Daily Mashriq

وزیراعلیٰ سے فنکاروں کی التجاء

وزیراعلیٰ سے فنکاروں کی التجاء

خیبرپختونخوا کے اہل قلم وفن نے گزشتہ دو برس سے ملنے والے مالی تعاون پر مبنی ایوارڈ کی بندش پر احتجاج کی کال دیتے ہوئے تمام متعلقہ لوگوں خصوصاًان افراد کو جو اس وظیفے یا مالی امداد جو بھی آپ سمجھیں نام دے دیں سے استفادہ کر رہے تھے اور اب دستیاب معلومات کے مطابق یہ سلسلہ موقوف ہو چکا ہے، اکٹھے ہو کر اس کی بحالی کیلئے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کی دعوت دے چکے ہیں، سوشل میڈیا پر تو یہ جدوجہد شروع کردی گئی ہے یعنی اس حوالے سے ایک عمومی دعوت نامہ وائرل ہورہا ہے اور دوسرے فنکاروں،اہل قلم وغیرہ سے درخواست کی گئی ہے کہ اسے شیئر کرتے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچ سکے اور اس حوالے سے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ اس ضمن میں راقم نے بھی اپنے کالم میں چند گزارشات کی تھیں جو11جولائی کے ادارتی صفحے پر دیکھی جا سکتی ہیں، اس کالم کو بعد میں فیس بک اور ٹویٹر پر ڈالا تو اس پر لا تعداد تبصرے سامنے آئے،میرے موقف کو متعلقہ حلقوں نے سراہا حالانکہ اس کالم میں کچھ کھری کھری باتیں بھی میں نے لکھی تھیں مگر انہیں بھی کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے بعض تبصروں میں کہا گیا کہ جو لوگ اس وظیفے سے محروم رہے سارا مسئلہ انہوں نے ہی پیدا کیا اور وہ یہاں تک چلے گئے کہ بے شک انہیں یہ مالی امداد نہیں ملتی نہ ملے مگر جنہیں ملی ہے وہ بھی اس سے محروم رہیں یقیناً یہ ایک منفی طرز فکر ہے جسے عمومی طور پر ان الفاظ میں واضح کیا جاتا ہے کہ نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈنے دیاں گے۔روحی کنجاہی نے کہا تھا

خودکو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ

حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی

وہ جو لوگ اس فہرست میں شامل نہیں ہوسکے تھے ان کی اکثریت شاید قواعدوضوابط پر پورے نہیں اترتے ہوں گے،ممکن ہے بہت ہی کم تعداد ایسے لوگوں کی بھی رہی ہوگی جو مقررہ معیار کو چھوتو رہے تھے مگر کچھ عوامل کی وجہ سے ان کا نام فہرست میں شامل نہیں ہوسکا ہو،البتہ چونکہ میں خود اس کمیٹی کا ایک ممبرتھا جو24ارکان پر مشتمل تھی اور جس میں سے ایک دو معززارکان اپنی ذاتی وجوہات کی بناء پر خودکو کمیٹی سے علیحدہ کرلیا تھا، تاہم کئی اجلاسوں کے دوران کمیٹی ممبران ایک دوسرے سے کھل کر اختلاف صرف اس لیئے کرتے رہے تاکہ کسی بھی شخص کے ساتھ جو مستحق ہو، ناانصافی نہ ہوسکے،یعنی کمیٹی نے اپنی صوابدید کے مطابق ناموں کوحتمی صورت دینے میں ہر ممکن احتیاط سے کام لیا اور لگ بھگ ڈھائی ہزار درخواستوں میں سے چھان پھٹک کر500افراد کے ناموں کو فائنل کیا، اس کے باوجود جو لوگ رہ گئے تھے ان کو ناراض تو ہونا ہی تھا جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں محکمہ ثقافت کی جانب سے اخبارات کو جو اشتہارجاری کیا گیا تھا اور جو فارم متعلقہ افراد سے بھروایا گیا،سارا مسئلہ اسی کی وجہ سے پیدا ہوا،بد قسمتی سے اشتہار میں دی گئی شرائط اور اور مجوزہ فارم کے مندرجات میں چند ایسی شقیں شامل تھیں جن کی وجہ سے بعد میں مسائل کھڑے ہوئے ،اگر اشتہار چھپوانے سے پہلے اس کی زبان کو درست کردیا جاتا اور اس کے اندر سے(بعض) متصادم شرائط کو نکال دیا جاتا،اور درخواست دہندہ گان سے درخواستیں وصول کرتے وقت بعض شرائط کو تسلیم کرتے وقت مجوزہ کمیٹی کے فیصلوں کو من وعن تسلیم کرانے کی تصدیق کرائی جاتی تو شاید صورتحال اس حد تک بھی نہ پہنچتی۔اور نہ اب بے چارے اہل کمال کو اس کی بندش پر احتجاج کرنے کی نوبت آتی بصداحترام مرحوم منیر نیازی کے اس شعر پر اکتفا کرنا پڑتا ہے کہ

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

متعلقہ حلقے جو موجودہ صورتحال سے پریشان نظر آتے ہیں یعنی ثقافت کے زندہ امین سلسلے کے موقوف ہونے کے بعد شکوہ بہ لب ہیں،ان کا موقف یہ ہے کہ یہ سلسلہ وزیراعظم عمران خان کا وژن تھا اور انہی کی ہدایت پر سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے دور میں شروع کیا گیا تھا،جسے موجودہ حکومت نے ایک سال جاری رکھنے کے بعد ہی ختم کردیا۔حالانکہ بقول ان کے موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے نہ صرف جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا بلکہ ایوارڈ کی تعداد دوگنی کرتے ہوئے اس سے ایک ہزار ہنرمندوں کو مستفید کرنے کا بھی وعدہ کیا،لیکن الٹا موجودہ بجٹ میں یہ سلسلہ سرے سے ہی موقوف کردیا گیا جو فنکاروں کے ساتھ زیادتی ہے کہ صوبے میں پہلے ہی ثقافتی سرگرمیاں بوجوہ نہ ہونے کے برابر ہیں،پی ٹی وی پر مقامی سطح پر ڈرامے نہ ہونے کے برابر ہیں اور اہل فن کے گھروں میں فاقوں کے ڈیرے ہیں۔اس لئے یہ مالی امداد جاری رہنی چاہیئے۔یہاں ایک بات کی گزارش کرنا بھی ضروری ہے کہ جس وقت کمیٹی سکروٹنی میں مصروف تھی اس وقت بھی راقم نے بار بار یہ تجویز پیش کی تھی کہ وظیفے کی رقم30ہزار کی بجائے 15 ہزار کردی جائے اور تعداد500سے بڑھا کر ایک ہزار کی جائے تو کئی لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں،ویسے بھی اکادمی ادیبات اسلام آباد کی جانب سے ماہانہ وظیفہ13ہزار روپے ہے،تاہم اب جبکہ بقول فنکار برادری کے وزیراعلیٰ نے بھی تعداد ایک ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا تو گزارش ہے کہ وظیفہ 15ہزار کرے2000افراد کو مستفید کرنے کا اہتمام کیا جائے اور یہ سلسلہ ہر سال دس ماہ تک محدود نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے،تاکہ اہل فن کو بار بار درخواستوں کے کشکول لیکر ہاتھ پھیلانا نہ پڑیں۔

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا

اور درویش کی صدا کیا ہے

متعلقہ خبریں