Daily Mashriq

تحریک انصاف کے چند اوصاف

تحریک انصاف کے چند اوصاف

دنیا بھر میں حکمرانوں کی چند خصوصیات ان کی وجہ شہرت بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن کی وجہ شہرت ان کی رحمدلی اور احساس بنی جبکہ مودی اپنے تعصب کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ اسی طرح انتخابات سے پہلے تک اُمید اور تبدیلی کے وعدوں سے پاکستان تحریک انصاف کو شہرت ملی مگر اب ان کے دیے نعرے یہ خواب بے تعبیر لگنے لگے ہیں اور اب بہت سے منفی القابات ان کے نام کے ساتھ نتھی کر دیے گئے ہیں۔

لفظ’’سلیکٹڈ‘‘ وہ پہلا لقب تھا جو پہلے دن سے حکومت کی پہچان بنا۔ اپوزیشن اور ناقدین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں ’’سلیکٹرز‘‘ کی مدد سے ہی جیتی ہے اور اب تک کے سیاسی حالات اس الزام کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے اس الزام کو سختی سے ٹھکرایا جا تارہا ہے ۔رد عمل کے طور پر تحریک انصاف الزام لگانے والی مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی آمریتوں کی پیدا وار ہونے کا طعنہ دیتی ہے ۔پی ٹی آئی کے اس طعنے کے باوجود ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ دونوں جماعتیںاس کے بعد کم ازکم ایک الیکشن اپنے بل بوتے پر جیت کر حکومت کر چکی ہیں جبکہ تحریک انصاف کا ابھی ایسا کرنا باقی ہے ۔ حالات یہ ہیں کہ اگر تحریک انصاف کی پشت پناہی بند ہو جائے تو وہ اپنے کئی اتحادی ساتھ رکھنے اور حکومت بچانے کی پوزیشن میں بھی نہ رہ سکے۔

نااہلی اس حکومت کی دوسری بڑی وجہ بدنامی بن رہی ہے۔ گو کہ پاکستان میں اکثر منتخب حکومتیں ماضی میں نااہلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں البتہ ان کی جانب سے پھر بھی کسی نہ کسی میدان میں اچھی کارکردگی دیکھنے کو مل ہی جاتی تھی۔ حکومت بنیادی طور پر پانچ شعبوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ قانون سازی، پالیسی سازی، ترقیاتی منصوبے، ادارتی اصلاحات اور خدمات کی فراہمی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے قانون سازی کے میدان میںخاطر خواہ کام کیا اور مسلم لیگ حکومت شروع سے ہی بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا اور مرکز میں اب تک چھ سال حکومت کرنے کے باوجود کسی ایک میدان میں بھی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ایف بی آر میں اصلاحات لانے کے لیے پر عزم ہے مگر اب تک یہ عزم باتوں کی حد تک ہی محدود ہے۔ مزید برآں روز مرہ کے ریاستی معاملات میں چھلکتی ناکامی اس تاثر کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ یو ٹرن، حکام کی جانب سے متضاد بیانات اور پنجاب کی سیاسی صورتحال ، یہ تمام معاملات ان کی نااہلی مزید افشاء کر رہے ہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ناتجربہ کاری وقت کے ساتھ دور ہو سکتی ہے، نا اہلی نہیں۔

اس حکومت کی چوتھی خامی اس کاآمرانہ مزاج ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو جس عتاب اور پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی مثال آمریتوں میں بھی نہیں ملتی۔ اپوزیشن کڑے احتساب سے گزر رہی ہے اور تحریک انصاف کئی معاملات میں کلین چٹ حاصل کر چکی ہے۔ نیب کے چیئرمین کا یہ بیان کہ سالوں سے حکومت کرنے والوں کا احتساب پہلے اور نئی حکومت کا اس کے بعد کیا جائے گا، ایک نہایت مضحکہ خیز اور لا یعنی بات ہے۔ یہ بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے داعش کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے القاعدہ کے خلاف ہی صف آراء رہا جائے۔

پی ٹی آئی کا پچھلی حکومتوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنا بے کار ہے۔ ان پر سلیکٹڈ ہونے کا الزام نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس قدر بے بس تھے اور ان کے پاس بہرحال شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور شہباز شریف کی صورت چند ایسے لوگ موجود تھے جنہیں اہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ اراکین اسمبلی جن کے خلاف اس وقت تک کریمنل کیسز چل رہے ہیں ان کی سب سے بڑی تعدادتحریک انصاف کے اراکین کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپنی ذات پر اس وقت اتنے مقدمے ہیں جتنے پاکستان کی تاریخ میں کسی منتخب وزیر اعظم پر نہیں رہے۔

خاندانی سیاست کے خلاف نعرہ لگانے والے عمران خان کی حکومت میں خٹک خاندان اس وقت حکومتی نشستوں کا حامل سب سے بڑا خاندان بن چکا ہے۔ اور صرف وزیر اعظم عمران خان کی ذات ہی رہ گئی ہے جو اس وقت کسی قسم کی کرپشن یا اقرباء پروری کے الزام کی زد میں نہیں۔

پاکستان اس وقت شدید سیاسی، معاشی او ر خارجی مسائل کا شکار ہے اور یہ حکومت ان مسائل سے نبر آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ہم پر ایک ایسی حکومت مسلط ہے جس کی وجہ شہرت ہی اس کی نا اہلی، سلیکٹڈ ہونا، آمرانہ مزاج اور بے اختیار ہونا ہے اور اب یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک عوامی حکومت، جو بے شک نا اہل ہو، کم از کم ان مسائل سے نمٹنے کی زیادہ اہلیت رکھتی ہے جو تحریک انصاف سے اب تک سنبھالے نہیںجا سکے۔ایک منتخب حکومت با اختیار ہوتی ہے اس کا با اختیار ہونا بھی ان مسائل کے حل میں کردار ادا کرتا ہے۔ انضمام الحق تو ورلڈ کپ میں شکست کے بعداپنی سلیکٹ کی گئی ٹیم کی وجہ سے اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ اب سیاسی سلیکٹرز کا کیا بنے گا؟

(بشکریہ:ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں