Daily Mashriq

لاہور لاہور ہے‘ کیوں شہباز شریف صاحب؟

لاہور لاہور ہے‘ کیوں شہباز شریف صاحب؟

پچھلے چند دنوں سے بارشیں جاری ہیں۔ ساون کا مہینہ تو بارشوں کے لئے ہمیشہ سے مشہور رہا ہے۔ بارش کس کو اچھی نہیں لگتی؟ مگر بارش کے بعد پیدا ہونے والا حبس جان لیوا ہوتا ہے۔ بارش نعمت بھی ہے اور کچے گھروں اور جھونپڑیوں میں بسنے والوں کے لئے زحمت بھی بن جاتی ہے۔ خیر چھوڑیں رب دیاں رب جانے ( اللہ کی اللہ ہی جانے)۔ سوموار اور منگل کی درمیانی شب شروع ہوئی بارش سترہ گھنٹے تک برسی لاہور اور گرد و نواح میں مجموعی طور پر 250ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔ تخت لہور جل تھل ہوگیا نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ ڈرینج سسٹم کے ساتھ بجلی کا نظام بھی معطل ہوا۔ دو دنوں میں مجموعی طور پر 29گھنٹے بارش ہوئی۔ مجھے اور لاہور کے دوسرے باسیوں کو جناب شہباز شریف بہت یاد آئے بالخصوص لکشمی چوک میں اڑھائی فٹ پانی کھڑا دیکھ کر۔ پچھلے دس برسوں کے دوران (جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے) بارش خصوصاً ساون کی بارشوں میں وہ لاگ بوٹ پہنے نمودار ہوتے کارپوریشن‘ ایل ڈی اے اور واسا کے افسروں پر گرجتے برستے۔ دو چارمعطل ایک آدھ فارغ اور کچھ تبادلوں کے سیلاب میں بہہ جاتے۔ بچہ لوگ تالیاں بجاتے۔ لیگی کہا کرتے تھے’’ شہباز تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ‘‘۔ ان دس برس کے دوران سرائیکی وسیب کے ہسپتالوں تک کے فنڈز تخت لہور میں پھونکے گئے خود وسطی پنجاب کے مختلف شہروں کے فنڈز میں کٹوتی ہوئی۔ بعض بلدیاتی اداروں کے مخصوص فکس فنڈز نکلوا کر میٹرو اور اونج لائن منصوبے میں ڈالے گئے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب محکمہ مال‘ صحت اور زراعت کو حکم ہوا روزانہ کی بنیاد پر اپنی آمدنی صوبائی حکومت کے اکائونٹ میں منتقل کریں۔ سالہا سال اس پر عمل ہوا۔ لاہور کا میک اپ ہوا سڑکیں ‘ پل‘ انڈر پاسز بنے۔ میٹرو چل رہی ہے اورنج لائن ٹرین کا روٹ زیر تعمیر ہے۔ مگر دس برسوں میں شہباز شریف صرف لاہور کے ڈرینج سسٹم کو ضرورت کے مطابق نہ بنوا سکے۔ قدیم لاہور کے علاقوں کو رہنے دیجئے جدید لاہور میں جوہر ٹائون‘ گارڈن ٹائون‘ ماڈل ٹائون اور گلبرگ کے ساتھ دوسری بستیوں کی گلیوں میں اتنا پانی کھڑا تھا کہ باہر نکلنا دشوار تھا۔ کل ایک دوست سے اس صورتحال پر بات ہوئی تو کہنے لگے شاہ جی! وہ چلے گئے اب تحریک انصاف کی حکومت ہے ان سے سوال کریں۔ اس سادگی اور منافقت پر رونا آیا۔ ارے بھائی دس سال پنجاب کے مالک رہے اور ہر سال لاہور بارشوں میں بدحال ہوا‘ لانگ بوٹ کے ڈراموں کے سوائے ملا کیا لاہور کو؟۔ پچھلے دس برسوں کے د وران سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز لاہور کے تھے پھر لاہور کا یہ حال ہے اور سوال تحریک انصاف کی حکومت سے کیا جائے کیوں؟ پنشنوں کے لئے محفوظ فنڈز نکلوا کر لاہور میں جھونک دینے والوں سے سوال کیوں نہ ہو۔ محض اس لئے کہ اب یہ جمہوریت کا چہرہ ہیں اور تحریک انصاف ریاستی ساجھے دار؟ چھوڑیں ان قصوں کو میرے کم از کم دو د وست ماسٹر مشتاق احمد اور خاور حسنین بھٹہ ناراض ہوں گے دونوں شریف خان کی جمہوریت پسندی کے عاشق ہیں لیکن سوا ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے لاہور کے شہریوں کا سوال اپنی جگہ ہے۔ دس برسوں میں ڈرینج سسٹم کا ماسٹر پلان کیوں نہ بنا۔ بنا تھا تو اس پر عمل کیوں نہ ہوا۔ صرف لانگ بوٹ‘ فوٹو سیشن‘ معطلیاں اور جھڑکیاں۔ ہم شہریوں کا حق ہے اپنے سابق و حاضر حکمرانوں سے سوال کرنے کا ٹیکس دیتے ہیں۔ ماچس سے لے کر آٹے کے تھیلے‘ گھی سے صابن تک ہر چیز پر ٹیکس ہے۔ یوٹیلٹی بلز پر ٹیکس پھر سہولتیں کہاں ہیں۔ تحریک انصاف سے بھی سوال کریں گے اگلے بجٹ پر کہ پچھلے بجٹ میں جو وعدے کئے تھے وہ کیا ہوئے۔ فی الوقت تو دس برس اقتدار میں رہنے والے شہباز شریف کو سترہ گھنٹے کی بارش نے لاہور کو جس طور بے حال و متاثر کیا اس کے ذمہ دار وہ ہیں کہ اس کا بھی عمران خان پر ملبہ ڈال کر عنداللہ ماجورہوں ہم؟۔ بجا ہے کہ کل ہمارے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے چیف ترجمان شہباز گل کی ہدایتکاری میں کل ’’بارش کی فلم ‘‘ خوب چلوائی مگر یہ ان فلموں سے زیادہ مزیدار نہیں تھی جو شہباز شریف شوٹ کرواتے اور چلواتے تھے۔ وفاق اور پنجاب میں تحریک انصاف کی کارکردگی اچھی نہیں۔ادھر صورتحال یہ ہے کہ سٹیٹ بنک کے گورنر نے کل منگل کو کہہ دیا ہے مہنگائی مزید بڑھے گی اور یہ بھی اگلے دو تین ماہ کے دوران بجلی اور سوئی گیس کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ ایک سادہ سا سوال ہے انسانی دوستوں سے‘ جب پیداواری لاگت بڑھ جائے تو فیکٹریوں سے لے کر پرچون فروش تک کوئی کیسے پرانے نرخوں پر اشیاء فروخت کرے گا؟ گورنر سٹیٹ بنک کہتے ہیں مہنگائی 7.3 فیصد بڑھی حالانکہ مہنگائی میں مجموعی طور پر 41فیصد اضافہ ہوا۔ وجوہات سب کے علم میں ہیں مگر دفتری اعداد و شمار سے لوگوں کو احمق بنانے کا روایتی ہتھکنڈہ اب بھی حاج مولا سمجھا جاتا ہے۔ شہروں کو رہنے دیجئے دیہی علاقوں میں کسان رو رہے ہیں زرعی ادویات اور کھادوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں فی ایکڑ پیداواری لاگت میں تین سے پانچ ہزار روپے اضافہ ہوا ہے مگر اجناس کی قیمتیں وہی سابقہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کھاد فیکٹریوں کے مالکان کو بجلی اور گیس کے واجبات کی مد میں اربوں روپے کی چھوٹ دینے کی تیاریوں میں مصروف حکومت کاشتکاروں کے لئے ہمدردی کا جذبہ کیوں نہیں رکھ پا رہی؟ کم از کم مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ کچھ معاملات میں پچھلے دور میں مصنوعی ماحول بنا رکھا گیا لیکن دس ماہ تو تحریک انصاف کو بھی ہوگئے اقتدار میں آئے ہوئے عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے حکمران چور ہیں۔ اقتدار میں آئے ہیں تو وہ اور ان کے حامی اپنے علاوہ سب کو چور قرار دے رہے ہیں۔ یہ چور چور کی تکرار مسائل کا حل نہیں اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیجئے۔ مسائل گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں شہباز شریف جیسے ڈراموں سے لوگوں کو بہلانے کی بجائے احساس ذمہ داری پیدا کیجئے۔

متعلقہ خبریں