Daily Mashriq


سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر

سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر

حمیت، شرم وحیا، احترام آدمیت اور خاندانی شرافت کی رخصتی دیکھ کر یقیناً دل خون کے آنسو رو رہا ہے، شاعر نے ویسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے، یہ مصرعہ جس حوالے سے کہا گیا تھا اس کے تاریخی پس منظر میں جھانکنے کی ضرورت ہے نہ موقع تاہم آج معروضی حالات جس نہج پر جا رہے ہیں ان پر اظہار خیال کئے بنا بھی نہیں رہا جا سکتا، ایک وقت تھا کہ ہماری سیاست میں باہمی احترام کے سوتے پھوٹتے تھے، سیاسی اختلافات کو ذاتی تعصب، تنگ نظری اور کم ظرفی کے دیمک نے ابھی نہیں چاٹا تھا، تعلق کسی بھی جماعت کیساتھ ہو، سٹیج پر اگر مخالفانہ تقریریں کی بھی جاتیں تو ان میں صرف مخالف جماعتوں کی پالیسیوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا، ذاتی اور شخصی حملوں سے گریز کا ایک کلچر موجود تھا جبکہ باہم میل ملاقات میں بھی شائستگی اور احترام کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر جماعت کیساتھ تعلق رکھنے والے ورکرز بھی اپنے اپنے علاقوں، گلی محلوں میں ایک دوسرے سے سماجی رابطوں کے حوالے سے باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے بلکہ ایک دوسرے کی غمی شادی میں شرکت بھی کرتے اور خوشی کا اظہار بھی کرتے، پھر خدا جانے یہ وبا کہاں سے اور کب پھوٹ پڑی کہ سیاسی اختلافات پر بھی ذاتی دشمنیوں کا گمان گزرنے لگا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، اپنے لڑکپن کے زمانے میں ایک انتہائی قابل قدر سیاسی شخصیت کا انتقال ہوا، میرے والد محترم کا تعلق مرحوم کی جماعت کے مخالف جماعت کیساتھ تھا اس لئے مرحوم کے حوالے سے ان کی محفل میں موجود ایک سیاسی ساتھی کی جانب سے قدرے منفی تبصرہ کیا گیا تو میرے والد محترم نے اپنے اس ساتھی کو سختی سے منع کیا اور کہا کہ مرحوم انتہائی اعلیٰ صفات کے مالک تھے۔ ان کے کردار کے حوالے سے کوئی منفی تاثر صرف اسلئے قائم نہ کیا جائے کہ ان سے ہمارے سیاسی اختلافات تھے بلکہ انہوں نے اپنے صوبے اور شہر پشاور کا نام اپنے سیاسی اور سماجی کارناموں کی وجہ سے روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسلئے وہ ہمیشہ سے ان کی قدر کرتے رہے ہیں اور میں نے دیکھا کہ میرے دادا محترم آخری سانسوں تک کسی بھی سیاسی مخالف کے بارے میں کبھی ذاتی طور پر منفی تبصرہ نہیں کرتے تھے، صرف سیاسی طور پر وہ اپنے سیاسی عقائد پر سختی سے کاربند رہے، پرانے دور کے سیاسی کارکن اپنے سیاسی مخالفین کو بھی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کی مخالفت صرف سیاسی سطح تک محدود رہتی تھی مگر اب تو بقول سلیم کوثر

اب تو ساون میں بھی بارود برستا ہے یہاں

اب وہ موسم نہیں بارش میں نہانے والا

پرانے دور کی یہ باتیں اس لئے یاد آئیں کہ اب ہمارے ہاں سیاسی اختلافات پر بھی ذاتیات کے انتہائی منفی چھینٹے پڑتے دکھائی دے رہے ہیں، سیاسی جلسوں میں کچھ عرصے سے بعض لیڈروں نے جو نامناسب بیانیہ اختیار کر رکھا ہے اس نے ملکی سیاسی فضا کو پرتعفن بنا دیا ہے اور جب سے یہ سوشل میڈیا کا طوفان آیا ہے اس قسم کے بیانئے روزبروز فروغ پا رہے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل کے اندر قوت برداشت نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی بیانیوں پر زہرناکی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، فیس بک اور خصوصاً ٹویٹر پر سامنے آنے والی پوسٹوں نے تو ذلت ورسوائی جیسے الفاظ کو بھی شرافت کا جامہ پہنا کر اسے سکہ رائج الوقت میں تبدیل کر دیا ہے، یہاں تک کہ اب مخالفین کی گھریلوں خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا اور ننگی گالیاں ان خواتین کا مقدر بنا دی گئی ہیں۔ اگر ہم کسی کی جانب اعتراض کی خاطر اشارہ کرتے ہیں تو بہتر ہے پہلے ہم اپنی ذات کے اندر موجود خامیوں اور کمی کا بھی ادراک کر لیں کہ کہیں خود ہم میں تو یہ کمزوریاں موجود نہیں ہیں، بقول ایوب صابر مرحوم

دس بیس نہیں ایک ہی انسان بتا دو

ایسا کہ جو اندر سے بھی باہر کی طرح ہو

ماضی میں بھی اگرچہ سیاسی مخالفین پر بعض اوقات ذاتی حملے ضرور کئے گئے مگر ان کا دائرہ پھر بھی محدود تھا جیسا کہ بھٹو مرحوم ازراہ تفنن دو لیڈروں کیلئے ڈبل بیرل خان اور آلو کے الفاظ استعمال کرتے تھے، تاہم ننگی گالیوں کا کبھی ارتکاب نہیں کیا۔ تاہم بعد میں ایک دور ایسا آیا جب لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مخاصمت بڑھی تو دونوں جماعتوں کے حمایتیوں نے پنجاب میں وہاں کی روایتی جنگ بازی سے کام لیتے ہوئے بعض نامناسب نعرے ایجاد کئے اور تب سے سیاسی اختلاف میں ذاتیات کا کلچر فروغ پانے لگا۔ تاہم ان دنوں بعض سیاسی لیڈر مخالف سیاسی شخصیات اور مخالف پارٹیوں کے حمایتیوں کیلئے جس قسم کے غلیظ الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ یقیناً انسانیت کی سطح سے گر کر پستی کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں، کسی کو کسی جماعت کو ووٹ دینے پر بے غیرت قرار دینا، کسی خاص جماعت کے حامیوں کو گدھا قرار دینا، کسی جماعت کے ورکرز کی والدہ کے حوالے سے شرافت سے گری ہوئی زبان استعمال کرنا اور اسی نوعیت کے دیگر خطابات سے ملک میں سیاست کو پراگندگی کا شکار کرنے کے مترادف ہے جبکہ ان لیڈروں کے تتبع میں ان کے حامی سوشل میڈیا پر کہیں زیادہ شرمناک زبان کا استعمال کرکے ملک میں کس قسم کا کلچر فروغ دینا چاہتے ہیں، خدارا اس پر سنجیدگی سے سوچئے اور اس صورتحال کو قابو کیجئے بصورت دیگر اس سے جو مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں ان کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں

متعلقہ خبریں