مشرقیات

مشرقیات

صلیبی لڑائیاں زوروں پر تھیں ۔ لڑائیاں بھی ایسی جو سالوں جاری رہیں ۔ دو سو برس تک یہ سلسلہ جاری رہا ۔ عیسائی ہر حیلے ہربہانے سے مسلمانوں پر حملے کرتے رہے ۔ شروع شروع میں ان لڑائیوں میں ان کا پلہ بھاری رہا جہاں ان کی فوج پہنچتی لوٹ مار کرتی ،قتل وغارت گری کا وہ بازار گرم ہوتا کہ الاماں والحفیظ ۔ ٢٢شعبان ٤٩٢ ھ کو چالیس دن کے محاصرے کے بعد جب عیسائی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو ان کی بر بریت اور حیوانیت کایہ عالم تھا کہ شہرمیں ایک مسلمان کو بھی زندہ نہ چھوڑا ، عورتیں ، دودھ پیتے بچے سب موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ آخر کب تک یہ سلسلہ ظلم جاری رہتا ۔ اللہ نے صلاح الدین ایوبی کو پیدا کیا ۔ اس نے مسلسل چودہ سال تک صلیبیوں سے جہاد کیا ۔شام کا ایک ایک شہر ان کے ہاتھوں سے چھین لیا ۔ صلاح الدین اللہ سے ڈرنے والا ، قانون اور انصاف کا پابند حکمران تھا ۔ انہیں لڑائیوں میں سے ایک لڑائی کا قصہ ہے ۔ مسلمان اور صلیبی ظالم ایک جگہ مد مقابل تھے ۔ فوجیں کبھی ایک دوسرے پر شبخون مارتیں کبھی ایک ایک دو دوستوں میں ٹھن جاتی ۔ لڑائی کی بھٹی مسلسل سلگ رہی تھی ۔ مگر ایک ماں بیقرار با ل نوچتی اور سر پیٹتی اپنے بچے کو ڈھونڈھنے نکلی ۔ وہ کسی عیسائی سپاہی کی بیوی تھی ۔ بندی میں اسکا بچہ بھی پکڑا گیا تھا ۔ یہ اپنی جگہ کوئی انوکھا واقعہ نہ تھا ۔ فرنگی تو روز ہی مسلمانوں کو پکڑ کر لے جاتے تھے لیکن جس پر پڑتی ہے اسے اپنی مصیبت بہت سخت معلوم ہوتی ہے ۔ ماں بچے کے لئے بے قرار ہوگئی ۔ اپنی فوج کے ایک ایک افسر کے پاس گئی کہ کوئی صورت ایسی نکالے کہ حریف اس کا بچہ واپس کردے لیکن کوئی صورت نہ تھی ۔ آخر سب کو ایک ہی بات سمجھ میں آئی ۔ انہوں نے اس عورت سے کہا ۔ تم کسی طرح مسلمانوں کے پڑائو میں چلی جائو اوروہاں فریاد کرو اگر سلطان صلاح الدین کے کانوں میں تمہارے رونے کی آواز پڑ جائے تو سمجھ لو کہ تمہارا بچہ مل گیا ۔ عورت نے کہا ۔۔۔سلطان تو ہمارا دشمن ہے ! جواب ملا ۔ وہ ہمارا دشمن ضرور ہے لیکن بڑا شریف دشمن ہے ۔ وہ بڑا بہادر آدمی ہے ، اللہ نے اسے مرتبے کے ساتھ ساتھ بڑا ظرف بھی دیا ہے وہ کسی کو مصیبت میں نہیں دیکھ سکتا ۔ وہ بے حد نرم دل ہے اور دشمنوں پر بھی ترس کھاتا ہے ۔ عورت بے قرار تو تھی ہی بے اختیار مسلمانوں کے پڑائو میں گئی اور کسی نہ کسی طرح سلطان تک پہنچ گئی ۔ سلطان نے دیکھا ماں اپنے جگر گوشے کے لئے پریشان ہے تو خود بیقرار ہو کر اٹھا ۔ فوج میں تلاش کرایا ، معلوم ہوا کہ بچہ گرفتار ہوا تھا ۔بندی میں پکڑ ے جانے والے او ر لوگوں کے ساتھ اسے بھی فروخت کر دیا گیا ہے ۔ سلطان نے تفصیلات معلوم کرائیں ۔ اس آدمی کو ڈھونڈ نکالا جس نے قیدی بچے کو خریدا تھا ۔ اپنے پاس سے اس کی قیمت ادا کی بچے کو واپس لیا خود چل کر اس کی ماں کے پاس گیا اور بچہ اس کے حوالے کردیا ۔ وہ دعائیں دیتی رخصت ہونے لگی تو حکم دیا کہ اُسے گھوڑے پر سوار کر کے عزت سے اس کے کیمپ میں پہنچا دو !۔ (روشنی)

اداریہ