Daily Mashriq


آرمی چیف کا صائب مشورہ

آرمی چیف کا صائب مشورہ

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند کر کے اور دوسروں پر الزام تراشی سے دہشت گردوں کو شکست نہیں دی جاسکتی۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں قومی سلامتی اور وار کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خطے کے چند ممالک الزام تراشیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔افغان حکمرانوں کا اپنے داخلی مسائل کے حل پر خود توجہ کی بجائے دوسروں پر انگشت نمائی وہ المیہ ہے جو از خود افغانستان میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وگرنہ دنیا کے پچپن سے زائد ممالک کی فوج کی موجودگی اور عملی فوجی تعاون کے برسوں حصول کے باوجود کسی ملک میں امن قائم نہ ہونا دوراز کار معاملہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دوسرے سے مذہبی' علاقائی و ثقافتی اور کئی دیگر لحاظ سے مماثل ممالک قدرتی طور پر ایک دوسرے سے اس قدر پیوست ہیں کہ دونوں ممالک کے حالات کے ایک دوسرے پر اثرات کو سعی بسیار کے باوجود بھی روکنا ممکن نہیں۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد افغانستان کی آدھی آبادی پاکستان میں مقیم رہی اور اب بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔یہ ایک دکھ دینے والی حقیقت ہے کہ چالیس سال کی میزبانی کے باوجود بھی افغانوں کا ذہن تبدیل ہونا تو در کنار وہ اس امر پر تشکر کے جذبات کا اظہار کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان اور پاکستانی ان کی چار دہائیوں سے میزبانی کر رہے ہیں۔ لیکن بہر حال پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے والے اور تشکر و ممنونیت کا اظہار کرنے والے افغانوں کی موجودگی سے انکار بھی ممکن نہیں۔ شاید موخر الذکر افغانوں ہی کی بدولت دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے باوجود بھی تعلقات موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال سے قطع نظر افغان حکمران اپنے بل بوتے پر افغانستان میں امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ضرور ایسا کریں مگر اپنے داخلی عدم استحکام کے تحفظ میں بد ترین ناکامی کا الزام پاکستان کو تو نہ دیں۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے افغانستان کو جو مشورہ دیا ہے اگر کابل اس پر عمل کرے تو اسے پاکستان پر انگشت نمائی کی ضرورت ہی نہ پڑے گی۔ کابل کو اگر افغان طالبان سے بات چیت سے مشکلات ہیں اور وہ حقیقی معنوں میں مذاکرات کا خواہاں ہے تو پاکستان اس میں اب بھی کردار ادا کرسکتا ہے مگر اس کے لئے مری مذاکرات کے اپنے رویے پر افغانستان کو نظر ثانی کرنا ہوگی اور پاکستان کو مذاکرات میں اپنی سنجیدگی کا یقین دلانا ہوگا۔بہتر ہوگا کہ افغان حکمران دوسروں کودھمکیاں دینے کی بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دیں اور داخلی گروپوں سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کریں۔ہمیں مل کر اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی سے کن ممالک کا مفاد وابستہ ہے اور اس کی آڑ میں کون اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ یہ حقیقت کوئی ایسی پوشیدہ اور پیچیدہ نہیں کہ اس کو جانچنے کے لئے کسی بڑے فلسفے اور دانش کی ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملک ہی کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار سامنے آتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ادراک نہ کیاگیا تو خدا نخواستہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان معمول کے پڑوسیوں کے تعلقات بھی شاید نہ رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو جانب سے غلط فہمیوں کے ازالے اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو گوکہ مطعون کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حال ہی میں سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر افغانستان کو قائل کرنے کی سعی کی لیکن دوسری جانب سے درشت لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ دونوں ممالک جغرافیائی اور علاقائی طور پر ا س قدر پیوست ہیں کہ ایک دوسرے پر ان کا دار و مدار بڑھ جانا فطری امر ہے۔ افغانستان کو اس ضرورت اور اہمیت کا احساس ہوتے ہوئے بھی وہ مشکل فیصلے کرکے پاکستا ن پر انحصار کم سے کم کرنے کی سعی میں ہے۔ یہ اتنی بڑی غلطی ہے جس کا افغانستان کو بعد میں احساس ہوگا۔ اس نازک ترین موڑ پر افغانستان کو اس امر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ افغانستان میں موجود امریکہ اور اتحادی افواج پر انحصار اور بھروسہ کیا جائے یا پھر افغانستان کی داخلی قوتوں کو مضبوط اور یکجا کرکے بیرونی اثرات کا مقابلہ کیا جائے۔ افغانستان میں داخلی انتشار کے خاتمے کے لئے افغانستان کو ان تمام افغان قوتوں سے معاملات طے کرنے ہوں گے جس کے بعد ہی افغانستان کی حکومت اس پوزیشن میں آئے گی کہ وہ غیروں کی بیساکھیوں کو اتار پھینکے۔

متعلقہ خبریں