Daily Mashriq


پاک افغان قیادت میں رابطے

پاک افغان قیادت میں رابطے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے نگران وزیراعظم ناصر الملک اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلیفون کر کے پاکستان میں ہونیوالے دہشتگردی واقعات کی مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ۔نگران وزیراعظم نے افغان صدر اشرف غنی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ حملے ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں ہیں۔ نگران حکومت بروقت الیکشن کے عزم پر کاربند ہے، ایسے فعل ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، دونوں رہنمائوں نے خطے میں امن کے مشترکہ دشمنوں کو مل کر شکست دینے پر اتفاق کیا، ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان صدر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ٹیلی فون کر کے دہشتگردی کے واقعات کی مذمت اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بارڈر سیکورٹی بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پاکستان میں الیکشن کے دوران سرحد پر سیکورٹی کیلئے پاکستانی فورسز کیساتھ مکمل تعاون کرینگے۔ آرمی چیف نے افغان صدر کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ امرواقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں انتخابی عمل شروع ہوتے ہی سیکورٹی کے مسائل سر اٹھانے لگے اور گزشتہ تقریباًایک ہفتے کے دوران پشاور، بنوں اور مستونگ میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات نے سیکورٹی کے حوالے سے اٹھائے جانیوالے اقدامات اور خصوصاً گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے دعوئوں پر سیاسی رہنمائوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، ابھی گزشتہ روز ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کے ضمن میں اعتراض اٹھائے ہیں اور محولہ منصوبے کو کاغذی قرار دیا ہے وہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے لیکر بلوچستان تک اٹھنے والی لہر کو روکنا ہوگا، انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں جہاں دیکھا کالعدم تنظیموں کے جھنڈے لہرا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اور عراق میں الیکشن ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں، بلاول بھٹو زرداری کے اٹھائے گئے سوالات موجودہ سیاسی تناظر میں نہایت اہم ہیں، کالعدم تنظیموں کی جانب سے سیاسی سر گرمیوں میں حصہ لینے کے حوالے سے تحفظات نئے نہیں ہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں خصوصاً پنجاب کے اندر بعض انتہا پسند تنظیموں کی سر گرمیوں پر پہلے بھی آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور جب بھی کسی ایک تنظیم پر پابندی عائد کردی جاتی ہے تو وہ دوسرے نام سے سرگرم ہو جاتی ہے، تاہم جہاں تک بلوچستان کے اندر کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بلاول بھٹو زرداری نے سوال اٹھائے ہیں تو ان کا واضح اشارہ ان تنظیموں کی جانب ہے جو علیحدگی پسند نظریات رکھتی ہیں اور عرصہ دراز سے بلوچستان میں سرگرم ہوتے ہوئے تخریبی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، محولہ تنظیموں کی تاریں ہلانے کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان دشمن قوتوں کی جانب اشارے کئے جاتے ہیں اور نہ صرف ان کی تنظیمی ڈھانچے مغربی ملکوں میں انہی پاکستان دشمن قوتوں کے مالی تعاون سے چلائے جارہے ہیں، جہاں پاکستان کیخلاف معاندانہ پروپیگنڈہ بھی زوروں پر ہے جس کے نظارے چند ماہ پیشتر بعض مغربی ملکوں میں ’’فری بلوچستان‘‘ موومنٹ کے نام سے بسوں پر بڑے بڑے پوسٹرز کی صورت دیکھنے کو ملے جس پر پاکستان کے شدید احتجاج کے بعد پابندی لگا دی گئی بلکہ افغان سرزمین پر موجود بھارتی قونصل خانوں کی سرپرستی میں ان علیحدگی پسند تنظیموں کی مالی اور دہشتگردانہ تربیتوں میں تعاون سے بھی پاکستان کا بچہ بچہ پوری طرح با خبر ہے، یہ بھارتی قونصل خانے ان تخریب کاروں کو تربیت دیکر پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کاارتکاب کرواتے ہیں اور اب یہ باتیں سربستہ راز بھی نہیں ہیں، جس کی طرف پاکستانی سول اور آرمی قیادت نے بارہا افغان انتظامیہ کی توجہ دلا کر انہیں روکنے کے مطالبات کئے ہیں، تاہم افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افغان انتظامیہ نے نہ صرف ان معاملات پر کوئی سنجیدہ توجہ دی بلکہ الٹا افغانستان کے اندر ہونیوالی اسی نوعیت کی سرگرمیوں میں پاکستان پر الزامات کی بوجھاڑ جاری رکھی ہے، حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کیساتھ ملحقہ بارڈر میں قبائلی علاقوں میں قیمتی جانوں کی قربانی دے کر ان تخریب کاروں کا قلع قمع کرنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے جبکہ تحریک طالبان کا وجود اب افغانستان کے اندر ہی موجود ہے اور وہیں سے افغان اور امریکی فورسز کیخلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان سے فرار ہوکر افغان علاقوں میں پناہ لینے والے تخریب کاروں کے بارے میں پاکستان کی جانب سے توجہ دلانے کے باوجود پہلے تو ان کے وجود سے انکار کیا جاتا تھا لیکن حال ہی میں بعض ہائی پروفائل طالبان رہنمائوں کے ڈرون حملوں میں ہلاکت سے پاکستان کے دعوئوں کی تصدیق بھی ہوچکی ہے، اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں پاکستان سے ہر ممکن تعاون کر کے نہ صرف خود اپنی سر زمین افغانستان کو دہشتگردی سے محفوظ رکھے بلکہ پاکستان میں بھی امن کے قیام کو ممکن بنانے میں مدد گارہو، افغان حکمرانوں کو سنجید گی کیساتھ اس صورتحال پر سوچنا ہوگا کہ جب تک پاکستان اور افغانستان خلوص نیت کیساتھ باہم مل کر دہشتگردوں کیخلاف اقدام نہیں کرینگے یہ خطہ امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا جبکہ افغان حکمرانوں کو بھارت کے مکارانہ چالوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو کابل حکومت کے کاندھے پر اپنا بندوق رکھ کر پاکستان کو نشانہ بنانا چاہتا ہے مگر اس سارے عمل میں اگر پاکستان نشانہ بنتا ہے تو افغانستان میں بھی امن کے قیام کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں کیونکہ بارود کیساتھ کھیلنے والے کبھی کبھی خود بھی اسی بارود کا شکار ہوجاتے ہیں، بہرحال اس سلسلے میں دہشتگردوں کیخلاف اقدام اٹھانے کیساتھ ساتھ ملک کے اندر موجودہ سیاسی صورتحال پر ہمیں بھی سنجیدہ اقدام اٹھانے ہونگے اور سیاسی رہنماؤں کی سیکورٹی کو فول پروف بنانے پر توجہ دینا ہوگی جبکہ دوسروں کو ان معاملات کا ذمہ دار قرار دینے سے ہی کام نہیں چل سکتا، ملکی سیاسی قیادت کے تحفظ کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے اور ہمارے سیکورٹی ادارے اس حوالے سے فول پروف انتظامات پر توجہ دے کر ہی اس صورتحال سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں جبکہ بقول بلاول بھٹو زرداری مبینہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی اور ثبوت فراہم ہونے کی صورت میں نئے ناموں سے سرگرم ایسی تنظیموں پر بھی پابندی لگا کر ہی ہم سیاسی تطہیر کے عمل سے گزر سکتے ہیں کیونکہ اگر واقعی ان تنظیموں کے ارکان بھیس بدل کر پارلیمنٹ کے اندر جگہ بنا لیتے ہیں تو آنیوالے کل کو یہ لوگ پارلیمنٹ کو بھی یا تو مکمل طور پر یرغمال بنا لینگے یا پھر سیاسی بلیک میلنگ میں کامیاب رہیں گے جو ملکی مستقبل کے حوالے سے ایک تشویشناک امر کی نشاندہی کا باعث ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں