Daily Mashriq

الحذر! اہلِ سیاست

الحذر! اہلِ سیاست

آج کے سیاسی لیڈروں میں متعدد ایسے نظر آتے ہیں جن کے بال آپ کے اس قلم کیش کی طرح سفید ہو چکے ہیں ۔ کم از کم انہوں نے تو وہ دور بقائم ہوش وحواس دیکھا ہوگا جب نواز شریف کی مسلم لیگ اور بے نظیر شہید کی پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر کھلے عام غداری کے الزام لگا رہی تھیں۔ جب پارٹی لیڈر ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک قرار دے رہے تھے ۔ جب نواز شریف کی مسلم لیگ پیپلز پارٹی پر بھارت نوازی کا الزام لگا رہی تھی اور آج نوا زشریف پر مودی کی یاری کے الزام عائد ہو رہے ہیں۔ آئی جے آئی بھی بنی جس کی تشکیل جس طرح ہوئی وہ آج زبانِ زدِ عام ہے۔ انتخابات بھی ہوئے۔ سیاست دشمن داری اور دف داری میں تبدیل ہو چکی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ دشمن داری ‘ گروہ بندی اور الزامات لیڈروں سے ورکروں اور عوام تک پہنچے اور ایسا دور آگیا جس میں گلی محلے میں خاندانی دشمنیاں پیدا ہو گئیں‘ شادی بیاہ کے رشتے ٹوٹ گئے ‘ دوستیاں ختم ہو گئیں اور گلیوں‘ بازاروں میں لوگ ایک دوسرے کے بارے میں احتیاط کیساتھ آنے جانے لگے۔ کیا یہ جمہوری عمل تھا؟ کیا یہ جمہوری سیاست تھی؟ اس سوال پر غور کیا جانا چاہیے تھا، جو نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد بے نظیر شہید اور نواز شریف کی آدھی آدھی مدت کی حکومتیں بنیں لیکن عوام کے درمیان یہ خلیج حائل رہی۔ سینیٹ میں ایک لیڈر نے کہا کہ ہم نے مخالف پارٹی پر جھوٹے مقدمات بنوائے لیکن یہ پریس ریلیز جلد ہی واپس لے لی گئی تاہم اس حقیقت کو سب جانتے ہیں کہ مخالف سیاسی سوچ رکھنے والوں پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے۔ اس کے ذمہ دار سیاسی قائدین تھے جو مثبت سیاسی رویے سے عاری تھے‘ جو نفرت فروشی اور اشتعال انگیزی پر کمربستہ تھے اور عام لوگ اپنے قائدین کے زیر اثر ایک دوسرے سے دست وگریبان تھے۔ اس وقت کو آج ضرور یاد کرنا چاہیے جب انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہے اور سیاسی قائدین قابل نفرت گفتگو کر رہے ہیں۔ افسوس ہم نے اس دور سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور سیاسی اختلافات کو دشمنی کی طرح بیان کرتے رہے۔ بات صرف یہ سوچنے کی ہے کہ آیا ہم اختلافی نقطۂ نظر کے حامل کی برائی بیان کر کے اپنے لیے نیکی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم دوسرے کی برائی ثابت کر دیں تو کیا ہم اس سے اچھے ہو جاتے ہیں۔ آج ایک بار پھر انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ آج پھر قائدین ایک دوسرے کی برائیاں بیان کر رہے ہیں‘ الزام تراشی کر رہے ہیں۔ یہ الزام سچ ہیں یا جھوٹ اس کی پروا نہیں صرف مخاطب عوام کی واہ واہ سے غرض ہے۔ قائدین کی یہ نفرت فروشی اور اشتعال انگزیزی عوام کے ذہنوں میں زہر بھر رہی ہے‘ رویوں میں سرایت کر رہی ہے، آج پھر عوام ایک دوسرے کو ’’وہ‘‘ سمجھنے کی طرف جا رہے ہیں، ایک دوسرے کو ہم سمجھنے سے دور ہو جاتے جا رہے ہیں۔یہ جمہوری سیاسی عمل نہیں ہے۔ یہ معاشرے کو تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ یہ قومی اتحاد کو منتشر کرنے کا عمل ہے۔ اس سے ہمارے سیاسی قائدین کو باز آ جانا چاہئے۔ یہی تو ہمارے دشمن چاہیں گے۔ ہم خود اپنی قوم سے دشمنی کی طرف جا رہے ہیں‘ ملک کو نقصان پہنچانے کی طرف جا رہے ہیں۔جمہوری عمل ملک اور قوم کے جسد سیاسی کے اندر رہتے ہوئے بہتری کیلئے ہوتا ہے جب ہم کسی ایک فریق کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں تو یہ جمہوری سیاسی عمل نہیں رہتا بلکہ جنگ کا آغاز بن جاتا ہے اور ہمارے بعض قائدین نے لگتا ہے ایک دوسرے کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور اس میں بنیادی اختلافی تقاضوں کو ٹھکرا دیا ہے۔ جمہوری سیاسی عمل میں ملک اور قوم کا ہر فرد قابلِ احترام ہوتا ہے۔ جمہوری سیاسی عمل میں سیاسی پارٹیاں افراد قوم کا احترام کرتے ہوئے ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ جمہوریت محض اکثریت کے احترام کا نام نہیں بلکہ اقلیت بھی جمہوریت میں برابر کی قابلِ احترام سمجھی جاتی ہے۔ فرض کیجئے آپ کی سوچ‘ آپ کا سیاسی پروگرا م آپ سے اختلاف رکھنے والی پارٹی کی سوچ اور پروگرام سے بہتر ہے تو یہ آپ کی کمزوری ہے اورآپ کے ورکروں کی نااہلی ہے کہ وہ اختلافی نقطۂ نظر رکھنے والی جماعت کے کارکنوں اور حامیوں کو اپنی بہتر سوچ اور پروگرام پر قائل نہ کر سکے۔ اختلافی نقطۂ نظر کو کم تر انسان قرار دینے والوںکو خود اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہئے جو لیڈر دوسروں کیلئے گالی جیسی زبان استعمال کرتے ہیں انہیں خود شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ کیا اب زبان درازی کیلئے بھی الیکشن کمیشن ضابطۂ اخلاق مرتب کرے گا۔ فرض کیجئے کل آپ الیکشن جیت جاتے ہیں اور ساری پاکستانی قوم کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں یا کسی پبلک جلسہ میں کہتے ہیں کہ میں سب کا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہوں یا ذمہ دار وزیر ہوں تو کیا آپ کے مخاطب وہ بھی ہوں گے جن کیخلاف آپ غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔ کیا اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان لوگوں کو ملیا میٹ کر دیں گے انتخابی مہم کے دوران جن کے ذمے آپ ساری برائیاں لگاتے رہے۔ یہ کیسا جمہوری عمل ہے جس میں ہر فرد کا شخصی احترام عملاً تسلیم نہیں کیا جاتا۔الحذر اہل سیاست اختلافی نقطۂ نظر رکھنے والوں کو برا کہہ کر خود کوئی اچھا نہیں بن جاتا۔ سیاسی انتخابی عمل دشمنداری کا عمل نہیں ہے۔ سیاسی جمہوری عمل اختلافی نقطۂ نظر کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ سیاسی جمہوری عمل کا مقصد عوام کے شعور کو اجاگر کرنا اورا س بنیاد پر قومی اتحاد کو فروغ دینا ہوتا ہے۔نفرت اور اشتعال کی زبان قوم کو منقسم اور منتشر ہی کر سکتی ہے۔ اہل سیاست سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قوم کو متحد اور منظم کریں گے۔ تقسیم نہیں ہونے دیں گے ۔تنقید اصلاح کے لیے کی جاتی ہے ۔ تنقید سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی اور ان کے پروگراموں کے حوالے سے کی جانی چاہیے تاکہ عوام کا شعور جلا پائے ۔کسی کے بارے میں غلیظ زبان کا استعمال خود ایسی زبان استعمال کرنے والے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کیساتھ آپ کی سیاست کو بھی۔

متعلقہ خبریں