Daily Mashriq

وسائل کے حصول کی سعی

وسائل کے حصول کی سعی

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کی تاریخی مساجد اور مزارات کو بھی ٹیکس دائرہ میں لانے کا فیصلہ اگرچہ تھوڑا سا باعث کراہت قسم کا فیصلہ لگتا ہے لیکن ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں البتہ حکومت پنجاب کا قبرستانوں اور میت دفنانے میں تاخیر پر رقم وصولی مضحکہ خیز اور بے حسی کی انتہا ہے جس کا حکومت کیلئے طعنہ بن جانا فطری امر ہے ہمارے نامہ نگار کی خصوصی خبر کے مطابق غیر منقولہ جائیداد کی مد میں پراپرٹی ٹیکس اکٹھا کرنے سمیت مزارات کے چندہ باکس کی بھی سرکاری سطح پر نیلامی کی جائیگی اس سلسلے میں محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا نے صوبے میں موجود تاریخی مساجد اور مزارات کی تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کردی ہیں محکمہ نے اب تک 30سے زائد مساجد اور مزارات کو سیس فنڈ میں شامل کیا ہے جبکہ 70سے زائد پر کاغذی کارروائی جاری ہے صوبائی حکومت کی جانب سے تاریخی مزارات کے چندہ باکس کو بھی ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں جہاں اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ اس پر ٹیکس لگ سکے ان تمام مدات خواہ وہ جس مدمیں ہو اور جس صورت اور جہاں سے حاصل ہواس کا حساب کتاب رکھنے میں نہ تو کوئی قباحت ہے اور نہ ہی چھوٹ دینے کی ضرورت ہے۔ بظاہرتو تاریخی مساجد کے چندہ باکس پر حکومتی اختیار احسن نظرنہیں آتا لیکن یہ سلسلہ پہلے سے موجود ہے صرف اس کے دائرے کو وسعت دی جارہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اوقات کی آمدن میں اضافہ اوقاف کے عملے خادمین مسجد اور آئمہ کرام کو اعزازیہ کی ادائیگی کیلئے وسائل اگر محولہ طریقے سے حاصل ہوجائے تو مضائقہ نہیں بعض اوقات فنڈز کی کمی کے باعث آئمہ حضرات اور خادمین مسجد کو مہینوں تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہو پاتی اگر اس کیلئے ذریعہ آمدن تلاش کیا جائے اور اس آمدنی اور وسائل کا استعمال مساجد کی تعمیر ومرمت اور مزارات کے انتظامات پر کیا جائے تو اس سے حکومت پر بوجھ کم ہوگا ساتھ ہی ساتھ بلا تاخیر تعمیر ومرمت تزائین وآرائش بحالی اور تحفظ کے اقدامات میں بھی تاخیر نہیں ہوگی۔توقع کی جانی چاہیئے کہ غیر منقولہ جائیداد اور چندہ باکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا درست حساب رکھا جائے گا اور اس آمدنی کو خاص اسی مد میں استعمال کیا جائے گا تاکہ اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے اور کسی کی حق تلفی کا سوال نہ اٹھے۔

قبائلی اضلاع کے تعلیمی اداروں بارے رپورٹ

انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواکی قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں کے بارے میں رپورٹ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہے جس میں قبائلی اضلاع کے 55فیصد سکولوں میں بجلی کی سہولت اور 51فیصد سکولوں میں پانی کی سہولت موجود نہیںرپورٹ کے مطابق قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی حاضری 82فیصد اور غیر حاضری 18فیصد ہے جب کہ طلباء کی حاضری 62فیصد ہے۔قبائلی اضلاع میں تعلیم وتعلم کے حوالے سے مستند رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال کسی طور حوصلہ افزاء نہیں اس سے ان امور اور خامیوں کی تصدیق ہوتی ہے جس کا اظہار بار بار ہوتا رہا ہے اب جبکہ ایک آزاد ادارے نے اس ضمن میں اعدادوشمار کے ساتھ رپورٹ جاری کی ہے اس رپورٹ میں گنجائش موجود ہونے کا امکان ردنہ کرتے ہوئے اور اس کی جامعیت اور مبنی بر حقیقت ہونے بارے بھی کسی رائے کا اظہار کئے بغیر اس کا حوالہ دیا جائے تو اس کی روشنی میں قبائلی اضلاع کے تعلیمی اداروں میں سہولیات اور تدریسی عمل کی صورتحال تسلی بخش نہیں جو حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیئے کیونکہ کثیر وسائل کے استعمال کے باوجود صورتحال سب کے سامنے ہے۔ معیار تعلیم کا جائزہ چونکہ اس سروے کا موضوع اور ذمہ داری ہی نہ تھی جس کی حالت سب سے زیادہ خراب اور ناگفتہ بہہ قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت امر نہ ہوگا۔ رواں مالی سال حکومت نے قبائلی اضلاع کے تعلیمی شعبے کیلئے36ارب روپے مختص کر کے قبائلی اضلاع میں بہتری کے عزم کا ضرور اظہار کیا ہے اس سے امید وابستہ نہ کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ حکومت سابقہ فاٹا میں تعلیمی اداروں اور تعلیم وتعلم کی خامیوں نقائص اور خرابیوں کا جائزہ لے اور ان کو دہرانے کی بجائے ان کی اصلاح اور تبدیلی کی سنجیدہ کوشش کرے تاکہ خطیر رقم پہلے کی طرح ضائع نہ ہو۔

متعلقہ خبریں