Daily Mashriq


اس نظام کو کون بدلے گا؟

اس نظام کو کون بدلے گا؟

یہی تو ہمارا رونا ہے۔ پہلے کسی کو خیال نہیں آتا لیکن جب اپنے آپ پر بیتتی ہے تو انسانی حقوق بھی یاد آجاتے ہیں اور یہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے کہ ملک کا نظام انصاف درست طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے۔ نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں پہلی رات گزاری تو بیٹے حسین نواز نے آہوکار مچا دی کہ والد محترم کو مہیا ہونیوالا بستر اور باتھ روم ناقص حالت میں تھا۔ اب موصوف کو کون بتائے کہ آپ کے والد محترم گزشتہ 35 برس سے اس مملکت خداداد پاکستان پر وقفے وقفے سے حکومت کرتے رہے‘ دس برس سے مسلسل آپ کے چچا محترم پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ یہ جیلوں کا انتظام اور بہتر نظم ونسق کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ جیلوں کے مچھر اور کھٹمل بڑے مشہور ہیں؟ پاکستانی جیلیں درحقیقت عقوبت خانے ہیں لیکن اس کا احساس تب ہوتا ہے جب اپنے آپ پر گزرتی ہیں۔ دوسرے قیدیوں کے انسانی حقوق کا کسی کو احساس ہے؟ قیدی تو خیر قیدی ہیں ان کو چھوڑئیے آزاد انسانوں پر پاکستان میں جو بیت رہی ہے اس کی مثال دنیا کے کسی مہذب ملک میں نہیں ملتی۔ سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت خوراک اور پانی ہے۔ کیا اس مملکت خداداد کے شہریوں کو معیاری‘ متوازن اور ملاوٹ سے پاک خوراک دستیاب ہے اور کیا یہاں صاف پینے کا پانی ان کی دسترس میں ہے؟ انسانوں کو زندہ رہنے کیلئے جہاں خوراک کی ضرورت ہوتی ہے وہیں اپنی ہموار معاشرتی زندگی کیلئے انصاف کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن معاشروں میں انصاف قائم ہوتا ہے وہ بلند ہو جاتے ہیں اور جہاں انصاف کا یکساں معیار نہیںہوتا وہ ممالک تیسری دنیا کی صف میں شمار ہو جاتے ہیں۔ آج پاکستان میں جو نظام انصاف قائم ہے اس کی بابت خود میاں نواز شریف نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ انتہائی ناقص ہے۔ یہ نظام انہیں ناقص اس لئے نظر آتا ہے کہ وہ آج کل خود اس کی گرفت میں ہیں۔ ان کے حوالے سے اگرچہ تیزی سے انصاف کا عمل بروئے کار آیا اور ان کی شکایات قدرے بے جا اور بے بنیاد نظر آتی ہیں مگر عمومی طور پر پاکستان میں انصاف کی عمارت ایک کھنڈرمیں تبدیل ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف خود شکنجے میںآئے تو انہیں خامیاں دکھائی دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک متحرک اور قابلِ اعتماد نظام انصاف کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مقدمات کے فیصلے ہفتوں اور مہینوں میں نہیں ہوں گے وطن عزیز تباہی اور بربادی کا شکار رہے گا۔ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عدالتوں کو یونین کونسلوں کی سطح تک لانے کے بعد ہی کسی مثبت تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ موجودہ نظام انصاف کس قدر پیچیدہ‘ دشوار اور مشکل ہے اس کی وضاحت کیلئے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

راولپنڈی کے علاقے مسلم ٹاؤن سے آج سے بارہ تیرہ برس قبل ایک دس سالہ بچہ ولید اغوا ہوا۔ بچے کی بازیابی کے دوران ایک شخص قتل ہوا جبکہ بعد ازاں اغوا کاروں نے بچے کو بھی قتل کر دیا۔ جب اغوا کار پکڑے گئے تو امید پیدا ہو گئی کہ یہ جلد ہی اپنے انجام کو پہنچیں گے لیکن جب چھ سات سال بعد مجھے اس بچے کا والد ملا تو اُس نے بتایا کہ انصاف کی آس لگائے وہ عدالتوں میں دوڑ رہا ہے جبکہ اس کے بارہ پندرہ لاکھ روپے وکیلوں کی فیسوں اور پولیس کی خدمت میں صرف ہو چکے ہیں۔ اُس نے بتایا کہ اس بھاگ دوڑ کے باوجود ولید کے مقدمے میں اغواء کار کی ضمانت ہو چکی ہے چونکہ بچے کے قتل کاکوئی عینی گواہ نہیں ہے۔ اس وقت مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیرِ سماعت تھا اور اغواء کار دوسرے قتل کے مقدمے میں ابھی تک پھنسا ہوا تھا۔ کچھ عرصے بعد مجھے اطلاع ملی کہ ولید کا والد اپنے بچے کے قاتل کو تختہ دار پر جھولتے دیکھنے کی حسرت لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ یہ ہے ہمارا نظام انصاف۔ پراسیکیوشن اور جیوڈیشری سمیت سب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ انصاف لینے کیلئے در در دھکے کھانے پڑتے ہیں اور مدعی کو بھی مجرم کی طرح ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ اس نظام کو ہم نے کب اور کیسے بدلنا ہے اس کی جانب کسی کی توجہ نہیں ہے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان پر برسوں حکمرانی کے مزے لوٹنے والے بھٹو اور شریف خاندان کی ترجیح میں یہ کام کرنا نہیں ہے۔ عمران خان سے ہم تبدیلی کی امید لگا سکتے ہیں کیونکہ عمران خان پولیس کے نظام کو بہتر بنانے اور عدالتوں کو نچلی سطح تک لانے کی سوچ رکھتا ہے۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل میری ان سے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ یونین کونسل کی سطح تک جج لیکر آئینگے۔ پختونخوا میں پولیس کو سیاسی وابستگی سے پاک کرنے اور اُسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا کام اگرچہ انہوں نے انجام دیا ہے مگر عدالتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا۔ ہم امیدکر سکتے ہیں کہ مرکز میں اقتدار اگر عمران خان کو ملا تو وہ عدالتوں میں حصول انصاف کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور فوری انصاف مہیا کرنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کام کرینگے۔ عمران خان کی سوچ اور وژن ایک پروگریسو پاکستان کی ہے جہاں لوگوں کے درمیان معاشی اور معاشرتی مساوات قائم کرنا ان کی ترجیح ہے۔ ان کے مقابلے میںمسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت جس پراگندہ سوچ کے تحت یہ ملک چلاتی رہی ہیں اُس سے امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہا اور معاشی ومعاشرتی ناہمواری پیدا ہوئی ہے اور ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے چلا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں