۔ ہم بھی اس کہانی کا ایک کردار بن چکے ہیں۔ چنانچہ آج کی تحریر کے عکس میں ہمارے خدوخال بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ دوست عبدالجبار حامد مرحوم اسلام آباد میں بزرگ شہریوں کی انجمن کے صدر تھے۔ پوچھنے پر انہوں نے ایک دن بتایا یہ انجمن ہم نے اس لئے بنائی ہے کہ کچھ بزرگ شہری مل بیٹھ کر اپنے دکھڑے ایک دوسرے کو بیان کرسکیں۔ بقول ان کے ہر بزرگ شہری کا سب سے بڑا گلہ یہ ہوتا ہے کہ اولاد ان کو کمپنی نہیں دیتی۔ ان کو ہمارا حال پوچھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ ان کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے ابا کا بلڈ گروپ کیا ہے۔ یہ رات کو اب زیادہ کھانسنے کیوں لگے ہیں اور انہیں بار بار واش روم جانے کی ضرورت کیوں پیش آنے لگی ہے۔ راز داری کی شرط پر ابھی کل پرسوں ہی ایک بزرگ دوست بتا رہے تھے کہ صبح جب گھر کے سب لوگ اپنی مرضی سے جاگ جاتے ہیں تو پھر یہ یاد آنے پر کہ اس گھر میں ایک ستر سالہ بوڑھا بھی رہتا ہے وہ میرا ناشتہ جو صرف ایک پیالی بغیر چینی کی چائے اور برائون ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے میرے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ رویہ ان کا یہ ہوتا ہے لو زہر مار کرو۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھوسے کی یہ بد مزہ ڈبل روٹی چونکہ گھر میں صرف میری خوراک ہے تو بازار سے اسے خریدنے کی ذمہ داری بھی میری ہی بنتی ہے۔ جس دن ناشتے میں اس ایک ٹکڑے سے بھی محروم رہتا ہوں تو پوچھنے پر کہا جاتا ہے آپ لائے ہی نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا مجھے تو اب یہ فکر لگی ہے کہ مرنے پر وہ میرے سرہانے مجھے لپیٹنے کے لئے کفن نہ تلاش کرنے لگیں۔ ہوسکتا ہے کوئی یہ بھی کہہ بیٹھے بھئی اسے اٹھائو۔ اپنے لئے کفن تو لے آئے۔ کہنے لگے ایک روز جب پیاس لگی اور خود اٹھ کر پانی لانے کی ہمت نہ پڑی تو ایک پوتی کو کہا کوئی جواب نہ ملا۔ پوتا جو قریب ہی بیٹھا موبائل فون پر کوئی گیم کھیل رہا تھا اسے اپنی ضرورت گوش گزار کی توجہ نہ دی۔ قریب سے جب دوسری پوتی گزرنے لگی تو اسے پانی لانے کے لئے کہا۔ پانی تو وہ لے آئی مینگنیاں ڈال کر۔ یعنی یہ بھی کہا بابا یو خو تہ اوبہ ڈیرے سکے۔ ایک تو بابا آپ پانی بہت پینے لگے ہیں۔ میری پیاس پر ان کے تبصرے کا کوئی جواب میرے پاس نہ تھا۔ خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ ایک دوسرے بزرگ دوست سے جب ان کی مصروفیات کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا گھر کے برآمد ے سے بیٹھا تمام دن اونگھتا رہتا ہوں۔ گیٹ کی گھنٹی پر کان لگے ہوتے ہیں۔ ڈرائیور آتا ہے گیٹ کھول کر اس کا استقبال کرتا ہوں۔ ڈاکئے سے ڈاک وصول کرنے کے لئے اٹھنا پڑتا ہے۔ کوئی بھکاری گھنٹی بجا کر مدد کا طالب ہوتا ہے تو اس سے تھوڑی دیر تک گفت و شنید رہتی ہے۔ گھر سے کوئی گاڑی میں بیٹھ کر جائے تو گیٹ کو بند کرنا میری ذمہ داری ہے۔ یوٹیلیٹی بلز کی وصولی اور ان کو بروقت بنک میں ہم جمع کرتے ہیں۔ ہمیں مصروف رکھنے کا سب سے بڑا جواز یہ بتایا جاتا ہے بابا بہ نور سہ کوی۔ بابا کا اور کام ہی کیا ہے۔ کان بھی آہستہ آہستہ جواب دینے لگے ہیں۔ بعض دفعہ جب گھنٹی نہیں سن پاتا تو اندر سے آواز آتی ہے خدا خیر کرے بابا بہرے بھی ہوگئے۔ ہماری پنشن کی رقم یہ کہہ کر ہم سے ہتھیالی جاتی ہے بابا تہ پہ پیسو سہ کوے۔ بابا آپ کو پیسوں کی کیا ضرورت ہے۔ صبح سیر کے دوران بے شمار بزرگوں سے تندور سے روٹی لاتے ہوئے ملاقات ہوتی ہے۔ باچا صاحب تو کہتے ہیں اب جا کر اپنے لئے ایک پیالی چائے بھی بنائوں گا۔ بچے ذرا دیر سے اٹھتے ہیں۔ زندگی بڑی حسین ہے کوئی بھی اس عالم رنگ و بو کو اپنی مرضی سے چھوڑنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ 

لیکن ہم نے بہت سے ایسے بزرگوں کو موت کی آرزو کرتے دیکھا ہے جو بالخصوص بیوی کی وفات کے بعد گھر والوں کی توجہ سے مکمل طور پر محروم ہونے پر شدت کے ساتھ موت کے آرزو مند ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ دوست جو اب ہمارے درمیان نہ رہے جب اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد مکمل طور پر ایک اضافی چیز بن گئے تو ہم سے ایک روز فون پر کہنے لگے برا نہ ماننا' میں تمہارے لئے ایک دعا مانگتا ہوں۔ جی فرمائیے ۔ بولے' خدائے د د خزے نہ مخکے مڑ کا۔ اللہ تمہیں بیوی سے پہلے بلالے۔ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن کسی بزرگ کا زندگی میں بے بسی اور ذلیل و خوار ہونے سے بہتر ہے کہ وہ عزت کے ساتھ دنیا سے گزر جائے۔ کل ایک صاحب نے بڑے راز دارانہ انداز میں ہمارے کانوں کے قریب منہ لاتے ہوئے کہا۔ جانتے ہو سفید بال چہرے کی جھریاں اپنی جگہ لیکن بزرگی میں معاشرتی روئیے بھی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہم نے جواب میں کہا یہ مرحلہ ہمیں پوری طرح یاد ہے۔ آ پکے ریمائنڈر کی ضرورت نہیں۔ سو باتوں کی ایک بات کسی بھی بزرگ شہری کو اس وقت تک زندہ رہنے کا حق حاصل ہے جتنی سانسیں اس کے لئے خدا نے مقرر کر رکھی ہیں۔ البتہ دعا ہے کہ خدا کسی کو بھی اپنی اولاد کے منہ سے جاں بلب باپ کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ نہ سننا پڑے ۔ دے مری ھُم نہ۔ اس کو موت بھی نہیں آتی۔ یہ کہنے والا بھی اب دنیا میں نہ رہا۔ اس کی اولاد سات سمندر پار بڑے عیش و آرام سے زندگی بسر کر رہی ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے باپ کا منہ کفن میں دیکھنے کے لئے بھی نہیں آیا۔ مگر یہ کہانی کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھائے رکھتے ہیں۔

اداریہ