Daily Mashriq


بلدیاتی اداروں کی معطلی

بلدیاتی اداروں کی معطلی

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلامئے کی پیروی کرتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں کو 25 جولائی 2018 تک معطل کر دینے کے احکامات کی توثیق کر دی ہے۔ تاہم صوبائی حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ مذکورہ معطلی کے دوران نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کے معمول کے امور متاثر نہ ہوں، اصولی طور پر توصوبائی حکومت کے اس فیصلے پر اظہار اطمینان ہی کیا جانا چاہئے تاہم اس فیصلے کو کسی بھی طور بروقت قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ اقدام ملک میں الیکشن شیڈول جاری ہونے کیساتھ ہی اٹھایا جانا چاہئے تھا کیونکہ اب تو انتخابات میں صرف 7 روز ہی رہ گئے ہیں جبکہ اب تک انہی بلدیاتی اداروں کے اہم عہدیداروں نے جو کچھ کرنا تھا وہ پہلے ہی کر چکے ہیں، یعنی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے حق میں جن سے ان عہدیداروں کی سیاسی وابستگی ریکارڈ پر ہے، ہر وہ اقدام اٹھا کر عوام کو ان سیاسی جماعتوں کے حق میں رائے دہی پر آمادہ کر چکے ہیں اور مختلف علاقوں کو درپیش بلدیاتی مسائل، گلیوں نالیوں کی مرمت، آبنوشی اور نکاسی آب کے مسائل یا دیگر ضروری خدمات راتوں رات حل کر کے اپنی جماعتوں کے امیدواروں کے حق میں رائے ہموار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، اسلئے اب اگر بعد از خرابی بسیار یہ اقدام اُٹھا بھی لیا گیا ہے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، بہر حال بہ امر مجبوری اس اقدام کو پھر بھی قابل قبول قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے اور اس ضمن میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب اور آبنوشی کے مسائل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑنا چاہئے کہ یہ انتہائی بنیادی ضروریات میں سے ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی

ملکی تاریخ میں ڈالر کی قمیت میں اضافہ اور روپے کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ جانے سے ملکی معیشت پر پڑنے والے انتہائی منفی اثرات نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اس صورتحال میں راتوں رات جہاں قرضوں کے حجم میں 800 ارب کا اضافہ ہوگیا ہے وہاں سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان بھی دیکھنے کو ملا ہے جبکہ مہنگائی میں شدید اضافہ ہونے کو کسی بھی صورت روکا نہیں جاسکتا جبکہ زرمبادلہ میں کمی سے آنیوالے ہفتوں اور مہینوں میں قرضوں کی ادائیگی بھی شدید طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال سے ہمیں ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے اور انتہائی سخت شرائط پر نئے قرضوں کے حصول پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے جو ملکی ترقی کیلئے نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا، افسوسناک امر یہ ہے کہ ان دنوں جاری الیکشن مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے مابین ایک دوسرے پر الزام تراشی، یہاں تک کہ گالم گلوچ کے حوالے سے دوڑ جاری ہے جبکہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کو اقتدار پر براجمان ہونے کا تو بہت شوق اور خواہش ہے لیکن کوئی بھی جماعت ملکی معیشت کی اس نازک صورتحال پر بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ سب بلند بانگ دعوے کر کے اپنا پروگرام تو پیش کر رہی ہیں لیکن کونسی جماعت ان مسائل سے کیونکر نمٹے گی اس بارے میں ایک مسلسل چپ ہے۔ کیا یہ سیاسی رہنما اس صورتحال پر توجہ دیں گے؟۔

متعلقہ خبریں