Daily Mashriq


یہ لکھنا نہیں آساں

یہ لکھنا نہیں آساں

بہت سارے لوگوں کو لکھنے کا شوق ہوتا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ مجھ سے تعارف ہونے والوں کی اکثریت اکثر وبیشتر مجھ سے لکھنے کا شوق ہونے کا اظہار کرتی ہیں جبکہ مجھے عزیزان مشرق سے جب بھی گپ شپ کا موقع ملتا ہے تو ان کے پاس اس حوالے سے کوئی نہ کوئی دلچسپ کہانی ہوتی ہی ہے۔ میرے بہت سے قارئین اس کالم میں دیئے گئے نمبر کی وساطت سے کالم لکھنے کے شوق کا اظہار کرنے کیساتھ ساتھ کچھ تراکیب وطریقہ اور نکات سے آگاہ کرنے کی فرمائش کرتے رہتے ہیں۔ بعض تو براہ راست سفارش اور کالم چھپوانے تک کی فرمائش کر کے مجھے خواہ مخواہ امتحان میں ڈالتے ہیں۔ شاید ان کو نہیں معلوم کہ بعض اوقات مجھے بھی خود اپنے کالم کے حوالے سے مشکلات پیش آتی ہیں۔ میں اپنے کسی قاری کے جذبے کو یہ کہہ کر کہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں ان کا گلہ ہرگز نہیں گھونٹوں گی حالانکہ یہی صحیح جملہ ہے۔ میں اس کی بجائے اپنے قارئین اور لکھنے کے خواہشمند خواتین وحضرات کو مشورہ دوں گی کہ اگر وہ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھنے سے ابتدا نہ کریں بلکہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک پونڈ لکھنے کیلئے دس پونڈ پڑھنا پڑتا ہے۔ اگر آپ لکھنے کیلئے پرعزم ہیں تو سب سے پہلے پڑھیئے اور جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں اس موضوع پر خوب تحقیق کیجئے، سوچئے، غور کیجئے کہ آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں اور کیوں لکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی اس تحریر کا مقصد کیا ہوگا اور اس موضوع سے آپ کس حد تک انصاف کر سکیں گے۔ بات یہاں تک ہوتی تو بھی ٹھیک تھا لیکن اس سے بھی بنیادی بات یہ ہے کہ کیا آپ جس زبان میں لکھنا چاہتے ہیں اس زبان پر آپ کو مکمل عبور حاصل ہے اور اگر نہیں تو کم ازکم اس حد تک عبور حاصل ہونا چاہئے کہ آپ کی تحریر قابل قبول اور قابل اصلاح حد تک ہو۔ اپنے خیالات کو کاغذ پر منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ قلم کاغذ سنبھال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پریکٹس نہ ہو تو جملہ ہی نہیں بنتا، تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ ایک مرتبہ ایک سینئر صحافی سے ان کے اچھے اچھے عہدوں پر فائز اعزہ الجھ پڑے کہ ان کا کام بھی کوئی مشکل کام ہے۔ موصوف سنتے اور ہنستے رہے لیکن جب زچ ہوگئے تو اٹھ کر قلم کاغذ لاکر سب کے سامنے رکھ دیئے کہ مشکل موضوع بھی نہیں دے رہا آپ حضرات ’’میرا گاؤں‘‘ کے عنوان سے ایک قابل قبول تحریر لکھ کر دکھایئے۔ محفل میں موجود سول سروس کا اعلیٰ امتحان پاس کر کے عہد ہ حاصل کرنے والے نے سب سے پہلے اعتراف کیا کہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ بہرحال یہاں صرف لکھنا ہی نہیں ہوتا اسے کسی اخبار یا رسالے میں چھپوانا بھی ہوتا ہے، جہاں نظر کے چشمے کے اوپر سے چہرے پر نظر ڈالنے پر بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ وہ آپ کی تحریر کو کن مراحل سے گزارتے ہیں ان کی ایک عمودی نظر سے بچنا مشکل ہوتا ہے کجا کہ وہ عمیق جائزے کے بعد آپ کی تحریر پر رائے دیں۔ ’’یہ لکھنا‘‘ نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے اک آگ کا دریا ہے اور کود کے جانا ہے۔ عشق کے بجائے میں نے لکھنا کر دیا ہے باقی عشق اور لکھ میں کوئی زیادہ فرق نہیں، عشق میں عقل ماؤف ہو سکتا ہے مگر لکھ میں دماغ کے چودہ طبق روشن ہوتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود میں آپ کو حوصلہ دیتی ہوں کہ پڑھنا لکھنا شروع کیجئے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ Practice makes perfect۔ لکھئے، پڑھئیے، اصلاح کیجئے، ناقدانہ جائزہ لیجئے، پھینک دیجئے اور بار بار ایسا کریں کسی سے اصلاح لیں اور جب محسوس کریں کہ اب آپ کی تحریر چھپنے کے قابل ہوگئی ہے تو کسی چھوٹے اور اوسط درجے کی اخبار میں بھیجئے، ایڈیٹر کے نام مراسلہ لکھنا سب سے آسان طریقہ ہے۔ سو باتوں کی ایک، لکھنا کسی کو سکھایا نہیں جاسکتا سمجھانا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ میرے خیال میں کالم اسی پر ہی پورا ہونیوالا ہے۔ اُمید ہے قارئین اس سے استفادہ بھی کرنے کی کوشش کرینگے خاص طور پر وہ تمام جو مسلسل اور بااصرار لکھنے کے شوق کا اظہار کرتے ہیں۔ اب بڑھتے ہیں ایک آدھ مسئلے والے برقی پیغام کی طرف۔

ایک قاری کا لکی مروت سے برقی پیغام ملا ہے جس میں انہوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام اور مانیٹرنگ والوں کو ایک اُستاد کی غیرحاضری تو نظر آتی ہے مگر پرائمری اساتذہ کے سروس بک میں سالوں سے انٹریاں نہیں ہوئیں۔ سرکاری سکول کے یہ استاد محترم اتنے حقیقت پسند ہیں کہ ساتھ ہی خود ہی یہ سوال بھی اُٹھاتے ہیں کہ بنوں بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ ٹوئنٹی میں کسی بھی سرکاری سکول کا طالب علم شامل نہیں۔ جہاں تک سروس بک میں اندراج کا تعلق ہے اس ضمن میں ان کی شکایت بجا اور محکمہ تعلیم کے حکام کی غفلت قابل گرفت ہے لیکن دوسری جانب سرکاری سکول کے اس اُستاد محترم کا سوال جو آئی ایم یو اور محکمہ تعلیم کے حکام سے ان کی شکایت کا ہے تو اس کی ذمہ داری پرائمری سے لیکر مڈل اور ثانوی تعلیم سبھی کے اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ پرائمری سکولوں کے اساتذہ اگر طلبہ کی بنیاد پکی کرنے میں محنت کریں تو مڈل کے اساتذہ کو ان کو سمجھانے میں آسانی ہوگی اور ہائی سکول کے اساتذہ کو انکو امتحانات کیلئے تیار کرنے کا موقع ملے گا۔ یہاں کسی سطح پر تعلیم کا کوئی معیار ہی نہیں ۔ اساتذہ ہوں یا محکمہ تعلیم کے عمال کسی کو بھی بچوں کے مستقبل سے دلچسپی نہیں، مراعات اور سہولتوں ، ترقیوں اور اپ گریڈیشن کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں اب لوگ اپنے بچوں کو مجبوری کے تحت بھی بھیجنا نہیں چاہتے۔ باون ہزار طلبہ کا فیل ہو جانا کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔ کس کس کا رونا روئیں اور کس کس چیز کا ماتم کریں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں