Daily Mashriq

وقت کے ساتھ بدلتے نظام تعلیم

وقت کے ساتھ بدلتے نظام تعلیم

برصغیر پاک وہند میں برطانوی سامراج کے آنے سے قبل مسلمانوں کے ہاں جو نظام تعلیم رائج تھا،اُس کا کوئی خاص نام تو نہیں تھا،لیکن وہ ایک جامع ،ہمہ گیر اور اسلامی تہذیب وتمدن واقدار کا حامل تھا۔مدارس میں قرآن وسنت ،فقہ اور ریاضی ومنطق وکلام کے مضامین کے علاوہ فنون میں سے لازمی طور پر ایک فن پڑھایا اور سکھایا جاتا تاکہ طلباء فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے لئے رزق حلال کمانے میں تنگی اور شرم محسوس نہ کریں۔ بھلے دنوں میں اسلامی نظام تعلیم کی جامعیت اور افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ہی مدرسے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کارکردگی دکھانے اور معاشرے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ماہرین بخوبی اور بآسانی میسر آجاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم قرآن وسنت پر مبنی ہونے کے سبب ایک ربانی سا نظام تھا۔ اور اس نظام کے تحت جو افراد تیار ہوتے تھے، وہ امام ابو حنیفہؒ، احمد بن حنبل ؒ، امام مالک ؒاورامام شافعیؒ کے علاوہ ابن رشد، امام غزالی،سینا، الخوارزمی،الہثم جابر اور اسی ذیل کی ایک طویل فہرست ہے جس کا ذکر یہاں ممکن نہیں۔ہاں اسی تسلسل میں عہد عباسیہ میں علوم وفنون کے ذوق وشوق میں یونانی فلاسفہ کی کتب بھی ڈھیروں کی ڈھیر تراجم کے ذریعے بغداد منتقل ہوگئیں۔ یہ اگر چہ حصول علم کے شوق میں تھا، لیکن اس نے ہمارے ہاں لفظ وبات کی کھال اُتارنے کی روایت بھی ڈال دی۔یونانی فلسفہ اور علم الکلام ومنطق کے اصول قرآن وسنت کے علوم پرلاگو کر کے نت نئی باتیں،نکات اور فلسفے اختراع کئے گئے۔ جس نے نہ صرف مسلمانوں کی وحدت کو بری طرح متاثر کیا،بلکہ ایمان وعقائد پر بھی نقب لگایا اور معتزلہ وخوارج اور دیگر کئی فرقے پیدا ہوئے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔لیکن ہندوستان میں انگریز کی آمد کے بعد ہمارے مدارس کے مقابلے میں سکول،کالج اور بعد میں یونیورسٹیاں وجود میں آئیں جن کے نصاب اور اساتذہ اور ان اداروں کے سربراہوں کے اثرات واضح طور پر قوم کے افراد پر مرتب ہونے لگے۔ ہندوستان میں انگریز کے زیر انتظام جب پہلی دفعہ میٹرک کے امتحانات منعقد ہوئے تو پر چوں کی مارکنگ کے دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ برطانیہ میں تو میٹرک میں بچوں کے لئے پاسنگ مارکس65فیصد ہیں لیکن ہندوستانیوں کیلئے کیا رکھا جائے کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ ہندوستانی انگریزوں سے ذہنی طور پرکمزور ہیں۔سوچ بچار کے بعد اسے آدھا کیا گیایعنی اہل ہندوستان کیلئے 32-1/2)% مقرر ہوا جو بعد1/2کے حساب میں مشکل کے سبب33% ہوگیااور اس کے ساتھ ہی برصغیر پاک وہند کے سرکاری تعلیمی ادارے برطانوی نطام کے تحت چلنے لگے۔ یوں سکولوں کالجوں اور جامعات میں میٹرک،ایف اے/ایف اے سی، بی اے ، بی ایس سی اور ایم اے، ایم ایس سی وغیرہ تک تعلیم اور سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں جاری ہونے لگیں۔ انگریز زمانے میں بی اے، بی ایس سی بہت جاندار ڈگری تصور ہوتی تھی، اور پھر 1947ء میں انگریز چلا گیا، لیکن نظام بالخصوص تعلیمی نظام پیچھے چھوڑ گیا اور وہ آج تک چلتا رہا،لیکن2000ء کے بعد آہستہ آہستہ سالانہ یا کنونیشنل سسٹم کی جگہ امریکن نظام تعلیم یعنی سمسٹر سسٹم پھیلنے لگا۔ اور یہ اس لئے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں کے مصداق آس پاس کے ملکوں اور ایک لحاظ سے زیادہ تر ملکوں میں سمسٹر سسٹم رائج ہوا اور ان کے دیکھا دیکھی پاکستان میں بھی تقریباً2019ء سے اب بی اے اور ایم اے دوسالہ ڈگری اپنے انجام کو پہنچ جائیگی۔

اور اب اس وقت پبلک اور پرائیویٹ کالجوں اور جامعات میں بی ایس چار سالہ پروگرام چلے گا۔کچھ فوائد اس کے بھی ہوں گے کیونکہ اس نظام کے بغیر شاید ہماری ڈگری کو بیرونی دنیا میں کچھ ٹیکنیکلٹیز درپیش تھیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرتی و تعلیمی نظام سمسٹر سسٹم کا اُس لحاظ سے متحمل نہیں ہو سکتا جس طرح امریکہ اور مغرب میں ہے۔ اس نظام کے تحت ہر مضمون کے ساتھ اسائمنٹ اور انٹرنل اسسمنٹ کے مارکس ہوتے ہیں جو ہمارے ہاں اساتذہ کی مہربانی سے عموماً بغیر کسی اسائمنٹ کے’’پسند و نا پسند‘‘ کی بنیاد پر لگا دیئے جاتے ہیں اور اگر کہیں طلباء اسائمنٹ تیار بھی کرلیں تو استاد محترم کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے کہ اُس کو صحیح معنوں میں گریڈ کرے۔ بس پورے ملک میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نظام قائم ہو جائیگاجس میں ڈاک کے ذریعے اسائمنٹ وغیرہ جاتے ہیں تو چشم دید واقعہ بتا رہا ہوں کہ استاد نے اسائمنٹ کے اوراق تک پلٹائے بغیر ٹائٹل صفحہ پر نمبر لگادیئے ہمارے معاشرے کی دیگر خرابیاں اپنی جگہ کہ ہماری دوستیاں، دشمنیاں،مخالفین اور اخلاقی زوال سب کو معلوم ہیں۔سمسٹر سسٹم کے تحت طلباء بے چارے عام طور پر اساتذہ ہی کے رحم وکرم پر ہوں گے اور کہیںزور آور قسم کے طلبہ کے رحم کرم پر اساتذہ بھی ہوسکتے ہیں۔ بی اے اور ایم اے کے تحت طالب علم کم از کم ایک دو مضامین میں تحضص حاصل کرلیتا تھا جو عملی زندگی میں تھوڑا بہت کام آجاتا تھا۔لیکن اب چارسالوں یعنی آٹھ سمسٹروں میں مختلف ومتعدد مضامین کا ایک ملغوبہ طلباء کے سر اور کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے جس کی پڑھائی کم اور امتحانات زیادہ ہوتے ہیں۔دومہینے کی پڑھائی کے بعد میڈ ٹرم،پھر فائنل ٹرم،پھر میک اپ امتحان۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں