Daily Mashriq


سندھ میں کمزورہوتی پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ

سندھ میں کمزورہوتی پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ

انتخابات 2013ء میںوفاق میں شکست سے دوچار ہونیوالی پیپلز پارٹی نے گزشتہ پانچ سال سندھ میں حکمرانی کی ہے، جب انتخابات 2018ء کا طبل بجا تو اُمید کی جارہی تھی کہ پیپلز پارٹی صوبے کی حد تک اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اب جبکہ انتخابات میں چند دن باقی رہ گئے ہیں تو پیپلزپارٹی کی سندھ میں سیاسی ساکھ کے بارے جو اطلاعات آرہی ہیں وہ تسلی بخش نہیں ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی سندھ میں اکثریت کھودے گی۔ سندھ میں کم وبیش تین درجن سے زائد انتخابی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے اپنے ہی مختلف امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے باعث سندھ میں پیپلز پارٹی کی محفوظ ترین تصور کی جانیوالی انتخابی نشستیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل سندھ میں اپنے آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت سے محفوظ تصور کر رہی تھی لیکن ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی نے اپنے ناراض رہنماؤں کے خدشات کو دور نہیں کیا تو اسے قومی اور صوبائی اسمبلی کی 50سے زائد یقینی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ سندھ میں انتخابی ٹکٹ نہ ملنے پر اہم ناراض رہنماء پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کرنے لگے ہیں جبکہ کئی سینئر رہنماؤں نے ٹکٹ نہ ملنے پر الیکشن مہم میں خاموشی کیساتھ پارٹی مخالف امیدواروں کی حمایت کرنے کا عندیہ بھی دیدیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کیلئے صوبہ سندھ کے کئی انتخابی حلقوں میں کامیابی حاصل کرنا ایک بڑا ایشو بن گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے213 نواب شاہ سے الیکشن لڑنے والے پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کو بھی سخت ترین مقابلہ کا سامنا ہے، سابقہ انتخابات میں اس حلقے سے ان کی بہن عذرا پیچوہو85 ہزار ووٹوں کی واضح اکثریت سے کامیاب ہوئی تھیں ان کے مقابلے میں سردار شیرمحمد رند نے 32 ہزار ووٹ اور فنکشنل لیگ کے امیدوار نے 25 ہزار ووٹ لئے تھے مجموعی طور پر عذرا پیچوہو کے مقابل تمام امیدواروں نے ایک لاکھ 25 ہزار ووٹ لئے تھے اس بار سردار شیر محمد رند جی ڈے اے کی طرف سے مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہیں پی پی مخالف ہر سیاسی جماعت کی حمایت بھی حاصل ہے، اگر وہ تمام پیپلز پارٹی مخالف ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آصف علی زرداری کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ضلع بدین بھی سندھ کا ایک اہم ترین حلقہ ہے جو کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں سے بھی پی پی کیلئے کچھ اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ضلع بدین کے علاقے ماتلی سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے غلام علی نظامانی پارٹی سے اپنی راہیں الگ کر تے ہوئے جی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس حلقے سے ایم این اے کی سیٹ کیلئے جی ڈی اے نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو نامزد کیا ہے جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے میر غلام علی تالپور کریں گے اس حلقے میں فنکشنل لیگ کے اثر ورسوخ اور سیاسی اثرات کے سبب پیپلز پارٹی کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ضلع تھرپارکر کے پی ایس56 سے سابق ایم این اے فقیر شیر محمد بلالانی نے پی پی کے امید وار ڈاکٹر مہیش ملانی سے مقابلے کا اعلان کر دیا ہے جس سے پارٹی قیادت سخت پریشان ہے، اس حلقے میں بھی مہیش ملانی کی پوزیشن بے حد کمزور بتائی جارہی ہے کیونکہ نئی حلقہ بندی کے نتیجے میں تقریباً10 ہزار سے زائد مہیش ملانی کے حمایتی ووٹرز دوسرے حلقے پی ایس57 کا حصہ بن گئے ہیں جبکہ تھر پارکر میں غوثیہ جماعت کا بھی کافی ووٹ بینک ہے اور شاہ محمود قریشی نے بھی فقیر شیر محمد بلالانی کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے جس کی وجہ سے ان کی کامیابی کے امکانات یقینی ہیں۔ضلع گھوٹگی سے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے سردارعلی گوہر مہربھی پیپلز پارٹی سے الگ ہو کرجی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں ضلع دادو کے علاقے میہڑسے تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے طلعت مہیسر پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں عمران ظفر لغاری اور فیاض احمد بٹ کیلیے مسئلہ بڑھ گیا ہے۔ لاڑکانہ سے ٹکٹ نہ ملنے پر سابق ایم پی اے عزیز جتوئی ناراض ہیں، پیپلز پارٹی نے تعلقہ ڈوکری کے اس علاقے کے NA-201 پر جس شخص خورشید احمد جونیجو کو نامزد کیا ہے ان کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں انڑ گروپ نے اس حلقہ سے پیپلز پارٹی کو شکست دی تھی اس بار انڑ گروپ کے امیدواروں کو اللہ بخش انڑ اور عادل انڑ کو جی ڈی اے کی مکمل حمایت حاصل ہے اس غیر متوقع سیاسی صورتحال کی بدولت لاڑکانہ کے وہ حلقے بھی جو ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کیلئے انتہائی محفوظ تصور کئے جاتے تھے وہاں پر بھی سخت مقابلے کا امکان پیدا ہوگیا ہے یہ سیاسی حالات بلاشبہ پی پی قیادت کے سیاسی مستقبل کیلئے خطرناک ہیں۔

متعلقہ خبریں