Daily Mashriq

دیر سویر

دیر سویر

میرے ایک دوست سہیل انجم نے ایک کہانی لکھی تھی جو شاید ان کی آپ بیتی ہی تھی۔ جس میں ایک کردار اپنی پریشانیوں اور زندگی کے جھمیلوں میں اتنا مصروف ہوجاتاہے کہ اس کے سکوٹر کی سٹپنی جو کہ تین نٹ بولٹس پر سیٹ کے پیچھے لگی ہوتی ہے ۔ وہ صاف صاف دیکھتا ہے کہ پہلے ایک نٹ نکلتا ہے پھردوسرا۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ دو نٹس لگوا لے کیونکہ سٹپنی ایک نٹ پر ٹکنے والی نہیں ہے ۔ یہ تیسرا اور آخری نٹ بھی ٹوٹ جائے گا ۔ لیکن اپنے مزاج اور اپنے رویے کی وجہ سے وہ دو منٹ کاکام نہیں کروا سکتااور ایک رات گھر واپس آتے ہوئے اسے احساس بھی ہوا کہ آخری نٹ بھی اس کا ساتھ چھوڑ گیا ہے اور رات کے اندھیرے میں خدا جانے سکوٹر کا ٹائر کن کن موڑوں کی آوارہ گردی پر نکل گیا۔اگلے دن اس نے ایک نٹ کے بروقت نہ لگانے کی پاداش میں نئی سٹپنی لگانے کا جرمانہ ادا کیا۔ اس قسم کی کوئی نہ کوئی صورتحال آپ کے ساتھ بھی ہوئی ہوگی ۔ جب چھوٹی سی چیز کو سچ مچ چھوٹا سمجھا گیا ہوگا اور اس چھوٹی سی چیز نے بڑانقصان کیا ہو۔ چھوٹی سی بیماری کولفٹ نہ کروائی ہواور وہ بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی ہو،گھر کی چھوٹی سی مرمت نہ کروائی ہو اور پھر بعد میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہو،پانی کی موٹر کی چھوٹی سی خرابی پر دھیان نہ دیا ہو اور وہ بالآخر مکمل خراب ہو گئی ہو۔ یا کم از کم یوٹیلی بل تو ہم دیر سے ہی جمع کرواتے ہیں ۔ ہم اکثراوقات اتنا لیٹ کردیتے ہیں کہ بالآخر ہم اس کا استحقاق کھودیتے ہیں اوراگلے مہینے سرچارج کی غنڈہ گردی قبول کرنی پڑتی ہے ۔ کسی کا لج ،دفتر میں فارم ،درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ کے گزر جانے کے بعد لوگوں کی منت کرلینا ہمیں گوارا ہوتا ہے لیکن وقت پر اور اپنے استحقاق پر اپنا کام کرنا ہمیں اچھانہیں لگتا ۔ ہم میں اکثر لوگ مسٹر لیٹ ہیں ۔ ہمارے ہاں وقت کی کوئی اہمیت نہیں ۔ آپ کسی تقریب میں لوگوں کو بلا لیتے ہیں۔دعوت نامے پر وقت درج کرتے ہیں ۔ مگر ساتھ بریکٹ میں ’’وقت کی پابندی لازمی ہے ‘‘لکھ کر بھی آپ کویقین نہیں ہوتا کہ لوگ وقت پر آئیں گے یا نہیں ۔ ہوتا بھی یہ کہ لوگ اپنی سہولت کے مطابق تقریب میں آتے ہیں ۔ والد صاحب مرحوم وقت کے پابند تھے اور میں کسی زمانے میں ان کے ڈرائیور کی خدمات انجام دیا کرتا تھا ۔ بیسیوں مرتبہ ان کے ساتھ وقت پر کسی تقریب پر مقررہ وقت پر گیا ہوں اور گھنٹوں انتظار کی لذتیں اٹھا چکا ہوں ۔ والد سے گلے کی جرات کسے تھی ۔ مگر جب کبھی اظہار کا موقع ملا تو وہ یہی فرماتے کہ میرا کام وقت کی پابندی ہے لوگ کریں نہ کریں ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ کارڈ پر لکھے ہوئے وقت پر مقام پر پہنچے اور دعوت دینے والے بھی موجود نہ تھے ۔ اب جو قوم وقت کی پابندی نہیں کرسکتی وہ وعدے کیا نبھائے گی ۔ وجہ اس کی یہ نظر آتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کوانفرادی طور پر منیج نہیں کرپاتے ہیں ۔ اس لیے وقت کی قدر نہیں کرپاتے ۔یہ رویہ ہمارے ہاں عوام میں ہی موجود نہیں بلکہ خواص اور حکمران بھی وقت کی پابندیوں سے مبرا ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ کیونکہ ٹائم پر آنا لیڈروں کی شان نہیں ہوتی ۔ وقت کی پابندی نہ کرنے والوں کی ٹائمنگ بھی نہیں بن پاتی ۔ ٹائمنگ ایک ایسی چیز ہے جس کے ہونے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ یہ کسی کرکٹر کی ٹائمنگ ہی ہے کہ وہ کس وقت بال کے خلاف بیٹ گھماتا ہے ۔ اگر ٹائمنگ اچھی ہے تو ہٹ لگے گی ورنہ بال مس ہوجائے گا۔ اسی کلیے کو قومی سیاست پر منطبق کریں تو آپ کو محسوس کریں گے کہ ہماری قومی سیاسی تاریخ میں مس ٹائمنگ کے کتنے واقعات ہیں جہاں وقت کی قدر نہیں کی گئی ۔ اور پھر وہ ہوا کہ جو وقت کرتا ہے ۔ دنیاکہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں ۔پرویز مشرف، آصف زرداری اور میاں نوازشریف کی حکومتوں میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بن پایا ۔جبکہ اس دوران انڈیا نے سینکڑوں نہیں ہزاروں ڈیم بناڈالے ہیں ۔ اور ہم 21بلین ڈالر کا میٹھا پانی ہر برس سمندر برد کردیتے ہیں ۔خدا کی قسم ہم بڑے ناشکرے اور ناقدرے لوگ ہیں ۔ تھر کی پیاس ہماری غفلت ہی تو ہے ۔پانیوں میںگھرے ہم لوگ توانائی کے بحران کے عذاب سے دوچار رہے۔چار چار موسم کتنے ملکوں کو نصیب ہیںافسوس کہ زرعی ملک ہونے کے باوجودہم نے قحط جھیلے ۔خدا جانے اس ملک کا کیا ہوتا اگر اس کی مڈل کلاس بہت بڑی نہ ہوتی ۔ یہی مڈل کلاس اپنی بقاء کے لیے ہرروز معیشت کا پہیہ چلانے پر مجبور ہے وہی ایندھن ہے کہ جس سے ملک چلتا ہے ۔ ورنہ تو سب خیرخیریت ہی رہی ہے ۔ہم نے امکانات کو کبھی امکان سمجھاہی نہیں۔ ہاں ضرورت کے لیے بقاء کو ایجاد کرتے رہے ہیں کہ زندگی کو دھکیلنا جو تھا ۔ویسے بھی ہم تاوان اداکرنے کے عادی ہیں ۔ایک نٹ کے گرجانے پر پوری سٹپنی لگانے کا ہمیں کوئی قلق نہیں رہتا لیکن یہ طے ہے کہ جب یہ سوچ پیدا ہوجائے کہ سٹپنی بچانی ہے تو سٹپنی بچ بھی جاتی مگر یہ سوچ پیدا کون کرے گا ۔ہماری اس ذہنی کیفیت کو منیر نیازی نے کیا خوب نظم میں پرویا ہے ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں