Daily Mashriq

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے سالانہ128ارب روپے منافع کا مطالبہ

خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے سالانہ128ارب روپے منافع کا مطالبہ

پشاور(سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے مالی بحران پر قابو پانے اور صوبائی حقوق حاصل کرنے کیلئے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت وفاق سے سالانہ128ارب روپے منافع کا مطالبہ کردیا جبکہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ سٹیشن کیبجائے مقامی صنعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ایکنک نے صوبے 300 میگاواٹ بجلی منصوبہ کی منظوری دی ہے جو ایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے بنے گا237ارب ڈالرکامنصوبہ ہے جو تعلیمی وصحت اداروں کی سولرائزیشن کاہے عالمی بنک کے تعاون سے بھی تین منصوبے شروع کررہے ہیںتین نئے منصوبے 500 میگاواٹ کے شروع کررہے ہیں20 فیصد حکومت اور80 فیصد بنکوں کاپیسہ لگے گاصوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن کیلئے الگ جبکہ باقی صوبے کیلئے الگ بجلی کمپنی کے قیام پر غور شروع کر دیا ہے حکومت نے کہا ہے کہ پختونخوا انرجی اینڈ پائور آرگنائزیشن (پیڈو) نے 40 سالوں میں دومنصوبے شروع کرتے ہوئے صرف105 میگاواٹ بجلی پیدا کی اس لئے پیڈو کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا ہے صوبائی حکومت کو 37 ارب ٹیکسوں سے ملتے ہیں91ارب انرجی محکمہ سے حاصل ہوتے ہیں23 ارب گیس وتیل کی رائلٹی سے ملتے ہیں اور68 ارب بجلی منافع سے حاصل ہوتے ہیںگزشتہ روز وزیراعلی کے مشیر برائے توانائی وبرقیات حمایت اللہ خان نے محکمہ کے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وفاق سے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت سالانہ 128ارب روپے مانگ لئے ہیں رقم ملنے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہوگی اپریل 2018 میں مرکزنے خسرو بختیارکی سربراہی میں کمیٹی بنائی جس نے کافی حد تک کام کیاہے حکومت بھرپور انداز میں صوبے کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے وسائل سے بجلی پیداکرکے قومی گرڈ سٹیشن کو دینے کی بجائے مقامی صنعتوں کو دی جائے گی جس کاآغاز18 میگاواٹ کے بجلی پیداواری منصوبہ پیہور سے کیاجارہاہے جس کیلئے4نجی کمپنیوں کوشارٹ لسٹ کردیاگیاہے محکمہ انرجی اینڈ پاورنے صوبہ میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی پیسکو کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی مخالفت کردی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے بجلی پیداکرنے کے چھوٹے 350 میں سے 270 منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ بقایا70 منصوبے بھی اس سال کے اختتام تک مکمل کرلیے جائیں گے جن سے 80 ہزار گھرانوں کوبجلی میسر آئے گی بجلی چوری کے خلاف مہم گزشتہ سال مرکزنے شروع کی صوبہ سے ایک ارب روپے کی ریکوری کی گئی دوہزارمقدمات درج اور560 چورپکڑے گئے جبکہ23ہزار کنڈے ہٹا دیئے گئے انہوں نے کہاکہ کے پی اوجی سی ایل کے وسائل میں اضافہ کے لیے اہداف رکھ رہے ہیںایف ڈبلیواو کیساتھ ریفائنری کے قیام کے لیے بات چیت جاری ہے جنوبی اضلاع میں پٹرولیم انسٹیٹیوٹ بنارہے ہیںاہم منصوبہ ہم رائلٹی کی رقم سے شروع کریں گیے جنوبی اضلاع کے لیے سالانہ تین ارب سے ایریا ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کر رہے ہیں جس کے لیے عالمی اداروں سے بھی مددلیں گے اوردسمبر2019یاجنوری 2020میں یہ پروگرام شروع کیا جائے گا تین منصوبوں میں جنوبی اضلاع کوگیس فراہم کیا جائے گا یہ منصوبہ15 ارب روپے کا ہوگاکے پی ملک کا25 فیصد گیس اور 50 فیصد تیل پیداکرتاہے تیل وگیس سے متعلق اداروں میں نمائندگی لی ہے اب بجلی اداروں میں مانگی ہے صوبائی حکومت نے وفاق سے واپڈا کا ہیڈ کوارٹر لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کوٹو،کروڑہ اور دیگر سے 160 میگاواٹ بجلی ملے گی انہوں نے کہاکہ2.2 ارب روپے ہماری آمدنی ہے جسے وہ اس سال6 ارب کرینگے پیسکوکوصوبہ کے کنٹرول میں لینے کامعاملہ فوری طورپر نہیں ہوناچاہیے اس کاصوبہ میں خسارہ 65 ارب کاہے جو قابل برداشت نہیںہزارہ ،سوات کیلئے الگ کمپنی اورباقی صوبہ الگ کمپنی کے قیام پر غورہورہاہے محکمہ انرجی نے اس پر تحفظات کااظہار کیاہے۔

متعلقہ خبریں