Daily Mashriq

مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہے گا

مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہے گا

وزیراعظم عمران خان نے گھی اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی چیف سیکریٹریز سے وضاحت طلب کرلی ہے وفاقی کابینہ نے خوردنی تیل پر عائد ٹیکس سات فیصد سے کم کر کے دو فیصد کرنے کا اعلان کیا جبکہ قبل ازیں آٹے کی قیمتیں برقرار رکھنے کیلئے بھی اسی قسم کا اقدام فلورملز مالکان کی طرف سے ہڑتال کی دھمکی کے بعد کیا گیا ۔حکومت کے ان اقدامات اور مارکیٹ کے حالات دونوں ہی سے مہنگائی میں اضافہ ثابت ہے۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا جس کے بعد شرح سود 13.25 فیصد ہوگئی۔گورنر سٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافہ مہنگائی کے پیش نظر کیا گیا کہ شرح سود میں 120 پوائنٹس کا اضافہ ہونے سے چند عوامل ایسے ہیں جن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں گیس، بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر اقدامات کی وجہ سے آئندہ 2، 3 ماہ میں قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے۔رضا باقر نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ کچھ عوامل ایسے ہیں جن سے متعلق ہم نے غور کیا ہے کہ شرح سود میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے ان میں طلب میں کمی آرہی ہے ، دوسرا یہ کہ مالیاتی بجٹ میں ٹیکس وصولیوں اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے صارفین کی قوت خرید میں کمی آئے گی جس سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔ ان دونوں عوامل کی بنیاد پر رواں مالی سال مہنگائی میں 11 سے 12 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک گزشتہ برس سے اب تک مالی خسارے اور روپے کی قدر سے متعلق دبائو کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کی کوشش کے تحت شرح سود میں 9 مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے 750 پوائٹس کا اضافہ کرچکا ہے۔بینک دولت پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد شرح سود میں مزید اضافہ ہوگیا ہے موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے شرحِ سود میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے اثرات اچھے ثابت نہیں ہوتے پاکستان کی حکومت کو اس گھن چکر سے نجات ہی نہیں ملتی تاہم حالیہ گیارہ ماہ میں قرضوں اور شرح سود میں اضافہ خاصا تشویشناک اس لئے ہے کہ یہ ایک نہ رکنے والا سلسلہ بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سال پاکستان کا مالیاتی خسارہ7.5فیصد تک بھی جا سکتا ہے جس کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو مزید پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ شرح سود میں اضافہ کی منطق یہ ہے کہ جب لوگوں کو زیادہ شرح سود ملے گا تو وہ بینک میں پیسے جمع کرنے پر راغب ہوں گے اور وہ خرچ پر بچت کو ترجیح دینے لگیں گے جس کی وجہ سے ان کا شدید مہنگی درآمد شدہ اشیا پر بھی خرچہ کم ہوگا۔ اس طریقۂ کار سے درآمد وبرآمد کے توازن میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے، لیکن یہ یقینی اور ضروری نہیں بلکہ ایک امکان ہی ہوتا ہے۔ معاشی طور پر ایک فیصلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ غیرملکی کرنسی کے ذخائر بڑھا کر گرتے ہوئے روپے کو سہارا دیا جائے شرح سود بڑھنے کا اثر قومی مجموعی پیداوار میں کمی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے چھوٹے اور درمیانے سطح کے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ بڑھتی ہوئی شرح سود کے باعث ان کیلئے ادھار لینا بھی مشکل ہو جائے گا۔ بجٹ میں ٹیکسز میں رد وبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے گورنرسٹیٹ بنک بھی مہنگائی میں مزید اضافہ کا عندیہ دے رہے ہیں ملک کے معاشی حالات اور مالیاتی پالیسیوں کے باعث عام آدمی کی مشکلات، روزگار کے مواقع چھن جانے اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ دراضافہ تشویشناک صورتحال بنتی جارہی ہے۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نہ صرف اس مسئلے پر قابو پانے میں ناکامی کا شکار ہے بلکہ مزید حکومتی اقدامات کا بوجھ عوام کی خمیدہ کمر پر لادنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ گیس اور بجلی کے بلوں سے براہ راست متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبارکیلئے حالات اور بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ان میں سے کچھ مجبوری کے تحت پہلے سے غیررسمی شعبے میں موجود کارکنوں کی تعداد میں کمی کر کے بیروزگاری میں اضافہ کر رہے ہیں، یہ رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ زیادہ خطرے کی بات مرکزی بینک کی جانب سے آئندہ سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کی پیشگوئی ہے۔ رواں سال روپے کی قدر میں باربار کمی آئی، فی کس آمدن کم ہوئی اور ڈالر کے اعتبار سے قومی معیشت سکڑ گئی، سرمایہ کاری میں منفی رجحان سامنے آیا جبکہ قومی بچت اور برآمدات بھی کم ہوئیں۔ پاکستان کے قرضوں کا حجم بھی بڑھا ہے۔ اس صورتحال سے مہنگائی کیساتھ ساتھ کاروباری طبقے کے خدشات اور ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ان سارے معاشی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بجائے ان حالات سے نکلنے کی تدبیر کرنے کے وزیراعظم کی جانب سے چیف سیکرٹریز کو مہنگائی میں کمی لانے کی ہدایت آسمان سے تارے توڑلانے کے حکم کے مترادف ہے جس کا بجا لانا ان کے بس کی بات نہیں مالیاتی ماہرین معیشت دان اور سٹیٹ بنک کے اب تک کے سامنے آنے والے اقدامات مہنگائی میں مزید اضافہ اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے حامل ہی ہیں ان پالیسیوں کے نتیجے میں مستقبل قریب میں مہنگائی میں ٹھہرائو آنے کی بھی امیدنہیں ان اقدامات کے باعث حکومتی پالیسیاں ہی مہنگائی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہیں جس میں تبدیلی لائے بغیر خواہ کتنے بھی سخت اقدامات نہ کئے جائیںان کی حقیقت ہیچ ہوگی۔

متعلقہ خبریں